وہ ایک خالی ویران فیکٹری کی جگہ تھی، جعلساز بھی ”حقہ کشی“ کے عمل میں گاہے بگاہے شریک ہونے لگا، حاجی صاحب فر یب میں آگئے۔

حاجی صاحب اور جعل ساز

مصنف:ع غ جانباز
قسط:19
ایک صُورتِ مومناں، باریش جعل ساز بھی اس ”حّقہ کشی“ کے عمل میں گاہے بگاہے شریک ہونے لگا۔ اپنی پارسائی کی دھاک بٹھانے کے بعد ایک دن حاجی صاحب سے اُن کی لائی ہوئی دولت کے مصرف کا بھی پوچھ بیٹھا۔ حاجی صاحب نے برجستہ جواب دیا کہ وہ اس سے زرعی زمین خریدنے کا ارادہ رکھتے ہیں، بلکہ کئی ایک مالکان سے رابطہ بھی کر چکے ہیں۔ جعل ساز نے حاجی صاحب کو باور کرایا کہ اس چاہی علاقے میں زرعی زمین سے کیا خاک آمدنی ہوگی۔ آپ اپنی دولت میری بتائی ہوئی صنعت میں لگائیں تو دیکھیں گے کہ دولت کے انبار لگتے جائیں گے۔ حاجی صاحب اُس کی ظاہری پارسائی کے فر یب میں آگئے اور انہیں ایک ”جعلی صنعت کار سے ملوا کر باقاعدہ تحریر نامہ لکھوا کر حاجی صاحب کی دولت ہتھیا لی۔ وقت مقررّہ پر جب حاجی صاحب اپنے منافع کے سلسلے میں اُس صنعت کار کے دفتر میں گئے تو وہاں نہ ہی وہ صنعت کار تھا اور نہ ہی صورتِ مومناں جعل ساز، کہ وہ تو ایک خالی ویران فیکٹری کی جگہ تھی۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کیس: عدالت نے الیکشن کمیشن کو حتمی فیصلہ کرنے سے روک دیا

بجلی کی فراہمی کا آغاز

تحصیل نواں شہر ضلع جالندھر انڈیا کے علاقے میں اُس وقت بجلی نہیں تھی۔ ایک بڑی ”الیکٹرک سپلائی کمپنی“ معرضِ وجود میں آئی جس نے یہ بیڑا اٹھایا کہ اُس علاقے میں بجلی کا نظام شروع کرنے کا ڈول ڈالا جائے۔ لہٰذا اُس کے لیے سرمایہ کی ضرورت تھی۔ علاقے میں متعدد اعزازی ڈائریکٹرز بنانے کا پروگرام بنایا تاکہ وہ لوگوں کو کمپنی کے شیئرز فروخت کریں۔ ہم نے دیکھا یہ سہرا بھی والد صاحب کے سر سجا، وہ اُس کمپنی کے ”اعزازی ڈائریکٹر“ بنا دئیے گئے اور پھر وہ اپنے عزیز و اقارب، دوستوں، رشتہ داروں، واقف کاروں اور علاقے کے دوسرے لوگوں کو اُس کمپنی کے شیئرز فروخت کر کے رقوم وصول کر کے کمپنی کے حساب میں جمع کرواتے رہے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب کا حاصل پور میں بس اور کار تصادم میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار

پھلجھڑی تہوار کی خصوصیات

پھلجھڑی تہواروں میں استعمال ہونے والی ایک خوشنما، دیدہ زیب آنکھوں کو طراوت دینے والی ساحرہ ہے۔ اِس کا آغاز تو ایک شُعلہ جوالا سا بن کر اُبھرتا ہے تو جسم و جاں خود بخود کچھ سکڑ سے جاتے ہیں۔ لیکن جب اُس کے بے ضرر ستارے جگمگاتے چاروں طرف پھیل جاتے ہیں تو پھر جسم و جاں پر ایک آسودگی اور مُسرت و شادمانی کا پیغام بکھیرتے ہیں۔ پھلجھڑی تہواروں کو جو رنگینی عطا کرتی ہے اُس سے تہوار حسن و جمال، امن و شانتی کے ٹھکانے بن جاتے ہیں۔ جہاں لوگ جوق در جوق آتے ہیں اور سکون و راحت سے جھولیاں بھر بھر لوٹتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: حمزہ علی عباسی نے شوبز چھوڑنے سے متعلق بیان کی وضاحت پیش کردی

زندگی کا ایک دَور

بھرپور جوانی سے کچھ ہی پہلے ایک دَور آتا ہے جو میری زندگی کے اُس دور میں پُوری آب و تاب سے جلوہ گر تھا۔ یہ پھلجھڑی سے مشابہ شعلۂ جوالا سا اِس دوران اُبھرتا تھا اور فریق ثانی کے قُرب کا متمنّی تو ہوتا تھا۔ اِس سے پیار کے ستارے تیرتے آنکھوں کو ٹھنڈک، دل کو سرور پہنچاتے تھے۔ لیکن کسی قسم کی ضررّ رسانی سے پاک!

یہ بھی پڑھیں: جنگی میدان میں سیز فائر ہو گیا لیکن سوشل میڈیا پر مودی کی ٹھکائی اب بھی جاری ، پاکستانیوں کی میمز نے سب کو ہنسا ہنسا کے لوٹ پوٹ کر دیا

معاشرتی تبدیلیاں

اُس زمانے میں اپنے سرکل میں اِس سن و سال کے لڑکے لڑکیاں بے خوف و خطر سر راہِ کھیل کود کرتے تھے۔ منفی رُجحانات کا دل و دماغ میں ٹھکانہ نہ تھا۔ یہ فریقین پر والدین کے اُس وقت کے رُعب و دبدبہ کا اثر تھا یا ذہنوں کی نا پختگی کچھ تو ضرور تھا۔ مزید ریسرچ کریں تو ہمیں بھی یاد رکھیے گا۔ (جاری ہے)

نوٹ

نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...