ہر سال کروڑوں روپے خرچ کرنے کے باوجود ادارے کیوں بیمار ہیں، مریض ہسپتالوں میں جانے سے ڈرتا ہے، ڈاکٹر نہیں دیکھتے، رحم کا جذبہ نہیں ہے
مصنف: رانا امیر احمد خاں
قسط: 267
ماحولیات: چیلنجز اور امکانات
پاکستان سٹیزن کونسل کے زیر اہتمام عنوان بالا پر منعقدہ اجلاس میں مہمان مقرر انجینئر اختر علی رانا نے کہا کہ پاکستان میں بیشتر فیکٹریاں اور کارخانے گہرے گھڑے کھود کر اس میں سالڈ ویسٹ واٹر ڈال رہے ہیں۔ اس سے گردونواح کا زیر زمین پانی تیزی سے زہرآلود ہو رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج مرکز اور تمام صوبوں میں محکمہ ماحولیات موجود ہیں، جن کے تحت مرکزی و صوبائی سیکرٹری ماحولیات سے لے کر ہر ضلع میں ڈسٹرکٹ آفیسر، تحفظ ماحولیات اور انسپکٹرز موجود ہیں۔ لیکن ملک بھر کے زیادہ تر فیکٹریاں اور کارخانے دار ماحول کے تحفظ کے لیے محکمہ ماحولیات کے قوانین کو مکمل طور پر نظرانداز کر رہے ہیں۔ نہروں اور دریاؤں میں سیوریج کا پانی ڈالا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں صحت عامہ کے مسائل بڑھ رہے ہیں۔
لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام کارخانے داروں اور شہری حکومتوں کو پابند کیا جائے کہ وہ آلودہ سالڈ ویسٹ واٹر مینجمنٹ کے لیے ٹریٹمنٹ پلانٹ لگائیں۔ دھواں دینے والی چمنیوں پر فلٹر لگائیں اور یہ یقینی بنائیں کہ دھواں دینے والی کوئی گاڑی سڑکوں پر موجود نہ ہو۔ پانی کی بڑھتی ہوئی قلت کے پیش نظر، عوام کو ماحول کو بہتر بنانے کی تحریک میں شامل کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
تمام سرکاری اہلکاروں اور عوام کو سڑکوں، نہروں، دریاؤں کے کنارے فیکٹریوں کے اندر باہر، گھروں، گلیوں، پارکوں، سکولوں، دفاتر وغیرہ پر درخت اور پھول لگانے کی ترغیب دینے کے لیے ایک بھرپور اور مستقل تحریک شروع کی جائے۔ نیز حکومتی عزم کے تحت تحفظ ماحول ایکٹ 1997ء کی تمام دفعات پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
اجلاس میں دیگر ارکان انجینئر لیاقت ربانی، جہانگیر جھوجہ، ارشاد چوہدری، میجر اقبال حسین(ر)، افتخار مجاز، ظفر علی راجا، ڈاکٹر محی الدین اور راقم نے بھی حصہ لیا۔
عوام کے لیے خدمات، تعلیم اور صحت کی سہولیات
مورخہ 29 جون 2007ء کو ہمدرد ٹرسٹ ہال میں منعقدہ سیمینار میں صحت، تعلیم، عدلیہ، پریس اور میڈیا کے ماہرین نے متعدد سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے ہر سال کروڑوں روپے سماجی خدمات، تعلیم اور صحت پر خرچ کرنے کے باوجود ہمارے ادارے اب تک کیوں بیمار ہیں؟ نصف صدی سے زیادہ گزرنے کے باوجود کیوں مریض ہسپتالوں میں جانے سے ڈرتے ہیں اور کیوں ڈاکٹرز کے رویوں کی شکایت کرتے ہیں؟
سوال یہ ہے کہ کیوں صحت، سماجی خدمات اور تعلیم کے شعبے میں انحطاط نظر آتا ہے؟ کیا منیجرز یا منتظمین صحیح کام نہیں کر رہے؟ کیا ڈاکٹرز کی تربیت ناقص ہے؟ کیا نئی بیماریوں کا مقابلہ کرنے کے لیے جدید آلات کی کمی ہے؟ آج کا مریض اگر ہم اس کی شکایات سنیں تو وہی شکایات کرتا نظر آئے گا جو آج سے پہلے کر رہاتھا، یعنی ٹیسٹ اور تشخیص نہیں ہے، علاج نہیں ہے، ڈاکٹر نہیں دیکھتے اور رحم کا جذبہ نہیں ہے۔
اگرچہ اس دور میں صحت کے شعبے میں بہت کام ہوئے ہیں، نئی ایمرجنسیاں بنی ہیں۔ جب تک صحت، سماجی خدمات اور تعلیم کے اداروں میں کام کرنے والوں کی تربیت نہیں ہو گی اور انہیں یہ احساس نہیں دلایا جائے گا کہ ہر ایک پاکستانی پاکستان کے لیے کتنا ضروری ہے، ہم نے ہر شہری کو بچانا ہے، ضروری ہے کہ تمام اداروں میں تربیت یافتہ عملہ تعینات ہو۔ حکومت کو چاہیے کہ اس محاورے پر عمل کر کے "کھلاؤ سونے کا نوالہ اور دیکھو شیر کی نگاہ سے" کے مصداق ادارے قائم کرے، ورنہ حالات یوں ہی غیر تسلی بخش رہیں گے۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








