شام کے صدارتی محل میں فائرنگ، صدر احمد الشراع محفوظ
صدر احمد الشراع پر حملے کی خبروں کی تردید
دمشق (ڈیلی پاکستان آن لائن) شام کی حکومت نے پیر کے روز واضح طور پر اس بات کی تردید کی ہے کہ صدر احمد الشراع کو کسی سکیورٹی واقعے میں نشانہ بنایا گیا ہو، جبکہ خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرنے والے دو ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے دمشق میں صدارتی محل کے اندر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: آرمی چیف کا پاک فضائیہ کے آپریشنل بیس کا دورہ، کثیرالملکی مشق انڈس شیلڈ کا مشاہدہ
فائرنگ کی اطلاعات اور سرکاری ردعمل
گزشتہ چند دنوں سے سوشل میڈیا پر 30 دسمبر کو صدارتی محل میں فائرنگ کی اطلاعات گردش کر رہی تھیں۔ یہ محل دارالحکومت دمشق پر نظر رکھتا ہے اور انہی خبروں کے بعد سے صدر احمد الشراع عوامی سطح پر نظر نہیں آئے۔ تاہم وزارتِ داخلہ کے ترجمان نورالدین البابا نے ان خبروں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ صدر یا کسی اعلیٰ عہدیدار کو نشانہ بنائے جانے سے متعلق تمام رپورٹس بے بنیاد ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم دوٹوک الفاظ میں تصدیق کرتے ہیں کہ یہ تمام دعوے سراسر جھوٹ پر مبنی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ویڈیو: شلوار قمیض پہننے کی وجہ سے شہری کو ریسٹورنٹ سے نکال دیا گیا، سوشل میڈیا پر ہنگامہ، لیکن دراصل کیا ہوا؟ تصویر کے دونوں رخ دیکھیے۔
عینی شاہدین کے بیانات
دوسری جانب شام کی نئی قیادت کی حمایت کرنے والے ایک ملک کے سفارتکار نے، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، اے ایف پی کو بتایا کہ 30 دسمبر کی شام واقعی صدارتی محل میں فائرنگ ہوئی تھی۔ اسی طرح سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے سربراہ رامی عبدالرحمن نے بھی اے ایف پی کو بتایا کہ اس شام محل کے اندر فائرنگ تقریباً بارہ منٹ تک جاری رہی، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: اقوام عالم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بلاتاخیر پاکستان کا ساتھ دے: محسن نقوی
درست معلومات کی تلاش
رامی عبدالرحمن کے مطابق یہ واقعہ صدر احمد الشراع کو نشانہ بنانے کے لیے نہیں تھا بلکہ محل کے اندر موجود افراد کے درمیان ایک اندرونی تنازع کے باعث پیش آیا۔ برطانیہ میں قائم سیریئن آبزرویٹری اپنے دعووں کے لیے شام کے اندر موجود ذرائع کے نیٹ ورک پر انحصار کرتی ہے。
صدر کی عوامی منظر پر غیر موجودگی
واضح رہے کہ شامی صدر احمد الشراع، جو عمومی طور پر کم ہی عوامی سطح پر نظر آتے ہیں، گزشتہ پیر کو ملک کی نئی کرنسی متعارف کرانے کے بعد سے کسی عوامی تقریب میں دکھائی نہیں دیے، جس کے باعث قیاس آرائیوں کو مزید تقویت ملی۔








