میزان بیورجز کو پیسی کی انرجی ڈرنک ’سٹنگ‘ کا ڈیزائن کاپی کرنا بہت مہنگا پڑ گیا
پاکستان کے کمپی ٹیشن کمیشن کا فیصلہ
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کے کمپی ٹیشن کمیشن نے پیپسی کی مشہور انرجی ڈرنگ ’سٹنگ‘ کی پیکجنگ اور برانڈ کی نقل کرنے پر میزان بیوریجز کو 15 کروڑ روپے جرمانہ کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ملک کے چند مقامات پر تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی توقع
بزنس ریکارڈر کی رپورٹ
بزنس ریکارڈر نے کمپیٹیشن کمیشن کے حوالے سے بتایا کہ میزان کے پروڈکٹ ’اسٹورم‘ نے ’اسٹنگ‘ کے مجموعی رنگ، بوتل کے ڈیزائن، لکھائی اور دیگر برانڈنگ عناصر کی نقول تیار کیں، جس کی وجہ سے مارکیٹ میں صارفین کے لیے کنفیوژن پیدا ہونے کا خدشہ تھا۔
یہ بھی پڑھیں: زمین پھٹی نہ کسی دھماکہ خیز مواد کے شواہد ملے، نئی دہلی دھماکے نے کئی ’’ جھوٹ ‘‘ بے نقاب کر دیئے
قانونی تاریخ
کمیشن نے اپنے حکم میں کہا کہ اس طرح کا عمل ”پیرسائٹک کاپینگ“ کے زمرے میں آتا ہے اور یہ پاکستان کے مقابلہ قوانین کے تحت دھوکہ دہی پر مبنی ممنوعہ مارکیٹنگ ہے۔ اس واقعے کی قانونی تاریخ 2018 تک جاتی ہے، جب پیپسی نے شکایت درج کرائی کہ میزان کی اسٹورم ڈرنک اسٹنگ کی نقل کر رہی ہے تاکہ پیپسی کے برانڈ کی شہرت سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹیبلشمنٹ اگربات کرنا چاہتی ہے توکرے لیکن پی ٹی آئی اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنا چاہتی ہے تو ٹی وی پرآکر کہے سویلین بالادستی کا بیانیہ جھوٹا تھا:حذیفہ رحمان
میزان کا جواب اور قانونی کارروائی
کمپیٹیشن کمیشن کے مطابق میزان نے اس کیس میں براہ راست جواب دینے کے بجائے بار بار کمیشن کے دائرہ اختیار کو چیلنج کیا اور طویل قانونی کارروائی کے ذریعے انکوائری میں تاخیر کی۔ لاہور ہائی کورٹ نے 2018 اور 2021 میں عارضی احکامات جاری کیے جس سے تحقیقات کئی سال تک ملتوی رہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ میں تاریخی قانون کی منظوری، ہر پیدا ہونے والے بچے کو سٹاک مارکیٹ میں ایک ہزار ڈالر کا سرمایہ دیا جائے گا۔
حکم کا نتیجہ
تاہم جون 2024 میں لاہور ہائی کورٹ نے میزان کی پٹیشن مسترد کرتے ہوئے کمپیٹیشن کمیشن کے دائرہ اختیار کو برقرار رکھا اور واضح کیا کہ کمپیٹیشن ایکٹ کے تحت کارروائی ٹریڈ مارک کیس سے علیحدہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: راشد لطیف نے کراچی چھوڑ کر اسلام آباد منتقل ہونے کی وجہ بتا دی
تحقیقات کے نتائج
کمیشن کی تفصیلی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ اسٹورم نے اسٹنگ کی نقل کے لیے مکمل سرخ رنگ کا استعمال، بولڈ اور سلیٹڈ سفید لکھائی، تقریباً وہی بوتل کی شکل اور برانڈنگ عناصر اپنائے، جو عام صارف کو گمراہ کرنے کے لیے کافی تھے۔
دھوکہ دہی کا جائزہ
کمیشن نے واضح کیا کہ دھوکہ دہی کا جائزہ مجموعی تجارتی اثر کی بنیاد پر لیا جاتا ہے نہ کہ چھوٹے فرق کے موازنے سے۔ اگرچہ میزان کے پاس ”اسٹورم“ کا رجسٹرڈ ٹریڈ مارک موجود تھا، لیکن کمپیٹیشن کمیشن نے کہا کہ ٹریڈ مارک رجسٹریشن صارفین کو گمراہ کرنے اور پاسنگ آف کے ثبوت کے معاملے میں قانونی تحفظ فراہم نہیں کرتی۔








