چین اور تائیوان کو ایک ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا، چینی صدر
چینی صدر کا تائیوان سے متعلق اہم بیان
بیجنگ(ڈیلی پاکستان آن لائن)چینی صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ چین اور تائیوان کو ایک ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا، آبنائے تائیوان کے دونوں جانب رہنے والے چینی باشندوں کا ایک دوسرے کے ساتھ خون اور رشتہ داری کا تعلق ہے۔ نئے سال کے موقع پر خطاب میں چینی صدر نے کہا کہ چین سے تائیوان کا دوبارہ الحاق ناگزیر ہے اور اسے روکا نہیں جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: زہران ممدانی، رمیز راجہ سے متاثر، اپنی تقریر میں کمنٹیٹر کی لائنز دہرا دیں
فوجی مشقوں کے بعد کا بیان
شی جن پنگ کا یہ بیان چین کی جانب سے تائیوان کے قریب 2 روزہ فوجی مشقوں کے خاتمے کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے۔ ان مشقوں کا انعقاد امریکا کی جانب سے تائیوان کو 11 ارب ڈالر سے زائد کے ریکارڈ مالیت کے ہتھیاروں کی فروخت کی منظوری کے چند دن بعد کیا گیا۔ شی جن پنگ نے اپنے نئے سال کے پیغام میں کہا کہ آبنائے تائیوان کے دونوں طرف بسنے والے ہم چینیوں کے درمیان خون کا رشتہ اور قرابت داری ہے، مادر وطن کا دوبارہ ملاپ وقت کی پکار ہے جسے روکا نہیں جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: تجارتی خسارہ بڑھنے کے باوجود اپریل میں ملکی کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ریکارڈ
عالمی امن اور ترقی کے لیے چین کا عزم
چینی صدر کا کہنا تھا کہ چین ہمیشہ تاریخ کی درست سمت پر کھڑا رہا ہے اور وہ عالمی امن و ترقی کو آگے بڑھانے اور انسانیت کے مشترکہ مستقبل کے لیے تمام ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔ چینی صدر نے ہر سال 25 اکتوبر کو تائیوان ریکوری ڈے منانے کے اعلان کو بھی سراہا، جو دوسری عالمی جنگ کے اختتام پر تائیوان پر جاپان کے قبضے کے خاتمے کی یادگار کے طور پر منایا جائے گا۔
چین کی تکنیکی ترقی
شی جن پنگ نے چین کی مصنوعی ذہانت اور خلائی صنعت میں پیشرفت کی بھی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ بڑے اے آئی ماڈلز میں برتری کی دوڑ جاری ہے، چین نے چِپس کی تحقیق و ترقی میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ یہ سب چین کو دنیا کی تیز ترین ترقی کرنے والی معیشتوں میں شامل کر چکا ہے۔








