مادورو کون تھے؟
نکولس مادورو کا اقتدار کا خاتمہ
کاراکاس (ڈیلی پاکستان آن لائن) وینزویلا کے صدر نکولس مادورو، جو تقریباً 12 برس سے اقتدار میں تھے، آج اچانک اقتدار سے محروم ہو گئے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ دارالحکومت کاراکاس میں ایک تیز رفتار کارروائی کے بعد ہفتے کے روز امریکی فورسز نے نکولس مادورو کو حراست میں لے لیا۔ ٹرمپ انتظامیہ طویل عرصے سے مادورو پر منشیات کے کارٹلز چلانے اور دیگر سنگین جرائم کے الزامات عائد کرتی آ رہی تھی اور انہیں اقتدار چھوڑنے کے لیے مسلسل دباؤ میں رکھا جا رہا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ملک بھر کے بجلی صارفین کے لیے بڑی خوشخبری، اربوں روپے کا ریلیف ملنے کا امکان
مادورو کا پس منظر
ڈان نے خبر ایجنسی روئٹرز کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ نکولس مادورو 23 نومبر 1962 کو ایک محنت کش گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد ایک ٹریڈ یونین رہنما تھے۔ مادورو نے عملی زندگی کا آغاز بس ڈرائیور کے طور پر کیا، اسی دور میں فوجی افسر ہیوگو شاویز نے 1992 میں ناکام بغاوت کی کوشش کی۔ مادورو نے شاویز کی رہائی کی مہم چلائی اور جلد ہی ان کے بائیں بازو کے نظریے کے پُرجوش حامی بن گئے۔
یہ بھی پڑھیں: لندن ہائی کورٹ کے حکم پر عادل راجا نے سابق فوجی افسر سے معافی مانگ لی
سیاسی رفاقت اور ترقی
بی بی سی کے مطابق، شاویز اور مادورو کے درمیان قریبی تعلقات کا آغاز شاویز کی قید کے زمانے سے ہوا، جو بعد میں ایک طویل سیاسی رفاقت میں بدل گیا۔ 1998 میں شاویز کے صدر منتخب ہونے کے بعد مادورو پارلیمان کے رکن بنے۔ اس کے بعد وہ بتدریج قومی اسمبلی کے صدر اور پھر وزیرِ خارجہ کے منصب تک پہنچے۔ وزیرِ خارجہ کی حیثیت سے انہوں نے دنیا بھر کے دورے کیے اور تیل سے حاصل ہونے والے وسائل کے ذریعے بین الاقوامی اتحاد بنانے کی کوشش کی۔
یہ بھی پڑھیں: مظفرآباد اور گردونواح میں زلزلہ
معاشی بحران اور چیلنجز
ان کے دورِ حکومت میں وینزویلا کو شدید معاشی بحران کا سامنا کرنا پڑا، جس میں بے قابو مہنگائی اور اشیائے ضروریہ کی شدید قلت نمایاں رہی۔ ان کی حکومت پر متنازع اور مبینہ دھاندلی زدہ انتخابات، خوراک کی کمی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات لگتے رہے۔ 2014 اور 2017 میں حکومت مخالف احتجاجوں کو سختی سے کچلنے کی کارروائیاں بھی ان کے اقتدار کی نمایاں خصوصیات بنیں۔ اس دوران لاکھوں وینزویلین شہری ملک چھوڑ کر بیرونِ ملک چلے گئے۔ 2016 میں کئی برسوں کے معاشی اعداد و شمار جاری ہونے کے بعد مادورو نے معاشی ایمرجنسی نافذ کی، جس کے بعد آئینی ایمرجنسی کا بھی اعلان کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور جنرل ہسپتال کے سرجنز نے شدید زخمی دل کی سرجری کرکے نوجوان کی جان بچالی
مادورو کے آمرانہ اقدامات
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق مادورو کو ڈرامائی انداز اختیار کرنے کا خاص شوق تھا اور وہ اکثر اپوزیشن رہنماؤں کو سخت اور توہین آمیز القابات سے پکارتے تھے، جن کے ذریعے وہ انہیں امیر طبقے سے جوڑنے کی کوشش کرتے تھے۔ اندرون و بیرونِ ملک ناقدین کا کہنا تھا کہ مادورو ایک آمرانہ طرزِ حکمرانی کے قائل تھے، جنہوں نے سیاسی مخالفین کو قید کیا، ان پر مقدمات قائم کیے اور اپوزیشن امیدواروں کو انتخابات میں حصہ لینے سے بارہا روکا۔
یہ بھی پڑھیں: شیری رحمٰن کی صدر مملکت سے ملاقات، بجٹ اور سفارتی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال
بین الاقوامی پابندیاں اور احتجاج
سنہ 2020 میں امریکا اور دیگر ممالک نے تب مادورو حکومت پر سخت پابندیاں عائد کیں، جب واشنگٹن نے ان پر بدعنوانی اور دیگر جرائم کے الزامات میں فردِ جرم عائد کی۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق ابتدا میں مادورو کی گرفتاری پر پندرہ ملین ڈالر انعام رکھا گیا تھا، جسے اگست 2025 میں بڑھا کر پچاس ملین ڈالر کر دیا گیا۔ مادورو نے ہمیشہ ان الزامات کو مسترد کیا۔
یہ بھی پڑھیں: فلم “لو یو گورو” کی نمائش 6 جون 2025 سے دنیا بھر کے سنیما گھروں میں
مستقبل کی صورت حال
جنوری 2025 میں مادورو نے تیسری مدت کے لیے حلف اٹھایا، تاہم 2024 کے انتخابات کو بین الاقوامی مبصرین اور اپوزیشن نے وسیع پیمانے پر دھاندلی زدہ قرار دیا۔ نتائج کے خلاف احتجاج کرنے والے ہزاروں افراد کو جیلوں میں ڈال دیا گیا۔ گزشتہ ماہ اقوامِ متحدہ کے فیکٹ فائنڈنگ مشن نے رپورٹ دی کہ بولیویرین نیشنل گارڈ نے ایک دہائی سے زائد عرصے کے دوران سیاسی مخالفین کے خلاف سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور انسانیت کے خلاف جرائم کیے، جن پر اکثر کوئی احتساب نہیں ہوا۔
نوبیل امن انعام اور عالمی توجہ
مادورو حکومت کے جابرانہ اقدامات کو اس وقت مزید عالمی توجہ ملی جب 2025 کا نوبیل امن انعام اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچادو کو دیا گیا، جسے وینزویلا میں جمہوری جدوجہد کی علامت قرار دیا گیا۔








