رابی پیرزادہ کے اپنی شادی اور خلع پر انکشافات
رابی پیرزادہ کا حیران کن انکشاف
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستانی میڈیا کی معروف شخصیت، گلوکارہ اور کاروباری خاتون رابی پیرزادہ نے حال ہی میں اپنی ذاتی زندگی سے متعلق ایک اہم انکشاف کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فیلڈ مارشل کا خطاب کب دیا جاتا ہے، کیا اس سے اوپر بھی کوئی عہدہ ہوتا ہے؟
شوبز انڈسٹری سے کنارہ کشی
شہرت کی بلندیوں کو چھونے کے بعد شوبز انڈسٹری سے کنارہ کشی اختیار کرنے والی رابی پیرزادہ اس وقت ایک بیوٹی برانڈ چلا رہی ہیں، جو مصوری سے وابستہ ہیں اور فلاحی سرگرمیوں میں بھی متحرک ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی معیشت پر بین الاقوامی اعتماد کا اظہار، مشرق بینک کا پاکستان میں داخلہ: پاکستان بینکس ایسوسی ایشن
شادی اور خلع کا بیان
رابی پیرزادہ نے حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے پہلی بار اپنی شادی اور خلع کے بارے میں کھل کر گفتگو کی۔
پوڈکاسٹ کے دوران رابی پیرزادہ نے بتایا کہ میں شادی شدہ تھی لیکن بعد ازاں میں نے خلع لے لی۔
یہ بھی پڑھیں: فرسٹ ویمن بینک 4.1 ارب روپے میں یو اے ای کے نامزد ادارے کو فروخت
عوام کے سامنے پہلی بار بات کرنا
ان کا کہنا تھا کہ یہ بات میں پہلی بار عوام کے سامنے لا رہی ہوں اور اس سے قبل میں نے اپنی شادی یا علیحدگی کے بارے میں کبھی بات نہیں کی۔
یہ بھی پڑھیں: سیلابی صورتحال اور بارشوں کے باعث محکمہ موسمیات نے ڈینگی الرٹ جاری کردیا
رشتے کی مشکلات
رابی پیرزادہ نے کہا کہ میں کسی کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتی، لیکن اس رشتے میں جو کچھ میرے ساتھ ہوا، اس کے بعد میں نے خلع لینے کا فیصلہ کیا، یہ فیصلہ شاید میرے اور ہم دونوں کی تکالیف کا خاتمہ تھا۔
یہ بھی پڑھیں: وہ گاؤں جہاں آزادی کے بعد پہلی بار کسی طالب علم نے میٹرک کا امتحان پاس کرلیا
مستقبل کی امید
انہوں نے مزید کہا کہ مستقبل میں دوبارہ شادی کا امکان موجود ہے اور اس سے متعلق میں احمد علی بٹ کی دی گئی نصیحت کو بھی یاد کرتی ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: پاک فضائیہ کے ہاتھوں تباہ رافیل طیاروں کے بھارتی پائلٹس دراصل کس طرح اپنی جان بچانے میں کامیاب ہوئے ؟ تہلکہ خیز دعویٰ
والدین کے دباؤ میں کی گئی شادی
ایک اور اہم انکشاف کرتے ہوئے رابی پیرزادہ نے بتایا کہ میں نے والدین کے دباؤ میں آ کر شادی کی تھی اور یہ ایک ’وٹہ سٹہ‘ یعنی تبادلہ شادی تھی، جس پر آج مجھے افسوس ہے۔
مشکلات کا سامنا
ان کا کہنا تھا کہ اس قسم کی شادیوں میں اکثر فریقین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔








