72 شوگر ملز کو جرمانے کا معاملہ، سپریم کورٹ نے ٹربیونل کو 90 روز میں فیصلہ کرنے کا حکم دیدیا
سپریم کورٹ کا فیصلہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ نے 72 شوگر ملز کو جرمانے کے معاملے میں مسابقتی کمیشن کے فیصلے کے خلاف درخواست کی سماعت کے دوران فیصلہ دیا کہ ٹربیونل کیس سن کر 90 روز میں فیصلہ کرے۔
یہ بھی پڑھیں: آسٹریلیا میں شدید گرمی کی لہر، درجہ حرارت 50 ڈگری کے قریب پہنچ گیا
مزید سماعت کا اعلان
دنیا نیوز کے مطابق چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کی 3 رکنی بنچ نے سماعت کے بعد فریقین کو نوٹس جاری کر دیئے، کیس کی مزید سماعت اگلی جمعرات تک ملتوی کر دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شاہ رخ، عاطف اور ہمایوں، ماہرہ خان نے تینوں سٹارز کے بارے میں کیا بتایا؟
مسابقتی کمیشن کی استدعا
مسابقتی کمیشن کی وکیل عصمہ حامد نے عدالت سے استدعا کی کہ آرڈر میں کمیشن کو کیس سننے کے الفاظ شامل کیے جائیں۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی: نامعلوم افراد کا غیر ملکی ریسٹورنٹ کی چین پر پتھروں اور ڈنڈوں سے حملہ
چیف جسٹس کا ردعمل
چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کی اپیل میں بس اتنی سی استدعا ہے تو ہم آرڈر کردیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ہمیں بیرسٹر سیف پر اعتماد نہیں، یہ بغیر اجازت کے بھی عمران خان سے ملاقات کر آتے ہیں، کوئی روکتا بھی نہیں : رحمان جلال
فریقین کی سنوائی
جسٹس شکیل احمد نے کہا کہ ہم تمام فریقین کو سن کر ہی فیصلہ کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: میں نے ایم ایس دھونی سے پچھلے 10سالوں سے بات نہیں کی، ہر بھجن سنگھ کا انکشاف
کمیشن کی کارروائی
مسابقتی کمیشن میں 4 ممبرز نے درخواست گزار شوگر ملز کو سنا، جس کے نتیجے میں چیئرمین اور ایک ممبر نے جرمانے عائد کیے جبکہ دیگر 2 ممبرز نے شوکاز نوٹس کالعدم قرار دے کر دوبارہ انکوائری کا حکم دیا۔
یہ بھی پڑھیں: آوارہ کتوں کے لوگوں پر حملوں کے خلاف جماعت اسلامی نے بالآخر 10 اپریل سے لاہور میں احتجاج کی کال دے دی
فیصلے کا پس منظر
چونکہ فیصلہ دو دو ممبران سے برابر تھا، اس لیے مسابقتی کمیشن ایکٹ کی شق 24(5) کے تحت چیئرمین کو فیصلہ کن ووٹ کا اختیار دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: 2027 میں صدی کا طویل ترین سورج گرہن ہوگا
درخواست گزاروں کی اپیل
درخواست گزاروں نے متعلقہ ٹربیونل سے رجوع کیا، جس نے 90 روز میں معاملہ دوبارہ سن کر فیصلہ کرنے کا حکم دیا، اس فیصلے کے خلاف اپیل سپریم کورٹ میں دائر کی گئی، جہاں چیف جسٹس سمیت جسٹس عامر فاروق اور جسٹس شکیل احمد نے کیس کی سماعت کی۔
یہ بھی پڑھیں: اٹک میں 3 ماہ کیلئے دفعات 144 نافذ
عدالت کا وضاحت
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ چیئرمین مسابقتی کمیشن کا نیم عدالتی کارروائی میں شامل ہونا اور دوبارہ فیصلہ کن ووٹ کا حق دینا ڈبل ووٹ کے مترادف ہے۔
نتیجہ
عدالت عظمیٰ نے واضح کیا کہ شق 24(5) کا استعمال صرف انتظامی سطح پر ہو سکتا ہے اور ٹریبونل 90 روز میں کیس سن کر فیصلہ کرے۔








