اگر کوئی تقریب یا میٹنگ ہو تو فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ضرور ملاقات کروں گا، محمد سہیل آفریدی
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کا ارادہ
پشاور (ویب ڈیسک) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان نے اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کے حوالے سے مجھ سے کچھ نہیں کہا ہے۔ تاہم، صوبائی معاملات پر اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت اور تعلقات بہتر کرنے کے لیے میں تیار ہوں۔ وزیراعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ اگر کوئی تقریب یا میٹنگ ہوئی تو میں فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ضرور ملوں گا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں سیاسی استحکام اور فوجی تقرریاں: حقیقت، پروپیگنڈا
سینئر صحافیوں کے ساتھ ملاقات
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے پشاور میں سینئر صحافیوں کے ساتھ فرداً فرداً ملاقات کی اور غیررسمی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کے حوالے سے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے مجھے کچھ نہیں کہا۔ بات چیت کا ٹاسک محمود اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کے حوالے کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: قومی مسائل کا حل اجتماعی سوچ، مکالمے اور مشترکہ تجربات کے ذریعے ہی ممکن ہے : چیئر مین سینیٹ
صوبائی معاملات پر بات چیت
انہوں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ صوبائی معاملات پر بات چیت اور تعلقات بہتر کرنے کے لیے میں تیار ہوں، لیکن بانی پی ٹی آئی سے میری ملاقات نہیں کرائی جا رہی ہے۔ ملک میں آئین و قانون کی بالادستی ہونی چاہیے اور ڈرون حملے بند ہونے چاہئیں۔ حکومت اسٹیبلشمنٹ سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایسی پالیسی بنانی چاہیے جو عوامی مفادات کے مطابق ہو۔
یہ بھی پڑھیں: سود کے بغیر آسان قسطوں پر 150سی سی موٹر سائیکل حاصل کریں
پشاور کی ترقی اور وفاقی حکومت کی ذمہ داریاں
ہم نے پشاور کو ترقی دینا ہے لیکن لاہور کی طرح نہیں جہاں جلسے اور جلوس کرنے پر پابندی ہے۔ وفاق نے ضم اضلاع کے لیے اے آئی پی کے تحت 700 ارب روپے بقایاجات ابھی تک ادا نہیں کیے ہیں۔ وفاقی حکومت نے اے آئی پی کے تحت برسوں میں صرف 168 ارب روپے دیے ہیں جبکہ بجلی کے خالص منافع اور دیگر بقایاجات کی مد میں وفاقی حکومت نے ہمارے 4 ہزار ارب روپے سے زیادہ دینے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ہمیں قیادت سے نہیں ملنے دیا جارہا، بیرسٹر گوہر، تحریک انصاف کا قومی اسمبلی اجلاس کا بائیکاٹ
بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے سازگار ماحول
وزیراعلیٰ نے کہا کہ بانی چیئرمین پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے بات چیت کے حالات اور ماحول سازگار ہونا چاہیے۔ پی ٹی آئی کی قیادت کو مضبوطی سے میدان میں اترنا ہوگا۔ بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کا باہر نکلنا جائز ہے، وہ اپنے بھائی کی رہائی کے لیے کوشش کر رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: Your Thoughts Are Yours Alone: Unchangeable and Unstealable
لاہور اور کراچی کے دورے کا مقصد
انہوں نے کہا کہ لاہور کا دورہ عوام میں بیداری کی لہر پیدا کرنے کے لیے کیا ہے۔ کراچی جانے کا مقصد بھی یہی ہے کہ عوام بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے متحرک ہوں۔ بانی پی ٹی آئی صرف خیبرپختونخوا نہیں بلکہ پورے ملک کے لیڈر ہیں۔ میری حکومت کی کرپشن کے حوالے سے زیرو ٹالرنس پالیسی ہے جس کے اصول شفافیت، میرٹ، ترقی اور کرپشن کا خاتمہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اس کا مسکراتا چہرہ اور بولتی آنکھیں: ایک دل کو چھو جانے والی ملاقات
ترقیاتی عمل اور امن و امان کی صورت حال
سہیل آفریدی نے کہا کہ مرکز سے ملنے والا پیسہ ترتیب سے ضم اضلاع میں خرچ کیا جائے گا۔ ترقی کا عمل شروع ہونے سے ضم اضلاع میں عسکریت پسندی کا خاتمہ ہوجائے گا۔ امن و امان کی صورت حال میری حکومت کے لیے اصل چیلنج ہے جس پر قابو پانے کے لیے ہم کوشاں ہیں۔
صوبائی حکومت کی ترجیحات
صوبائی حکومت کی ترجیحات سے آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں خود بھی کام کرتا ہوں اور اپنی ٹیم سے بھی کام درکار ہے۔ ہم نے عوام میں تبدیلی لانے کے لیے کام کرکے دکھانا ہے۔








