بلاسفیمی کیسز کے پیچھے چھپی عالمی سازش

معاشرتی چیلنجز: سائبر کرائم کی حقیقت

گزشتہ روز نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے لاہور آفس میں گزارے گئے چند گھنٹے شاید زندگی کے ان مشکل ترین لمحات میں شمار ہوں گے جنہوں نے سوچ، احساس اور یقین، تینوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔۔۔ سینئر کرائم رپورٹر محمد عمیر کے ہمراہ ایک ایسے ملزم کے سامنے بیٹھنا، جو بلاسفیمی جیسے سنگین اور حساس جرم میں زیر حراست ہے، محض ایک صحافتی تجربہ نہیں تھا بلکہ یہ ہماری اجتماعی زبوں حالی کا آئینہ تھا۔۔۔

یہ بھی پڑھیں: وزیر خزانہ امریکہ روانہ

ڈیجیٹل دنیا کا سیاہ پہلو

ملزم کے موبائل فون سے برآمد ہونے والا ضخیم ڈیٹا، مسینجر چیٹس اور اس کے اپنے منہ سے نکلنے والے ہولناک انکشافات نے اس حقیقت کو بے نقاب کر دیا کہ ہم جس خطرے کا سامنا کر رہے ہیں وہ محض نظری یا فرضی نہیں بلکہ پوری قوت کے ساتھ ہماری نسلوں پر حملہ آور ہے۔۔۔ سائبر دنیا جس تیزی سے ہماری روزمرہ زندگی میں داخل ہوئی ہے، اسی تیزی سے اس کے سیاہ اور خوفناک پہلو بھی ہمارے سامنے آ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بیوی کی ناراضگی سے تنگ شوہر نے مشروب میں زہر ملاکر سسرال بھیج دیا، سسر جاں بحق

فحاشی اور اخلاقی زوال

آج کا سب سے بڑا محاذ بندوق یا بارود نہیں بلکہ سمارٹ فون اور کمپیوٹر کی سکرین ہے، جہاں ایک کلک انسان کو کہاں سے کہاں پہنچا دیتی ہے۔۔۔ انسانی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ہر دور میں فتنہ اسی راستے سے داخل ہوا جس راستے سے لوگوں نے خطرہ محسوس نہیں کیا۔۔۔ آج یہی فتنہ آزادیِ اظہار، روشن خیالی اور ڈیجیٹل حقوق کے لبادے میں ہمارے گھروں کے اندر، بچوں کے کمروں تک پہنچ چکا ہے۔۔۔

یہ بھی پڑھیں: انڈر 19 ایشیا کپ کے لیے پاکستان کے اسکواڈ کا اعلان

ملزم کی کہانی

این سی سی آئی اے کی زیر حراست یہ ملزم، جس کی عمر پینتیس برس اور پاکپتن کا رہائشی ہے، بظاہر وہ کسی بھی لحاظ سے ایک عام یا جاہل شخص نہیں، وہ نہ صرف پڑھا لکھا بلکہ حافظ قرآن ہے۔۔۔ مگر یہی شخص 2011 سے ایک ایسے گھناونے دھندے میں ملوث تھا جسے بیان کرتے ہوئے زبان لڑکھڑا جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: لیلۃ القدر کی تلاش، حرمین شریفین میں 15 ہزار سے زیادہ افراد اعتکاف میں بیٹھ گئے

ماں، بہن اور بھانجی کی برہنہ ویڈیوز

سب سے زیادہ لرزا دینے والی بات یہ تھی کہ وہ اپنی سگی ماں، بہن اور بھانجی کی برہنہ ویڈیوز بنانے اور ان کے ساتھ مباشرت کو بھی معمولی سمجھتا تھا۔۔۔ یہ سب کچھ بتاتے ہوئے اس کے چہرے پر رتی بھر شرمندگی یا ندامت کا کوئی اثر نظر نہیں آیا۔۔۔

یہ بھی پڑھیں: مرغی کی قیمت میں مزید اضافہ، لاہور میں 590 روپے تک فروخت ہونے لگی

سماجی ذمہ داری

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ایک انتہائی منظم اور مسلسل آگاہی مہم چلائیں۔۔۔ یہ ایک اجتماعی خطرہ ہے جس کا مقابلہ بھی اجتماعی شعور سے ہی ممکن ہے۔۔۔ تعلیمی اداروں میں باقاعدہ آگاہی پروگرام ہونے چاہئیں جہاں طلبہ کو یہ بتایا جائے کہ سائبر دنیا میں کس طرح ذہنی غلامی مسلط کی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی انتخابات میں ’جیری مینڈرنگ‘ کیا ہے؟

والدین کی اہمیت

والدین کے لیے بھی یہ لمحہ فکریہ ہے کہ وہ دوستی کے نام پر مکمل آزادی دینے اور سختی کے نام پر مکمل جبر کے درمیان توازن قائم کریں۔۔۔ بچوں سے بات کریں، ان کے سوالات سنیں، ان کے دوستوں اور آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھیں مگر جاسوسی کے انداز میں نہیں بلکہ اعتماد اور رہنمائی کے جذبے سے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی میڈیا ابھی تک بالی ووڈ سے باہرنہیں آیا، پاک بھارت ٹاکرے سے قبل شاہد آفریدی نے بھارتی میڈیاکو آڑے ہاتھوں لے لیا

خطرات کا مقابلہ

یہ خوفناک جنگ کسی ایک ادارے یا ایک قانون سے نہیں جیتی جا سکتی۔۔۔ اگر ہم نے اپنی نئی نسل کو علم کے ساتھ ایمان، آزادی کے ساتھ ذمہ داری اور ٹیکنالوجی کے ساتھ اخلاق نہ سکھایا تو نقصان ناقابل تلافی ہو سکتا ہے۔

آخری خیالات

آخر میں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ مایوسی اس مسئلے کا حل نہیں۔۔۔ اگر فتنے ہیں تو ہدایت کے دروازے بھی کھلے ہیں۔۔۔ ہمیں اپنی نئی نسل کو صرف خطرات سے ڈرانا نہیں بلکہ انہیں متبادل راستہ بھی دکھانا ہے، ایمان، اخلاق، علم اور شعور کا راستہ۔

Categories: بلاگ

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...