سپریم کورٹ نے عمر قید کاٹنے والے ملزم کو قتل کے مقدمے سے بری کردیا
سپریم کورٹ کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ نے قتل کے الزام میں عمر قید کاٹنے والے ملزم محمد صدیق کو مقدمے سے بری کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت کا صوبے کی سرزمین سے اسلحہ اور اسمگلنگ کلچر کے مکمل خاتمے کا اعلان
لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق، سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے محمد صدیق کو فوری روانہ کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کے فیصلوں کو شواہد کے غلط جائزے پر مبنی قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹیبلشمنٹ اور ٹاؤٹ کی “لوّ سٹوری” میں اتار چڑھاؤ ضرور آتے ہیں جس سے ۔ ۔ ۔” اقرارالحسن بھی میدان میں آگئیں
استغاثہ کا مقدمہ ناقابل اعتماد
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ استغاثہ کا مقدمہ شکوک و شبہات سے بھرا ہوا ہے، مبینہ عینی شاہدین کی موجودگی موقع پر مشکوک ہے۔ گواہوں کے بیانات میں تضادات اور غیر فطری پہلو پائے جاتے ہیں، ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر استغاثہ کے لیے نقصان دہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی ہندوؤں کو جاری کردہ ویزے منسوخ نہیں ہوں گے، بھارت
تاخیر نے استغاثہ کو کمزور کیا
عدالت نے کہا کہ پوسٹ مارٹم میں غیر وضاحتی تاخیر نے بھی استغاثہ کے مؤقف کو مزید کمزور کیا، استغاثہ قتل کا محرک ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ برآمدگی اور فرانزک شواہد کی مؤثریت بھی ناقابل اعتماد شہادت کے بغیر نہیں رکھی جا سکتی۔ محض ایک معقول شک بھی ملزم کو فائدہ دینے کے لیے کافی ہوتا ہے، اور شک کا فائدہ دینا ملزم کا قانونی حق ہے۔
سزا کی تاریخ
واضح رہے کہ ٹرائل کورٹ نے محمد صدیق کو دفعہ 302 (b) کے تحت سزائے موت اور پانچ لاکھ روپے ہرجانہ کی سزا سنائی تھی۔ لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ نے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا تھا。








