ملک کے 5 بڑے ہیں، ان کے درمیان اعتماد بڑھانے کے لیے رابطہ ہوا تو صورتحال بہتر سمت میں آگے بڑھ سکتی ہے، رانا ثنا اللہ
وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ کی رائے
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ ملک کے 5 بڑے رہنماؤں کے درمیان اعتماد بڑھانے کیلئے رابطہ ہوا تو صورتحال بہتر سمت میں آگے بڑھ سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اتحاد تنظیمات مدارس اور حکومت کا 2019 کا معاہدہ سامنے آگیا
معاشی استحکام کی امید
رانا ثنا اللہ نے جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح 2025 میں اچھی خبریں آئیں، امید ہے 2026 مزید معاشی استحکام کا سال ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: خواب ٹوٹنے پر ماں نے اپنی سگی بیٹی کو قتل کر دیا، افسوسناک انکشاف
سوشل میڈیا کی مہمات
جن سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے اداروں کے خلاف مہم چلائی جاتی ہے، ان کو بند کیا جانا چاہیے۔ پی ٹی آئی قیادت یہ کہہ کر جان نہیں چھڑاسکتی کہ ان اکاؤنٹس پر ان کا کوئی کنٹرول اور تعلق نہیں۔
پی ٹی آئی قیادت کو ان اکاؤنٹس سے اظہار لاتعلقی اختیار کر کے بند کرنا چاہیے، اگر ان اکاؤنٹس سے صرف پروپیگنڈا ہی کرنا ہے تو مخالف سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں کے خلاف کریں۔
یہ بھی پڑھیں: تابکاری مواد کی برآمدگی کے واقعات پر انڈین حکومت کی تشویش: عالمی سطح پر انڈیا کی بدنامی کا خدشہ
پی ٹی آئی کی اپیل اور احتجاج
پی ٹی آئی کی 8 فروری کی اپیل ناکام ہوگی، پی ٹی آئی پہیہ جام نہیں کر پائے گی اور اس کے مزید نقصانات ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: عبیرہ ضیاء کی اپنے والد کے ہمراہ پارلیمانی سیکرٹری برائے ماحولیات کنول لیاقت سے ملاقات، ماحولیاتی چیلنجز پر تبادلہ خیال
احتجاج کا امکان
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اگر 8 فروری کو پہیہ جام کرنے کی کوشش کی گئی تو ان کو ایسا دھر لیا جائے گا کہ یہ پھر گلہ کریں گے۔ پی ٹی آئی کو احتجاج کی کال واپس لے لینی چاہیے۔
اعتماد سازی کے اقدامات
ملک کے 5 بڑے رہنماؤں کے درمیان اعتماد بڑھانے کے لیے اقدامات ہونے چاہئیں اور رابطہ ہونا چاہیے۔ اگر یہ رابطہ ہوا تو صورتحال بہتر سمت میں آگے بڑھ سکتی ہے۔
ان 5 بڑوں میں نوازشریف، شہبازشریف، آصف زرداری، بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ایک اور شخصیت شامل ہیں۔ جب تک ان 5 شخصیات کے درمیان اعتماد سازی کے لیے اقدامات نہیں ہوں گے، تب تک بریک تھرو نہیں ہوگا۔ میرے اور عامر ڈوگر کے رابطوں سے بریک تھرو نہیں ہوگا۔








