لدھیانہ جانے کے بعد کیا پتہ چلا: بڑی بڑی کارآمد مشینیں غائب، ناواقفیت کا سامنا، سامان سستے داموں فروخت کر کے روانہ ہوئے

مصنف: ع غ جانباز

وفات کا حادثہ

قسط: 17
اِس دوران ان کی اچانک جو وفات ہوئی تو ایک کہرام مچ گیا۔ اُن کے جَسدِ خاکی کو لائے اور آہوں اور سِسکیوں میں اُن کے کفن دفن کا بندوبست کر کے، بس پھر افسوس کے لیے آنے والوں کیلئے صفیں بچھا کر بیٹھ رہے۔ چالیسیواں کا ختم دلایا بعد میں جو اُس کارخانہ کا لدھیانہ میں جاکر پتہ کیا تو سبھی جانے والے ہاتھ ملتے رہ گئے کہ وہاں سے سب بڑی بڑی کارآمد مشینیں غائب کر دی گئیں تھیں۔ نا واقفیت آڑے آئی اور اس سلسلے میں ”مُتعلقہ“ لوگوں کا کچھ نہ بگاڑ سکے کہ وہاں اپنی جان پہچان کے لوگ تھے ہی نہیں۔ جو تھوڑا بہت سامان بچا تھا اونے پونے داموں فروخت کر کے واپس آگئے.

والد کی نوکری

میرے والد صاحب چوہدری ہاشم علی اُس وقت مڈل کے بعد ”نارمل“ کلاس پاس کر کے وہاں ایک پرائمری سکول میں بمشاہرہ 18 روپے ماہوار پر ملازمت کرتے تھے۔ سبھی رشتہ داروں نے یہی مناسب جانا کہ بڑے بھائی کی بیوہ عمر بی بی کا نکاح اُن سے کردیا جائے۔ بہرحال وقت کے لگائے گھاؤ کو کسی طور تو بھرنا ہوتا ہے۔ ہم نے ساری عمر اپنی امیّ کو شاید اِس صدمے کے طفیل ایک خاموش طبع اپنے کام سے کام رکھنے والی ہمیشہ گھر کے کام کاج میں جُتی ہوئی خاتون دیکھی۔ گو کہ ہم نے اُن کو والد صاحب سے زندگی میں کبھی کسی بھی بات پر جھگڑا کرتے نہیں دیکھا لیکن یہ ضرورسُنا کہ وہ کبھی کبھار کہا کرتی تھیں کہ یہ یعنی ہمارے والد صاحب اُن کے پہلے شوہر کے ”پاسنگ“ بھی نہیں ہیں۔

دادا جان کی دولت

”دادا جان غلام محمد“ کی کما کر لائی ہوئی دولت کے باقیات اب بھی گھر میں موجود تھے۔ والد صاحب بتایا کرتے تھے کہ جب وہ کھانے کے بعد ”گُڑ“ کھانے کی طلب پر گھر میں پڑے مٹی کے بڑے بڑے مٹکوں جن میں زرعی اجناس رکھّی جاتی تھیں اکثر ہاتھ ڈالتے تو کبھی کبھی ایک بڑے مٹکے میں ہاتھ چلا جاتا جو چاندی کے ملکہ برطانیہ کی تصویر والے روپیوں سے بھرا ہوا تھا۔ اَب اِس بچی کھچی دولت کا کیا بنا تو جیسا کہ میں پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ والد صاحب پرائمری سکول میں بطور ٹیچر بمشاہرہ 18روپے ماہوار کام کر رہے تھے اور ساتھ ساتھ حکمت کی تعلیم میں بھی دَسترس حاصل کر چکے تھے۔

حکمت کا کاروبار

گاؤں کے لوگ ”دوا دارو“ کے لیے آنے لگے تھے کہ اِسی دوران والد صاحب سکول میں جو توجہ کم دینے لگے تو اُن کو سکول کی نوکری سے فارغ کردیا گیا۔ اب والد صاحب ہیں کہ گھر پر براجمان ہیں اور لوگ حکیم صاحب کے پاس آرہے ہیں اور مفت دوا دارو چل ر ہا ہے۔ اُن کی والدہ / میری دادی، جو دادا جان کی وفات کے بعد قدرے سخت مزاج ہوگئی تھیں، کہ اُن پر گھر کا اور باہر زرعی زمین کی نگہداشت کا بھی بوجھ پڑ گیا تھا، وہ والد صاحب کے اِس مفت کی حکمت کے کاروبار سے تنگ آکر انہیں کُوسنے لگیں کہ نوکری بھی چھوٹ گئی، اس طرح گھر میں بیٹھے اپنی ہونے والی اولاد کی پرورش کس طرح کر پاؤ گے، کوئی ڈھنگ کا کام کرو.

نئے آغاز کا عزم

والد صاحب کہنے لگے کہ آپ نے کافی ساری دولت گھر میں رکھ چھوڑی ہے اگر آپ مناسب سمجھیں تو میں شہر میں ایک دواخانہ بناتا ہوں تو آپ دیکھیں گی کہ پھر کاروبار چل نکلنے پر دولت کی ریل پیل ہوجائے گی۔ دادی جان گو قدرے سخت طبیعت کی تھیں لیکن پھر بھی اپنے اکلوتے بیٹے کے لیے نرم گوشہ لیے ہوئے تھیں۔ راضی ہوگئیں چنانچہ والد صاحب نے ”تحصیل نواں شہر“ ضلع جالندھر انڈیا میں ”دوآبہ سنیاسی کمپنی“ کے نام سے بڑے ہال میں دواخانہ بنا لیا۔

دواخانہ کا قیام

وہاں ایک طرف ”Raised“ پلیٹ فارم پر حکیم صاحب اور آنے والے بیماروں کے لیے کرسیاں ڈلوا دیں اور دواخانہ کی دیواریں دیکھتے ہی دیکھتے دواؤں سے بھرے’’جار‘‘دیواروں میں لگی شیلفوں کی زینت بن گئے اور دواخانہ چند ہی ماہ میں چل نکل گیا۔(جاری ہے)

نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...