لاہور جنرل اسپتال میں زیرِ علاج زخمی طالبہ فاطمہ کے علاج کے لیے خصوصی میڈیکل بورڈ قائم
طالبہ فاطمہ کی طبی امداد
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) جنرل اسپتال میں زیرِ علاج زخمی طالبہ فاطمہ کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے خصوصی میڈیکل بورڈ تشکیل دے دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بچوں کے لیے خوشخبری، 8 سال انتظار کے بعد لاہور میں زرافہ دیکھ سکیں گے: وزیر اعلیٰ کا ’’ایکس‘‘ پر پیغام
میڈیکل بورڈ کی تشکیل
اسپتال انتظامیہ کے مطابق چار رکنی میڈیکل بورڈ بنایا گیا ہے جس کی سربراہی پروفیسر ڈاکٹر جودت سلیم کریں گے۔ میڈیکل بورڈ میں نیورو سرجن، سرجری اور آرتھوپیڈک کے ماہر ڈاکٹرز شامل ہیں جو طالبہ کے علاج اور آئندہ کے لائحہ عمل کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: مریم نواز نے جنگ کے دنوں میں سب سے متحرک وزیراعلیٰ کا رول ادا کیا : عظمیٰ بخاری
پرنسپل کا بیان
پرنسپل لاہور جنرل اسپتال پروفیسر فاروق افضل کا کہنا ہے کہ زخمی طالبہ کو ہر ممکن اور معیاری طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ اس کی صحت یابی کو یقینی بنایا جا سکے۔ اسپتال انتظامیہ نے میڈیکل بورڈ کے ارکان کو ہدایت کی ہے کہ وہ 24 گھنٹوں کے اندر اپنی رپورٹ پیش کریں۔
یہ بھی پڑھیں: موجودہ صورتحال میں مسافر ایئرپورٹ آنے سے پہلے کال سینٹر پر رجوع کریں: ترجمان پی آئی اے
تحقیقات کا جائزہ
دوسری جانب ڈی آئی جی فیصل کامران نے کہا ہے کہ ابھی تحقیقات ہورہی ہیں، طالبہ کے کچھ فیملی ایشوز ہیں، پرائیویسی کا خیال رکھا جائےگا۔ یونیورسٹی میں طلبا کی مانیٹرنگ کیلئے گارڈز ہونے چاہئیں۔ طالبہ خیر خیریت سے ہے، کوئی ہیڈ انجری نہیں ہے، جبکہ اس کی ٹانگیں فریکچر ہوئی ہیں۔ طالبہ کو ابھی ہوش نہیں آیا لیکن حالت خطرے سے باہر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایرانی ہیکرز نے ٹرمپ کے مشیروں کی ای میلز لیک کرنے کی دھمکی دیدی
واقعات کا موازنہ
ان کا کہنا تھا کہ پہلے واقعہ اور اس واقعہ کے فیکٹس کچھ اور ہیں۔ طلبا کی مینٹل ہیلتھ کے حوالے سے یونیورسٹی انتظامیہ سے بات کریں گے، دونوں واقعات کو ایک دوسرے سے لنک نہیں کرنا چاہیے۔
پچھلا واقعہ
یاد رہے کہ اسی یونیورسٹی میں فاطمہ کے ہی بیچ کے ایک اور طالبعلم نے بھی چند روز قبل عمارت سے چھلانگ لگا کر خودکشی کی تھی۔








