وینزویلا کا انتظام ہم خود چلائیں گے، ٹرمپ کا اعلان
ٹرمپ کا مدورو کی گرفتاری کے حملے کی تعریف
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) صدر ٹرمپ نے وینزویلا کے صدر مدورو کی گرفتاری کے لیے کیے گئے حملے کو ایک "شاندار کارروائی" قرار دیتے ہوئے اس کی تعریف کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جہانیاں کے قریب ٹرک رکشہ پر الٹ گیا، 4 بچیوں سمیت 5 مسافر جاں بحق، وزیر اعلیٰ پنجاب کا اظہار افسوس
کاراکاس میں حملے کی تفصیلات
انہوں نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ یہ حملہ کاراکاس کے قلب میں واقع ایک انتہائی محفوظ فوجی قلعے میں کیا گیا، جو کہ ایسا تھا جیسا لوگوں نے دوسری جنگِ عظیم کے بعد سے نہیں دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ اس کارروائی کا مقصد آمر مادورو کو انصاف کے کٹہرے میں لانا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز کی زیر صدارت خصوصی اجلاس، ہر ادارے کی پرفارمنس کا احتساب،لیپ ٹاپ کوٹہ کیلئے تجاویز طلب،پنجابی زبان کو تعلیم میں مقام دلانے کیلئے اقدامات کا حکم
امریکی فوجی طاقت کا مظاہرہ
ٹرمپ نے اس آپریشن کو امریکی تاریخ میں امریکی فوجی طاقت اور مہارت کا ایک حیران کن، مؤثر اور طاقتور مظاہرہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا "دنیا کی کوئی بھی قوم وہ حاصل نہیں کر سکتی تھی جو امریکہ نے حاصل کیا، یا سچی بات تو یہ ہے کہ محض تھوڑے سے وقت میں وینزویلا کی تمام فوجی صلاحیتوں کو بے بس کر دیا گیا۔"
یہ بھی پڑھیں: بیلجیئم میں پاکستان تحریک انصاف کا یورپی پارلیمنٹ کے سامنے احتجاجی مظاہرہ
مواقع اور کامیابی کی تفصیلات
انہوں نے مزید کہا "ہمارا ایک بھی فوجی ہلاک نہیں ہوا، اور امریکہ کا ایک بھی ساز و سامان ضائع نہیں ہوا۔ اس لڑائی میں ہمارے بہت سے ہیلی کاپٹر، بہت سے طیارے اور بہت سے لوگ شامل تھے۔"
ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ وینزویلا میں دوسرے اور کہیں بڑے حملے کے لیے تیار ہے، لیکن پہلے آپریشن کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے شاید اس کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ انہوں نے کہا "ہمارا خیال تھا کہ دوسری لہر (حملے) کی ضرورت ہوگی لیکن شاید اب نہیں ہے۔ پہلا حملہ اتنا کامیاب رہا کہ ہمیں غالباً دوسرا حملہ کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔"
یہ بھی پڑھیں: مقتولہ بانو کا شوہر اور والد قتل کے خلاف تھے، وہ احسان کی بلیک میلنگ کا شکار تھی: حامد میر کا انکشاف
قدرتی منتقلی کا عزم
ٹرمپ نے کہا ہے کہ جب تک اقتدار کی "محفوظ منتقلی" نہیں ہو جاتی، امریکہ وینزویلا کا انتظام سنبھالے گا۔ "ہم اس ملک کو اس وقت تک چلائیں گے جب تک ہم ایک محفوظ، مناسب اور منصفانہ منتقلی نہ کر لیں۔ ہم نہیں چاہتے کہ کوئی اور شخص اقتدار میں آئے اور وہی صورتحال دوبارہ پیدا ہو جائے جو ہم گزشتہ کئی سالوں سے دیکھ رہے ہیں۔"
یہ بھی پڑھیں: لنڈے کے کپڑوں پر 200 روپے فی کلو ٹیکس پر تاجر بلبلا اٹھے
عدیل ثبوت کا دعوی
ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ امریکی عدالتوں کے پاس مدورو کے جرائم کے "ناقابلِ تردید ثبوت" موجود ہیں۔ انہوں نے کہا، "یہ ہولناک اور ہوش ربا دونوں ہیں۔"
یہ بھی پڑھیں: معاشی استحکام ہوگیا، ترقی کے لیے برآمدات میں اضافہ ناگزیر ہے: وزیر خزانہ
امریکی مداخلت کے فوائد
ٹرمپ نے کہا کہ وینزویلا میں امریکی مداخلت سے امریکی تیل کمپنیوں کے لیے نئے دروازے کھلیں گے، جو جلد ہی ملک میں توانائی کے بڑے منصوبوں میں حصہ لیں گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا "جیسا کہ سب جانتے ہیں، وینزویلا میں تیل کا کاروبار ایک طویل عرصے سے مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔ ہم اپنی بہت بڑی امریکی تیل کمپنیوں کو وہاں بھیجیں گے، جو دنیا میں سب سے بڑی ہیں تاکہ وہ اربوں ڈالر خرچ کریں، تباہ حال انفراسٹرکچر کو ٹھیک کریں، اور ملک کے لیے پیسہ کمانا شروع کریں۔"
یہ بھی پڑھیں: ریٹائرمنٹ کی افواہوں پر قومی کرکٹ ٹیم کے مڈل آرڈر بیٹر حارث سہیل کا ردعمل آگیا
غیر ملکی خطرات اور امریکی حکمت عملی
ٹرمپ نے کہا کہ وینزویلا تیزی سے ہمارے خطے میں غیر ملکی دشمنوں کی پناہ گاہ بن رہا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان میں سے کچھ ہتھیار گزشتہ رات امریکی افواج کے خلاف استعمال کیے گئے۔
"دیگر حکومتوں نے مغربی نصف کرے میں بڑھتے ہوئے ان سیکورٹی خطرات کو نظر انداز کیا یا حتیٰ کہ ان میں حصہ ڈالا۔ ٹرمپ انتظامیہ کے تحت، ہم اپنے خطے میں امریکی طاقت کا بہت زوردار طریقے سے اعادہ کر رہے ہیں۔"
یہ بھی پڑھیں: بھارت کے پاس دریاؤں کا پانی روکنے کی کوئی سہولت موجود نہیں تو پاکستانی دریاؤں کا پانی کہاں گیا؟ ماہرین نے سوالات اٹھادیے۔
امریکہ کے مطالبات اور وارننگ
صدر ٹرمپ نے کہا کہ وینزویلا میں امریکی آپریشن "ہر اس شخص کے لیے ایک وارننگ ہونا چاہیے جو امریکی خودمختاری کو خطرے میں ڈالے گا یا امریکی جانوں کو خطرے میں ڈالے گا"۔
انہوں نے مزید کہا، "امریکی بیڑہ اپنی پوزیشن پر مستعد ہے، اور امریکہ کے پاس تمام فوجی آپشنز اس وقت تک برقرار رہیں گے جب تک کہ امریکی مطالبات مکمل طور پر تسلیم نہیں کر لیے جاتے۔"
مدورو کے ہلاکت کے امکانات
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا امریکی افواج چھاپے کے دوران مدورو کو ہلاک کر سکتی تھیں، تو ٹرمپ نے جواب دیا کہ "ایسا ہو سکتا تھا. وہ ایک محفوظ جگہ پر پہنچنے کی کوشش کر رہا تھا"۔
ٹرمپ نے بتایا، "وہاں بہت زیادہ فائرنگ ہو رہی تھی. وہ ایک محفوظ جگہ پر پہنچنے کی کوشش کر رہا تھا، جو کہ محفوظ نہیں تھی کیونکہ ہم اس دروازے کو اڑا دیتے۔"








