شام کو مغرب کے بعد آجایا کریں، آپ بھی سیراب ہوں، ”آپ نے یہ مقناطیسیت کہاں سے لی؟“ میں حیران پریشان لیکن اب کچھ جان میں جان آئی

مصنف: ع غ جانباز

قسط: 20

پھلجڑی نمبر 1

اٹھارہ بیس کا سَن ایک غیر یقینی سی صُورتحال ایک پاؤں خشکی پہ ایک پاؤں سمندر میں کھڑی کشتی میں۔ اگر خشکی میں عافیت جانی تو کشتی سے پاؤں اُٹھا لیا اور اگر خوش وقتی جوش مار گئی تو دھڑام سے کشتی میں کُود گئے۔ ہاں تو پہلے ہی کُود گئے؟ تمہید تو ابھی باندھی نہیں۔

مجھ سے سینئر محمد اسلم نامی لڑکا میٹرک پاس کر چکا تھا۔ اُن کی ایک خاص عادت پہلے ہی بتاتا چلوں۔ وہ یہ کہ وہ اکثر گاؤں کے باہر سیر سپاٹا کرتے نظر آتے۔ اُن کے ہاتھ میں ایک چھوٹے سائز کی ڈائری سی ہوتی۔ پوچھنے پر پتہ چلا کہ موصوف کے ہاتھ میں چھوٹے سائز کی ڈکشنری ہوتی ہے۔ اور اُنہوں نے اُس کو ایک سرے سے ازبر کرنا شروع کردیا ہے۔ ایک دن سرِ راہ اُن سے بات ہوئی کہ آپ اپنے علمی خزانے سے کچھ ہمیں بھی مرحمت فرمائیں تو کہنے لگے کہ سمندر سے چُلّو بھر پانی آپ لے لیں گے تو سمندر کی صحت پر کیا اثر پڑے گا، وہ ویسے ہی ٹھاٹھیں مارتا رہے گا۔ شام کو مغرب کے بعد آجایا کریں۔ آپ بھی سیراب ہولیں۔

اُن کا گھر اور حویلی ایک کھُلی جگہ پر محیط تھے۔ مین روڈ سے کافی اندر جا کر دو کمروں پر مشتمل گھر تھا۔ ایک میں فیملی رہائش پذیر تھی جسے ایک دیوار کھینچ کر باپردہ بنا دیا گیا تھا۔ دُوسرا بطور بیٹھک استعمال کرتے تھے۔ سامنے کُھلے صحن میں مویشی بندھے رہتے۔ اِس طرح وہاں آنا جانا ہوگیا۔ وقت گذرتا گیا اور ہم علم کی بلندیوں تک رسائی کے لیے ہاتھ پاؤں مارتے رہے۔ گرمیوں کی 3 ماہ کی چھٹیاں ہوتے ہی ساتھ والے رہائشی حصّے میں کچھ زیادہ ہی چہل پہل دکھائی دینے لگی۔

ہم بھی دماغ رکھتے تھے۔ سمجھنے میں کوئی اتنی دشواری نہ ہوئی کہ گرمیوں کی چھٹیوں نے اِس گھر کی کایا پلٹی ہے۔ پھر خود ہی کہا چلو بھئی آپ کا اِس سے کیا مطلب؟ مطلب نہ ہوتے ہوئے بھی ایک دو دفعہ دیوار کے اُوپر سے اپنی اِن معصوم آنکھوں سے اُدھر کی تصویر کشی ہوگئی۔ تصویر بھی کیا تھی؟ نا جانے بعض اجنبی چہرے بھی کیوں اتنی جلد شناسا سے لگنے لگتے ہیں۔

اور پھر اُن چہروں کو بھی داد دیجئے کہ جان نہ پہچان ٹھہر گئے ایک جگہ بُت بن کر۔ کہ کریں پرسِتش اُن بتُوں کی اپنا دین و ایمان تیاگ کر۔

ایک خاص ملاقات

ایک دن سامنے والی کھلی جگہ پر مغرب کے بعد ہلکے پھُلکے اندھیرے میں ایک پری پیکر پر نظر پڑی۔ خود سلام کرنے کی جرأت کہاں، دُوسری طرف سے ہی پہل ہوگئی۔ "کہیے آپ کیسے ہیں یہاں پڑھنے آتے ہیں؟" جواب دیا۔ جی ہاں! "علم کی پیاس یہاں کھینچ لائی ہے۔" کہنے لگیں "دیوار کے اُوپر سے آپ کی تصویر کشی کیا اسی تحصیل علم کا ایک باب ہے؟" اِدھر زباں گُنگ، زمیں جُنبد نہ جُنبد گل محمد کے مصداق…… خود ہی بُت بنے کھڑے رہے۔

پھر خود ہی پوچھنے لگیں۔ "آپ نے یہ مقناطیسیتّ کہاں سے لی؟" میں نے کہا "کونسی؟" کہنے لگیں "اَنجان بنتے ہو؟ مجھے تمہاری مقناطیسیتّ ہی تو کھینچ کر یہاں لائی ہے۔" میں حیران و پریشان لیکن اب کچھ میری جان میں جان آئی اور کہا ذرّہ نوازی کا شکریہ…… پوچھا "کیا تم بھی پڑھتی ہو؟" جواب دیا "ہاں میں بھی یہ گناہ کرتی ہوں۔" پوچھ بیٹھا "تم گناہگار لگتی تو نہیں؟" کہنے لگیں۔ "چہرہ شناسی کا علم سیکھو گے تو سب بھید کھل جائیں گے۔" پھر اچانک کہنے لگیں "اچھا باقی کل…… چلو بھاگ چلیں علم حاصل کرو کہیں لینے کے دینے نہ پڑ جائیں۔"

(جاری ہے)

نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...