پاکستانی شہری سے پسند کی شادی کرنے والی بھارتی خاتون کو بھارت روانہ کیوں نہ کیا جا سکا؟ وجہ سامنے آ گئی
بھارتی خاتون کی پاکستان سے واپسی
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستانی شہری سے پسند کی شادی کرنیوالی بھارتی خاتون کو بھارت روانہ کیوں نہیں کیا جا سکا؟ وجہ سامنے آ گئی۔
تفصیلات کے مطابق، بھارتی خاتون سربجیت کور کو واہگہ بارڈر پر لے جایا گیا، لیکن سفری کاغذات میں تکنیکی مسائل کی وجہ سے آج بھارت روانہ نہیں کیا جا سکا۔ 48 سالہ سربجیت سنگھ کور 4 نومبر کو بھارت سے سکھ یاتریوں کے ہمراہ پاکستان آئی تھی اور اس نے مبینہ طور پر اسلام قبول کر کے شیخوپورہ کے رہائشی ناصر حسین کے ساتھ پسند کی شادی کر لی تھی。
یہ بھی پڑھیں: کرکٹ میچ کے دوران امپائر انتقال کرگیا
واہگہ بارڈر پر مسائل
’’جیو نیوز‘‘ کے مطابق، سربجیت کور کو واہگہ بارڈر پر پریڈ کے بعد واپس بھارت روانہ کیا جانا تھا، تاہم سفری کاغذات میں کچھ تکنیکی مسائل کے باعث اس کی واپسی ممکن نہ ہو سکی۔ امکان ہے کہ سربجیت کور کو اب 6 جنوری کو واہگہ بارڈر کے راستے بھارت روانہ کیا جائے گا۔ بھارتی خاتون سربجیت کور کو دارالامان پہنچا دیا گیا ہے، تاہم بھارتی حکام کے حوالے کرنے سے متعلق ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا۔
یہ بھی پڑھیں: قاسم خان اور سلیمان نے والد عمران خان سے ملاقات کیلئے پاکستان آنے کا اعلان کر دیا
سربجیت کور کی قانونی حیثیت
سربجیت کور کے وکیل احمد حسن پاشا نے بتایا ہے کہ فارنرز ایکٹ 1946 کے تحت وہ فی الحال پاکستان میں قیام کی مجاز نہیں تھی، اسی لیے اسے واپس بھارت روانہ کیا جا رہا ہے۔ سربجیت کور اب بھارت سے سپاؤز ویزے پر دوبارہ پاکستان آ سکتی ہے، جس کے بعد وہ یہاں مستقل رہائش کی درخواست دے سکتی ہے۔
عدالت میں زیر سماعت کیس
دوسری جانب، سربجیت کور کے خلاف ہائیکورٹ میں کیس کی پیروی کرنے والے وکیل علی چنگیزی سندھو کا کہنا ہے کہ کیس تاحال عدالت میں زیر سماعت ہے۔ جسٹس فاروق حیدر نے 5 دسمبر کی سماعت کے دوران کیبنٹ ڈویژن، آئی جی پنجاب اور ایف آئی اے سمیت دیگر متعلقہ اداروں سے رپورٹس طلب کر رکھی ہیں۔








