پروٹوکول عوام کو عزتِ نفس سے محروم کرنے کی سازش ہے، وی آئی پی کلچر بہت سی برائیوں کی جڑ ہے، قومی وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اسی کی وجہ سے ہے۔
مصنف کی شناخت
مصنف: رانا امیر احمد خاں
قسط: 269
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم اقتصادی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس میں شرکت کیلئے آذربائیجان روانہ
حکمرانوں کی حرکتیں اور وی آئی پی کلچر
ہمارے حکمرانوں کی حرکتیں فرعونوں جیسی ہیں جبکہ یہ بے عمل لوگ بزرگ ہستیوں کی مثالیں دیتے ہیں۔ پروٹوکول کا یہ غلیظ عمل نیم مردہ ضمیروں کے لیے کوئی مسئلہ نہیں، لیکن یہ عوام کو عزتِ نفس سے محروم کرنے کی مکروہ ترین سازش ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمر ایوب کی 9 مئی کے تین مقدمات میں عبوری ضمانت میں توسیع
تھانہ کلچر اور وی آئی پی کلچر
تھانہ کلچر حکمرانوں نے آج تک اس لیے ختم نہیں کیا کیونکہ یہ وی آئی پی کلچر کو تحفظ دیتا ہے۔ اس کلچر کے بنیادی مقاصد ناجائز وسائل، اختیارات اور جاہ و جلال حاصل کرنا ہیں۔ یہ حکمرانی کے کلیدی عہدوں پر جلوہ افروز ہونے کی خواہش ہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آسٹریلین کوچ رکی پونٹنگ نے پاک بھارت میچ سے متعلق سوشل میڈیا پر وائرل بیان کی تردید کر دی
عوام کی استحصال
وی آئی پی کلچر کے علم بردار “طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں” کے نعرے لگا کر معصوم غریب، لاچار، ناخواندہ عوام کو سیاست کی پیچیدگیوں سے بے خبر رکھ کر انہیں اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سونے کی فی تولہ قیمت میں 7100 روپے کمی
قومی وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم
وی آئی پی کلچر کی وجہ سے قومی وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم جاری ہے۔ قیام پاکستان سے لے کر آج تک تمام حکمران، چاہے وہ فوجی ہوں یا سیاسی، آئین اور قانون سے ہٹ کر اپنے اقتدار کو جاری رکھنے کے لیے کام کرتے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کیخلاف اسلام آباد میں کتنے مقدمات درج، تفصیلات عدالت میں جمع
نااہل لوگوں کی بھرتی
حکمران میرٹ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے نااہل لوگوں کی بھرتی، پرمٹ اور مال لگانے کی پالیسی اختیار کرتے ہیں۔ پولیس اور عدالتی نظام میں بھرتی کا طریقہ کار سیاسی لوگوں اور حکمرانوں کے سفارشیوں پر مبنی رہا ہے، جس کے نتیجے میں پولیس میں پیشہ ور ڈاکو اور چور بھرتی ہو چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: فتنۃ الخوارج کے خلاف کارروائی کے دوران شہید میجر سید معیز عباس شاہ کی نماز جنازہ ادا، آرمی چیف کی شرکت
معاشرتی اور معاشی ناانصافی
سندھ میں ایم کیو ایم کی تشکیل کا سبب کوٹہ سسٹم بن گیا، جس کے نتیجے میں ایک ایم اے پاس بچہ ریڑھی لگاتا نظر آتا ہے جبکہ نالائق وڈیرے کا بچہ افسر بن جاتا ہے۔ معاشرتی اور معاشی ناانصافیوں نے پوری قوم کو ذلیل کر کے رکھ دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کے عمران خان کیخلاف ہرجانے کے کیس میں اہم درخواست پر فیصلہ محفوظ
انصاف کی فراہمی
سفارت اور بیوروکریسی میں لوگ رشوت دے کر بھرتی ہوتے ہیں۔ انصاف مہنگا ہونے کی وجہ سے غریب کو انصاف ناممکن لگتا ہے۔ وقت کی ضرورت ہے کہ عدالتی نظام سے کرپشن کو ختم کر کے انصاف کی سادگی اور یکسانیت کو یقینی بنایا جائے۔
اختتام
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








