اگر ہم ہر پاکستانی اپنے اپنے شعبہ میں یہ سوچ کر کام کریں کہ اگر پاکستان ہے تو ہم ہیں اگر پاکستان مضبوط ہے تو ہم مضبوط ہیں، ابھی وقت ہے
مصنف: رانا امیر احمد خاں
قسط: 268
پالیسی ساز اداروں کی موجودگی
پالیسی ساز اداروں میں ماہرین کو شامل کرنا چاہیے تاکہ پالیسیوں کا ثمر عوام تک پہنچ سکے۔ صحت کے شعبے میں دوسرا اہم مسئلہ ادویات کا ہے۔ آج کی ترقی یافتہ دنیا میں جب ہم پاکستان کی مارکیٹوں میں جعلی ادویات کی بھرمار دیکھتے ہیں تو یہ سوچ پیدا ہوتی ہے کہ صحت کے ادارے کہاں ہیں، ڈرگ انسپکٹر کہاں ہے؟ اور ڈائریکٹر ہیلتھ کہاں ہے؟ کارپوریشن اور میونسپل اداروں کی کیا ذمہ داریاں ہیں؟ ہم یہاں کسی کی شکایت نہیں کر رہے۔ ہم صرف یہ غور کر رہے ہیں کہ اگر ہم ہر پاکستانی اپنے اپنے شعبے میں یہ سوچ کر کام کریں کہ اگر پاکستان ہے تو ہم ہیں، اگر پاکستان مضبوط ہے تو ہم مضبوط ہیں۔
پاکستان کے لیے یکجہتی کی ضرورت
اب یہ وقت ہے کہ ہم فرقہ بندی، گروہ بندی، برادریوں اور بولیوں کے تفرقات سے نکل کر پاکستان کے لیے سوچیں۔ تنقید ضروری ہے مگر تنقید برائے تنقید نہیں، بلکہ تنقید برائے اصلاح اور تعمیر ہونی چاہیے۔ ہم علم و عقل رکھنے والے اور غور و فکر کرنے والے پاکستانیوں کو دعوت دیتے ہیں کہ پاکستان کی تعمیر و ترقی کے لیے ایک ہو جائیں۔ تمام اختلافات بھول کر اپنا ٹھوس اور مؤثر کردار ادا کریں ورنہ یہ وقت ہاتھ سے نکل جائے گا۔
خطاب کرنے والے معزز مہمان
سیمینار ہذا سے خطاب کرنے والوں میں فاطمہ جناح میڈیکل کالج کے پرنسپل ڈاکٹر اکبر چوہدری، ڈاکٹر محی الدین، ڈاکٹر ایم اے صوفی، ڈاکٹر اویس فاروقی، ڈاکٹر مجاہد منصوری، پروفیسر شکیلہ خانم رشید، پروفیسر ڈاکٹر شفیق جالندھری اور صدر کونسل رانا امیر احمد خاں شامل تھے۔
وی آئی پی کلچر
عنوان مذکورہ بالا پر سٹیزن کونسل تھنک ٹینک پر مشتمل اراکین ظفر علی راجا ایڈووکیٹ، پروفیسر فرح زیبا، الطاف قمر، جنرل راحت لطیف، پروفیسر نصیر چوہدری، میجر شبیراحمد، ڈاکٹر انوار احمد بگوی، ڈاکٹر محی الدین، محمد رمضان میو، ثروت روبینہ نے راقم کے آفس بمقام 62 مزنگ روڈ صفانوالہ چوک میں منعقد ہونے والے ہفتہ وار اجلاسوں میں قریباً 1 ماہ تک گہرا غور و فکر کرنے کے بعد درج ذیل نتائج اخذ کیے ہیں۔
جمہوریت کی حقیقت
جمہوریت ہمیں بے حد عزیز ہے لیکن جمہوریت کے نام پر وراثتی جمہوری پارٹیاں کلنک کا ٹیکہ ہیں۔ حکمرانوں نے گزشتہ 70 سالوں میں جمہوریت کے نام پر وطن عزیز کو عوام الناس کے لیے جہنم بنا دیا ہے۔ جمہوری وطن میں نہ علم، نہ روزگار، نہ علاج، نہ صاف پانی، نہ عزت نفس، نہ سستا انصاف۔ اس غلیظ جمہوریت سے مال و دولت، جاہ و جلال اور پروٹوکول کو نکال دینا وقت کی ضرورت ہے۔ ہمارے حکمران خدمت کے لیے نہیں، بے تحاشہ پیسے بنانے اور پروٹوکول کا مزہ لینے کے لیے ہی اقتدار میں آتے ہیں۔
عوام کے حقوق پر ڈاکہ
محلات میں پرائم منسٹر ہاؤس اور دیگر مخصوص جگہوں پر بیرئر لگانا عوام کے حق آمدورفت پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے۔ ہمارے نام نہاد جمہوری حکمران سکیورٹی اور پروٹوکول کے نام پر عوام کی سرعام توہین کے مرتکب ہوتے ہیں۔ سکیورٹی کے نام پر پاکستانی حکمرانوں کے پروٹوکول کے بدبودار کلچر کا تعلق اسلام سے ہے نہ مہذب دنیا سے۔ مہذب دنیا اپنے حکمرانوں کو عوام کے راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کر کے لوگوں کی زندگیاں اجیرن بنانے کی اجازت نہیں دیتی۔ جمہوری قبضہ گروپوں کی یہ مجرمانہ غیر اسلامی، غیر انسانی، غیر آئینی اور غیر اخلاقی فحاشی مدتوں سے جاری ہے۔ فحاشی دراصل حدود سے تجاوز کا نام ہے۔








