لاہور جنرل اسپتال میں زیرِ علاج زخمی طالبہ فاطمہ کے علاج کے لیے خصوصی میڈیکل بورڈ قائم
طالبہ فاطمہ کی طبی امداد
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) جنرل اسپتال میں زیرِ علاج زخمی طالبہ فاطمہ کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے خصوصی میڈیکل بورڈ تشکیل دے دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا زمبابوے کے خلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ
میڈیکل بورڈ کی تشکیل
اسپتال انتظامیہ کے مطابق چار رکنی میڈیکل بورڈ بنایا گیا ہے جس کی سربراہی پروفیسر ڈاکٹر جودت سلیم کریں گے۔ میڈیکل بورڈ میں نیورو سرجن، سرجری اور آرتھوپیڈک کے ماہر ڈاکٹرز شامل ہیں جو طالبہ کے علاج اور آئندہ کے لائحہ عمل کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹیپ بال کرکٹ میچ: نوجوان بیٹر چھکا مارتے ہی دل کا دورہ پڑنے سے چل بسا
پرنسپل کا بیان
پرنسپل لاہور جنرل اسپتال پروفیسر فاروق افضل کا کہنا ہے کہ زخمی طالبہ کو ہر ممکن اور معیاری طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ اس کی صحت یابی کو یقینی بنایا جا سکے۔ اسپتال انتظامیہ نے میڈیکل بورڈ کے ارکان کو ہدایت کی ہے کہ وہ 24 گھنٹوں کے اندر اپنی رپورٹ پیش کریں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی نئے صوبے بنانے کی حمایت کر دی
تحقیقات کا جائزہ
دوسری جانب ڈی آئی جی فیصل کامران نے کہا ہے کہ ابھی تحقیقات ہورہی ہیں، طالبہ کے کچھ فیملی ایشوز ہیں، پرائیویسی کا خیال رکھا جائےگا۔ یونیورسٹی میں طلبا کی مانیٹرنگ کیلئے گارڈز ہونے چاہئیں۔ طالبہ خیر خیریت سے ہے، کوئی ہیڈ انجری نہیں ہے، جبکہ اس کی ٹانگیں فریکچر ہوئی ہیں۔ طالبہ کو ابھی ہوش نہیں آیا لیکن حالت خطرے سے باہر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اللہ کا شکر ہے آج ساہیوال ڈویژن کے پہلے امراضِ قلب انسٹی ٹیوٹ نے کام شروع کر دیا
واقعات کا موازنہ
ان کا کہنا تھا کہ پہلے واقعہ اور اس واقعہ کے فیکٹس کچھ اور ہیں۔ طلبا کی مینٹل ہیلتھ کے حوالے سے یونیورسٹی انتظامیہ سے بات کریں گے، دونوں واقعات کو ایک دوسرے سے لنک نہیں کرنا چاہیے۔
پچھلا واقعہ
یاد رہے کہ اسی یونیورسٹی میں فاطمہ کے ہی بیچ کے ایک اور طالبعلم نے بھی چند روز قبل عمارت سے چھلانگ لگا کر خودکشی کی تھی۔








