دو ماہ سے معطل، معافی نامہ دفتر کو موصول، ناک کی لکیریں دفتر آ کر نکالیں، بہاول پور ضلع کے سب سیکرٹریز کو ضلع کونسل ہال میں جمع کیا گیا
مصنف کی پروفائل
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 399
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں 25 سال بعد بسنت کی خوشیاں واپس آ گئی ہیں، اب یہ تہوار محفوظ اور قانون کے دائرے میں منایا جائے گا،عظمیٰ بخاری
لکیر کے فقیر
احمد کمبوہ کو ملے بغیر ہیڈ کواٹر زروانہ ہو گیا گھر پہنچا اور اگلے روز دفتری کام نمٹائے۔ خورشید صاحب نے چارج شیٹ پیش کی۔ اس کی نوک پلک درست کرکے خالد درانی بھائی کو بلا بھیجا۔ خالد بھائی بڑے بھائی خالد فاروق کے کولیگ، قابل، سمجھ دار، خوش لباس، خوش گفتار اور بہاول پور کے رہنے والے تھے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد بہاول پور میں وکالت کرنے لگے تھے اور اُن کا شمار اچھے وکلاء میں ہوتا تھا۔ میرے لئے وہ بڑے بھائی کا درجہ رکھتے تھے اور میں اکثر قانونی معاملات میں ان سے مشورہ کرتا رہتا تھا۔ یہ چارج شیٹ بھی قانونی رائے کے لئے انہیں بھجوائی جس پر انہوں نے اپنی مہر ثبت کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف 2 روزہ سرکاری دورے پر بحرین روانہ
اللہ کی مدد
تین چار دن گزر چکے تھے۔ ایک روز نماز کے بعد دعا مانگتے اللہ سے مدد مانگ رہا تھا؛ "اللہ اگر میں کمبوہ کو نوکری سے نکال دیتا ہوں تو اس کے بچے بد دعا دیں گے۔ میری مدد فرما، میں ان سب کی اصلاح چاہتا ہوں تاکہ تیرے بندوں کے لئے آسانیاں ہوں۔ اے دنیا کے مالک، اے معاف اور رحم کرنے والے میری مدد فرما۔" اللہ نے ایک خیال میرے دل میں اتار دیا۔ نماز سے فارغ ہوا اور خورشید صاحب کو بلا لیا اور پوچھا، "کمبوہ والے معاملے میں کیا کریں؟" انہوں نے کہا؛ "سر! چارج شیٹ بھجواتے ہیں۔ جواب آنے پر فیصلہ کریں کہ کیا کرنا ہے۔" میں نے کہا؛ "ٹھیک ہے، بھجوا دیں۔ سچی بات ہے، میں اسے نوکری سے نکالنے کی سزا نہیں دینا چاہتا، اس کے بچے رل جائیں گے۔" وہ بولے؛ "سر! اللہ خیر کرے گا۔" چارج شیٹ دونوں چوہدریوں کو بھجوا دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: اگر پاکستان نے فضائی حدود بند رکھی تو ایئر انڈیا کو 5 ہزار کروڑ کا نقصان ہوگا، سی ای او کا انکشاف
سب لکیر کے فقیر
کہانی تھوڑی سی واپس موڑ کر بہاول پور کے معطل شدہ سیکرٹری مرید حسین کی طرف لئے جا رہا ہوں۔ اسے معطل ہوئے 2 ماہ گزر چکے تھے۔ اس کا معافی نامہ میرے دفتر کو مل چکا تھا۔ ناک کی لکیریں وہ میرے دفتر آ کر نکال چکا تھا۔ وقت تھا آگے بڑھنے کا چنانچہ بہاول پور ضلع کے سبھی سیکرٹریوں کو ضلع کونسل ہال میں اکٹھا کیا۔ وہاں معطل چوہدری سیکرٹری مرید حسین بھی موجود تھا۔ اس نے سب کے سامنے اقرار کیا؛ "آپ سب بھائی جانتے ہیں میں سیاسی طور پر تگڑا آدمی ہوں۔ میں نے ہر سفارش کراڈا لی۔ ہر حربہ آزما لیا لیکن ڈائریکٹر صاحب نے کوئی سفارش نہیں مانی۔ مجھے معافی مانگے بھی کئی دن گزر گئے ہیں۔ مجھے ناک سے لکیریں نکالی پڑیں، تحریری معافی نامہ دیا تب جا کر انہوں نے مجھے معاف کیا ہے۔ ہم سب کو دئیے گئے طریقے کے مطابق کام کرنا ہے۔ اسی میں بچت اور عزت ہے۔" میں نے سبھی ساتھیوں کو اس کا معافی نامہ دکھایا اور کہا؛ "آپ ہی اپنی سفارش ہیں۔ مجھے آپ سے ایک چیز کی ہی توقع ہے ایمانداری سے کام۔ مجھے امید ہے آئندہ مجھے کسی کو معطل نہیں کرنا پڑے گا۔" سب لکیر کے فقیر تھے۔ بہاول پور بہت بہتر ہو گیا تھا.
نوٹ
یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








