بلاسفیمی کیسز کے پیچھے چھپی عالمی سازش
معاشرتی چیلنجز: سائبر کرائم کی حقیقت
گزشتہ روز نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے لاہور آفس میں گزارے گئے چند گھنٹے شاید زندگی کے ان مشکل ترین لمحات میں شمار ہوں گے جنہوں نے سوچ، احساس اور یقین، تینوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔۔۔ سینئر کرائم رپورٹر محمد عمیر کے ہمراہ ایک ایسے ملزم کے سامنے بیٹھنا، جو بلاسفیمی جیسے سنگین اور حساس جرم میں زیر حراست ہے، محض ایک صحافتی تجربہ نہیں تھا بلکہ یہ ہماری اجتماعی زبوں حالی کا آئینہ تھا۔۔۔
یہ بھی پڑھیں: ترکیہ کا فوجی کارگو طیارہ جارجیا میں گرکر تباہ ہوگیا
ڈیجیٹل دنیا کا سیاہ پہلو
ملزم کے موبائل فون سے برآمد ہونے والا ضخیم ڈیٹا، مسینجر چیٹس اور اس کے اپنے منہ سے نکلنے والے ہولناک انکشافات نے اس حقیقت کو بے نقاب کر دیا کہ ہم جس خطرے کا سامنا کر رہے ہیں وہ محض نظری یا فرضی نہیں بلکہ پوری قوت کے ساتھ ہماری نسلوں پر حملہ آور ہے۔۔۔ سائبر دنیا جس تیزی سے ہماری روزمرہ زندگی میں داخل ہوئی ہے، اسی تیزی سے اس کے سیاہ اور خوفناک پہلو بھی ہمارے سامنے آ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پی آئی اے کو 13 سال پرانے مقدمے میں بڑی کامیابی، 3 ارب 9 کروڑ موصول
فحاشی اور اخلاقی زوال
آج کا سب سے بڑا محاذ بندوق یا بارود نہیں بلکہ سمارٹ فون اور کمپیوٹر کی سکرین ہے، جہاں ایک کلک انسان کو کہاں سے کہاں پہنچا دیتی ہے۔۔۔ انسانی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ہر دور میں فتنہ اسی راستے سے داخل ہوا جس راستے سے لوگوں نے خطرہ محسوس نہیں کیا۔۔۔ آج یہی فتنہ آزادیِ اظہار، روشن خیالی اور ڈیجیٹل حقوق کے لبادے میں ہمارے گھروں کے اندر، بچوں کے کمروں تک پہنچ چکا ہے۔۔۔
یہ بھی پڑھیں: والدین کی بے لوث محبت میری زندگی کا انمول اثاثہ ہے: وزیر اعلیٰ پنجاب
ملزم کی کہانی
این سی سی آئی اے کی زیر حراست یہ ملزم، جس کی عمر پینتیس برس اور پاکپتن کا رہائشی ہے، بظاہر وہ کسی بھی لحاظ سے ایک عام یا جاہل شخص نہیں، وہ نہ صرف پڑھا لکھا بلکہ حافظ قرآن ہے۔۔۔ مگر یہی شخص 2011 سے ایک ایسے گھناونے دھندے میں ملوث تھا جسے بیان کرتے ہوئے زبان لڑکھڑا جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دبئی سپورٹس کونسل میں عرب کلاسک دبئی-2024 بیس بال ٹورنامنٹ کی افتتاحی تقریب
ماں، بہن اور بھانجی کی برہنہ ویڈیوز
سب سے زیادہ لرزا دینے والی بات یہ تھی کہ وہ اپنی سگی ماں، بہن اور بھانجی کی برہنہ ویڈیوز بنانے اور ان کے ساتھ مباشرت کو بھی معمولی سمجھتا تھا۔۔۔ یہ سب کچھ بتاتے ہوئے اس کے چہرے پر رتی بھر شرمندگی یا ندامت کا کوئی اثر نظر نہیں آیا۔۔۔
یہ بھی پڑھیں: اپنی چھت، اپنا گھر“ پراجیکٹ تیزی سے کامیابی کی طرف گامزن، چند ماہ میں 50 ہزار سے زائد گھروں کی تعمیر کا ریکارڈ قائم
سماجی ذمہ داری
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ایک انتہائی منظم اور مسلسل آگاہی مہم چلائیں۔۔۔ یہ ایک اجتماعی خطرہ ہے جس کا مقابلہ بھی اجتماعی شعور سے ہی ممکن ہے۔۔۔ تعلیمی اداروں میں باقاعدہ آگاہی پروگرام ہونے چاہئیں جہاں طلبہ کو یہ بتایا جائے کہ سائبر دنیا میں کس طرح ذہنی غلامی مسلط کی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شکار پور، ڈاکوؤں نے اینٹیں خریدنے کے بہانے بلاکر بھٹہ مزدور اور ڈرائیور کو اغوا کرلیا
والدین کی اہمیت
والدین کے لیے بھی یہ لمحہ فکریہ ہے کہ وہ دوستی کے نام پر مکمل آزادی دینے اور سختی کے نام پر مکمل جبر کے درمیان توازن قائم کریں۔۔۔ بچوں سے بات کریں، ان کے سوالات سنیں، ان کے دوستوں اور آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھیں مگر جاسوسی کے انداز میں نہیں بلکہ اعتماد اور رہنمائی کے جذبے سے۔
یہ بھی پڑھیں: ہم حماس کو غیر مسلح کرنے نہیں جائیں گے، اس حوالے سے سول ملٹری قیادت میں بڑی وضاحت ہے، اسحاق ڈار
خطرات کا مقابلہ
یہ خوفناک جنگ کسی ایک ادارے یا ایک قانون سے نہیں جیتی جا سکتی۔۔۔ اگر ہم نے اپنی نئی نسل کو علم کے ساتھ ایمان، آزادی کے ساتھ ذمہ داری اور ٹیکنالوجی کے ساتھ اخلاق نہ سکھایا تو نقصان ناقابل تلافی ہو سکتا ہے۔
آخری خیالات
آخر میں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ مایوسی اس مسئلے کا حل نہیں۔۔۔ اگر فتنے ہیں تو ہدایت کے دروازے بھی کھلے ہیں۔۔۔ ہمیں اپنی نئی نسل کو صرف خطرات سے ڈرانا نہیں بلکہ انہیں متبادل راستہ بھی دکھانا ہے، ایمان، اخلاق، علم اور شعور کا راستہ۔








