بات ختم ہی ہوئی تھی کہ ایک ایم پی اے آ گئے، ان کی گفتگو میں درخواست تھی اور دھمکی بھی،ڈسپلن کا معاملہ ہے کمپرو مائز یا سفارش نہیں مانی جا سکتی۔

تفصیلات

مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 398

یہ بھی پڑھیں: حکومتی اعتراض مسترد، پی ٹی آئی کا اپوزیشن لیڈر کے لیے محمود اچکزئی کا نام برقرار رکھنے کا فیصلہ

مکالمہ کا آغاز

میں نے خورشید صاحب سے پوچھا؛ "کمبوہ کو نوکری سے نکالنے کے لئے کسی اور ثبوت کی ضرورت تو نہیں؟" وہ بولے؛ "سر! اتھارٹی نے خود پکڑا ہے۔ مزید کسی ثبوت کی یہاں تک کہ انکوائری کی بھی ضرورت نہیں، سیدھا شو کا وز ہوگا۔"

یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے بھارتی حملے سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو آگاہ کر دیا

ایک اہم فیصلہ

دن کے 11 بجے تھے۔ خالد کو فون کرکے کہا؛ "ان دونوں صاحبان کو معطل کرکے اور میرے دفتر پہنچنے تک معطلی آرڈرز ٹیبل پر ہوں۔" جیسا کہ اوپر ذکر ہو چکا ہے، وہ کمزور افسر تھا جو ہمیشہ کمپرومائز کی تلاش میں رہتا تھا۔ اس نے دبے الفاظ میں ان کی زور دار سفارش کی۔ "سر! بہت تابعدار ہیں یہ دونوں۔" میں نے اسے اتنا ہی کہا؛ "پھر خود معطلی کے لئے تیار رہو۔"

یہ بھی پڑھیں: ملیر جیل سے 213 قیدی فرار ہوئے، 78 کو گرفتار کرلیا: آئی جی سندھ

خطرہ کی گھنٹی

فون بند ہی کیا تھا کہ خالد کی پی اے رخسانہ کا فون آ گیا۔ بولی؛ "سر! رشید باجوہ دفتر آ گیا ہے اور خالد اسے معطل کرنے میں پس و پیش کر رہا ہے۔" میں کمشنر کو ساری صورت حال سے آگاہ کرکے خالد کے دفتر پہنچا تو وہ دفتر کے باہر میرا منتظر تھا۔ اس کے ساتھ ایک بڑی مونچھوں والا "توانا بدن" کلف لگی شلوار قمیض میں ایک شخص بھی تھا۔ خورشید صاحب نے میرے کان میں کہا؛ "سر! یہ رشید باجوہ ہے۔" وہ مجھے ملتے وقت زمین پر ہی جھک گیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور سعودی عرب کا معاہدہ بظاہر ماضی کے دفاعی معاہدوں کی ہی توسیع دکھائی دیتا ہے، تجزیہ کار فاران جعفری

معطلی کے آرڈرز

میں نے خالد سے پوچھا؛ "معطلی آرڈرز کہاں ہیں؟" وہ کہنے لگا؛ "سر! میری بات سن لیں۔" میں اس کے دفتر آیا، اس نے اس بار باجوہ کی پر زور سفارش کی۔ اسی دوران اس کے فون کی گھنٹی بجی۔ شاید کسی سیاسی شخصیت کا فون تھا۔ میں خالد کی بات تو سن سکتا تھا وہ کہہ رہا تھا؛ "سر! میں نے نہیں، دونوں کو ڈائریکٹر صاحب نے معطل کیا ہے۔ آپ ان سے بات کر لیں۔" اس نے فون میری طرف بڑھایا، میں نے ہاتھ کے اشارے سے اسے منع کر دیا۔ اس نے معطلی کے آرڈرز منگوائے، دستخط کیے اور مجھے دیے جو میں نے کمشنر کو واٹس ایپ کر دیے۔ (واٹس ایپ آنے سے سرکاری کمیونیکیشن تیز اور آسان ہو گئی تھی۔)

یہ بھی پڑھیں: پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ کے ورکرز ایک دوسرے کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں: گورنر پنجاب

مشکل وقت میں فیصلہ سازی

اسی اثناء میں خورشید صاحب آئے اور کہنے لگے؛ "سر! احمد کمبوہ آیا ہے۔ بڑی مشکل سے پاؤں چھڑوا کر آیا ہوں۔ اس کی بات سن لیں وہ ملنا چاہ رہا ہے۔" جواب دیا؛ "گھنٹے بعد اسے بلائیں۔ تب تک اس کی چارج شیٹ تیار کریں۔"
اللہ مشکل نہ ڈالے;

یہ بھی پڑھیں: سوشل میڈیا پر کونسی جماعت مؤثر ہے؟ انسٹیٹیوٹ فار پبلک اوپینین ریسرچ کی سروے رپورٹ آ گئی

دھمکی اور درخواستیں

یہ بات ختم ہی ہوئی تھی کہ ایک ایم پی اے آ گئے۔ میرے ذہن سے اُن کا نام نکل گیا ہے۔ ان کی گفتگو میں درخواست بھی تھی اور دھمکی بھی۔ میں نے جواب دیا؛ "چوہدری صاحب! آپ کی سفارش میں نے نوٹ کر لی ہے۔ سر دست آپ کی درخواست پر غور نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ڈسپلن کا معاملہ ہے اور اس پر کمپرومائز یا سفارش نہیں مانی جا سکتی۔ سفارش ماننے کا مطلب یہ ہوا کہ آئندہ ڈسپلن کی خلاف ورزی کو مذاق سمجھا جائے گا اور میرے دفتر کی 'ویلیو زیرو' ہو جائے گی۔" وہ بولے؛ "جناب! واسطے وی مشکل ہو سی۔ توسی مئیں کو جاندے نہئیں۔" میں نے جواب دیا؛ "جناب! اللہ مشکل نہ پاوے بندے نے کی پانی اے۔ باقی مینوں اس تو علاوہ جانن دی ضرورت وی نئیں کہ جناب ایم پی اے ہن۔ جناب وی مئیں جاندے نئیں۔ توسی کہنا چاہ رہے او کہ ڈائریکٹر سیکرٹری دے تھلے لگا رئے۔ ول اے گال وی سن ونجو کہ اللہ نہ چائے تے جناب کولوں میرا تبادلہ وہی نئیں تھی سکدا۔" میری سرائیکی یہاں ختم ہو گئی۔ اردو میں کہا؛ "جناب کو اندازہ ہی نہیں ڈائریکٹر ہوتا کیا ہے؟"

یہ بھی پڑھیں: بھارتی ریاست گجرات میں پل گرنے سے متعدد گاڑیاں دریا میں جا گریں، 9 افراد ہلاک

نتیجہ

اس سے پہلے کہ خالد بولتا، تب تک ایم پی اے اپنی چائے کی پیالی چھوڑ کے جا چکے تھے۔ اُن کی انا کو شاید پہلی بار ٹھیس لگی ہو گی۔ خالد کہنے لگا؛ "سر! اچھا نہیں ہوا۔" میں نے کہا؛ "اللہ پر بھروسہ کرنا سیکھو بالکل اسی طرح جیسے امریکن کرنسی پر لکھا ہوتا ہے 'In God we trust' جبکہ ہماری کرنسی پر لکھا ہے 'رزق حلال عین عبادت ہے۔' دونوں فقروں کا مطلب جس دن سمجھ آ گیا، نوکری کا مزا آنے لگے گا۔"
(جاری ہے)

نوٹ

یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...