پروٹوکول عوام کو عزتِ نفس سے محروم کرنے کی سازش ہے، وی آئی پی کلچر بہت سی برائیوں کی جڑ ہے، قومی وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اسی کی وجہ سے ہے۔
مصنف کی شناخت
مصنف: رانا امیر احمد خاں
قسط: 269
یہ بھی پڑھیں: ملک میں رجسٹر ووٹرز کی تعداد کتنی ہے؟ الیکشن کمیشن نے اعداد و شمار جاری کردیئے
حکمرانوں کی حرکتیں اور وی آئی پی کلچر
ہمارے حکمرانوں کی حرکتیں فرعونوں جیسی ہیں جبکہ یہ بے عمل لوگ بزرگ ہستیوں کی مثالیں دیتے ہیں۔ پروٹوکول کا یہ غلیظ عمل نیم مردہ ضمیروں کے لیے کوئی مسئلہ نہیں، لیکن یہ عوام کو عزتِ نفس سے محروم کرنے کی مکروہ ترین سازش ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چمن میں زلزلہ
تھانہ کلچر اور وی آئی پی کلچر
تھانہ کلچر حکمرانوں نے آج تک اس لیے ختم نہیں کیا کیونکہ یہ وی آئی پی کلچر کو تحفظ دیتا ہے۔ اس کلچر کے بنیادی مقاصد ناجائز وسائل، اختیارات اور جاہ و جلال حاصل کرنا ہیں۔ یہ حکمرانی کے کلیدی عہدوں پر جلوہ افروز ہونے کی خواہش ہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آئندہ سال معاشی شرح نمو کا ہدف 4.2 فیصد، مہنگائی کا ہدف ساڑھے 7 فیصد مقرر
عوام کی استحصال
وی آئی پی کلچر کے علم بردار “طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں” کے نعرے لگا کر معصوم غریب، لاچار، ناخواندہ عوام کو سیاست کی پیچیدگیوں سے بے خبر رکھ کر انہیں اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے 27 ویں آئینی ترمیم کی تحریک پیش کردی
قومی وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم
وی آئی پی کلچر کی وجہ سے قومی وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم جاری ہے۔ قیام پاکستان سے لے کر آج تک تمام حکمران، چاہے وہ فوجی ہوں یا سیاسی، آئین اور قانون سے ہٹ کر اپنے اقتدار کو جاری رکھنے کے لیے کام کرتے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی، گھریلو جھگڑے پر شوہر نے بیوی کو ذبح کر دیا،ملزم آلہ قتل سمیت گرفتار
نااہل لوگوں کی بھرتی
حکمران میرٹ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے نااہل لوگوں کی بھرتی، پرمٹ اور مال لگانے کی پالیسی اختیار کرتے ہیں۔ پولیس اور عدالتی نظام میں بھرتی کا طریقہ کار سیاسی لوگوں اور حکمرانوں کے سفارشیوں پر مبنی رہا ہے، جس کے نتیجے میں پولیس میں پیشہ ور ڈاکو اور چور بھرتی ہو چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کی کابینہ کمیٹی برائے امن و امان کا دورۂ فیصل آباد، 4402 مجالس اور 1528 جلوسوں کیلئے تمام سیکیورٹی انتظامات مکمل
معاشرتی اور معاشی ناانصافی
سندھ میں ایم کیو ایم کی تشکیل کا سبب کوٹہ سسٹم بن گیا، جس کے نتیجے میں ایک ایم اے پاس بچہ ریڑھی لگاتا نظر آتا ہے جبکہ نالائق وڈیرے کا بچہ افسر بن جاتا ہے۔ معاشرتی اور معاشی ناانصافیوں نے پوری قوم کو ذلیل کر کے رکھ دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی والوں نے کل جو بویا وہی کاٹ رہے ہیں، تاریخ آپ کو وہ سب دکھا رہی ہے جو آپ مخالفین کے ساتھ کرتے آئے ہیں، عابد شیر علی
انصاف کی فراہمی
سفارت اور بیوروکریسی میں لوگ رشوت دے کر بھرتی ہوتے ہیں۔ انصاف مہنگا ہونے کی وجہ سے غریب کو انصاف ناممکن لگتا ہے۔ وقت کی ضرورت ہے کہ عدالتی نظام سے کرپشن کو ختم کر کے انصاف کی سادگی اور یکسانیت کو یقینی بنایا جائے۔
اختتام
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








