وزیراعظم نے اسٹیبلشمنٹ کو اعتماد میں لیکر آفر کی لیکن عمران خان مذاکرات نہیں چاہتے، رانا ثنااللہ
رانا ثنا اللہ کا بیان
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے لیڈر نواز شریف اور اسٹیبلشمنٹ کو اعتماد میں لیکر پی ٹی آئی کو مذاکرات کی آفر کی، لیکن ہمیں اندازہ ہے کہ عمران خان مذاکرات نہیں چاہتے۔
یہ بھی پڑھیں: آئی پی ایل، ویرات کوہلی کو گیند لگنے پر انوشکا شرما پریشان
ملاقات کا طریقہ کار
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز رپورٹ کے مطابق، رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ بینچ نے بانی پی ٹی آئی کی ملاقات کا طریقہ کار طے کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملاقات کے بعد سیاسی سرگرمیاں نہیں ہوں گی جس کی وجہ سے پریس کانفرنس اور لڑائیوں کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسحاق ڈار اور ترک وزیر خارجہ کا ٹیلیفونک رابطہ، پاک افغان کشیدگی پر تبادلہ خیال
عدالت کی یقین دہانی
انہوں نے مزید کہا کہ سلمان اکرم راجا نے عدالت کو طریقہ کار پر عمل درآمد کی یقین دہانی کرائی ہے۔ اگر ہائیکورٹ کے حکم کی جیل حکام پاسداری نہیں کر رہے تو انہیں عدالت کیوں نہیں جانا چاہئے؟
یہ بھی پڑھیں: افغانستان میں زلزلے کے بعد امدادی کارروائیاں جاری، برطانیہ کا دس لاکھ پاؤنڈ، افغان سرمایہ کار کا متاثرین کے لیے 50 کروڑ افغانی روپے کی امداد کا اعلان
اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی
ایک سوال کے جواب میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی پر حکومت کی نیت پر کسی قسم کا شک نہیں ہونا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ کا لاہور کے مختلف ڈویلپمنٹ پراجیکٹس کا دورہ، ”روٹ 47“ صرف سڑک نہیں سمارٹ ترقی کی نئی داستان ہے: مریم نواز
مذاکرات کی دعوت
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ وزیراعظم نے مذاکرات کی دعوت دی تاہم کہا گیا کہ ان کے پاس اختیار نہیں۔ وزیراعظم نے اسٹیبلشمنٹ اور نواز شریف کو اعتماد میں لے کر مذاکرات کی آفر کی ہے، آپ کو یہ قبول کرنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی حملے کے جواب میں ایران اسرائیل پر میزائل داغ سکتا ہے، اسرائیلی حکام نے شہریوں کو خبردار کردیا
اپوزیشن کا ردعمل
ان کا کہنا تھا کہ اب اپوزیشن کہتی ہے کہ ہم تحریک کا اعلان کرتے ہیں تو حکومت مذاکرات کی بات کرتی ہے۔ اپوزیشن سمجھتی ہے کہ ان کی تحریک کامیاب ہونے جا رہی ہے مگر وہ اس بات سے بھی آگاہ ہیں کہ حکومت انہیں ٹریپ کر رہی ہے۔
تحریک کے حوالے سے مستقبل کی حکمت عملی
سینئر رہنما مسلم لیگ ن نے کہا کہ اپوزیشن 5 فروری کو پہیہ جام کرے اور پھر دوبارہ بات کریں گے۔ انہیں یہ سمجھنا چاہئے کہ بانی پی ٹی آئی حکومت میں ہوں تو اپوزیشن سے بات نہیں کرتے، جس سے انہیں ریاست کے ساتھ ٹکراؤ کی پالیسی سے نقصان ہو سکتا ہے۔








