بینک آف پنجاب کی طرف سے اربوں روپے کی زائد ادائیگیوں کے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی
بینک آف پنجاب کی وضاحت
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) بینک آف پنجاب کی طرف سے صارفین کو اربوں روپے کی زائد ادائیگیوں کے سوشل میڈیا پر کیے گئے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی مشہور گلوکار بادشاہ کو ون وے میں گاڑی چلانے پر بھاری جرمانہ کر دیا گیا
غلط خبروں کی حقیقت
بینک آف پنجاب پر سائبر حملے کے حوالے سے گردش کرنے والی غلط خبروں کی وضاحت دیتے ہوئے، بینک نے کہا ہے کہ معمول کی مانیٹرنگ کے دوران کچھ بے قاعدہ ٹرانزیکشنز کی نشاندہی کی گئی۔ اس کے بعد فوری طور پر داخلی جائزہ شروع کیا گیا۔ جائزے سے یہ بات ثابت ہوئی کہ یہ ٹرانزیکشنز ایک عارضی تکنیکی خرابی (Technical Glitch) کی وجہ سے ہوئی تھیں، جس نے بینک کے موجودہ صارفین کی ایک مخصوص تعداد کو غیر مجاز (un-authorized) ٹرانزیکشنز کرنے کے قابل بنا دیا۔
یہ بھی پڑھیں: زندگی بدلنے والی سبق آموز داستان
صارفین کی معلومات
یہ صارفین، جیسا کہ میڈیا کے کچھ حصوں میں رپورٹ کیا گیا ہے، کسی خاص سرکاری اسکیم یا پروگرام، بشمول "آسان کاروبار کارڈ" تک محدود نہیں تھے۔ بلکہ یہ مسئلہ عمومی طور پر بینک کے کریڈٹ کارڈ ہولڈرز کے ایک خاص گروپ کو متاثر کرتا ہے۔ یہ تکنیکی مسئلہ کسی سائبر حملے (Cyber-attack) کا نتیجہ نہیں تھا، اور سسٹم میں نشاندہی کی گئی خامی کو مکمل طور پر درست کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی کا اجلاس شام 5بجے طلب، 10نکاتی ایجنڈاجاری
سسٹم اپ ڈیٹ اور اقدامات
مزید برآں، جمعہ 2 جنوری 2026 کو ہونے والی سسٹم اپ ڈیٹ کا اس مخصوص کریڈٹ کارڈ مسئلے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بینک کے معیاری طریقہ کار کے مطابق وصولی (Recovery) کے اقدامات شروع کر دیا گیا ہے، اور جہاں زیادہ تر صارفین نے خود رابطہ کر کے حد سے زیادہ استعمال شدہ رقوم (over-limit amounts) کی ادائیگی شروع کر دی ہے، وہاں تمام ضروری اصلاحی اقدامات بھی عمل میں لائے جا رہے ہیں۔
مدعا کی حقیقت
اس معاملے میں شامل رقم کے حجم کے حوالے سے گردش کرنے والے دعوے انتہائی قیاس آرائیوں پر مبنی، مبالغہ آمیز اور غلط ہیں۔ صورتحال بینک کے لیے مکمل طور پر قابو میں ہے۔








