وزیراعظم نے اسٹیبلشمنٹ کو اعتماد میں لیکر آفر کی لیکن عمران خان مذاکرات نہیں چاہتے، رانا ثنااللہ
رانا ثنا اللہ کا بیان
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے لیڈر نواز شریف اور اسٹیبلشمنٹ کو اعتماد میں لیکر پی ٹی آئی کو مذاکرات کی آفر کی، لیکن ہمیں اندازہ ہے کہ عمران خان مذاکرات نہیں چاہتے۔
یہ بھی پڑھیں: چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا نے ’’ستھرا پنجاب پروگرام‘‘ ماڈل کی تفصیلات مانگی ہیں: عظمیٰ بخاری
ملاقات کا طریقہ کار
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز رپورٹ کے مطابق، رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ بینچ نے بانی پی ٹی آئی کی ملاقات کا طریقہ کار طے کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملاقات کے بعد سیاسی سرگرمیاں نہیں ہوں گی جس کی وجہ سے پریس کانفرنس اور لڑائیوں کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سید عاصم منیر کے دورہ امریکہ کی تردید، چیف آف ڈیفنس فورسز کے دورے سے متعلق رائٹرز کی خبر درست نہیں، ترجمان دفتر خارجہ کی وضاحت آگئی۔
عدالت کی یقین دہانی
انہوں نے مزید کہا کہ سلمان اکرم راجا نے عدالت کو طریقہ کار پر عمل درآمد کی یقین دہانی کرائی ہے۔ اگر ہائیکورٹ کے حکم کی جیل حکام پاسداری نہیں کر رہے تو انہیں عدالت کیوں نہیں جانا چاہئے؟
یہ بھی پڑھیں: معصوم بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کو بدترین تحفہ، 45ویں سالگرہ پر سزائے موت دے دی گئی
اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی
ایک سوال کے جواب میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی پر حکومت کی نیت پر کسی قسم کا شک نہیں ہونا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: شدید زخمی ہونے والی دلہن نے دولہا سے ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں شادی کر لی
مذاکرات کی دعوت
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ وزیراعظم نے مذاکرات کی دعوت دی تاہم کہا گیا کہ ان کے پاس اختیار نہیں۔ وزیراعظم نے اسٹیبلشمنٹ اور نواز شریف کو اعتماد میں لے کر مذاکرات کی آفر کی ہے، آپ کو یہ قبول کرنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: پہلگام فالس فلیگ حملے کے بعد مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں پر مظالم بڑھا دیئے، نیو یارک ٹائمز نے پردہ فاش کردیا
اپوزیشن کا ردعمل
ان کا کہنا تھا کہ اب اپوزیشن کہتی ہے کہ ہم تحریک کا اعلان کرتے ہیں تو حکومت مذاکرات کی بات کرتی ہے۔ اپوزیشن سمجھتی ہے کہ ان کی تحریک کامیاب ہونے جا رہی ہے مگر وہ اس بات سے بھی آگاہ ہیں کہ حکومت انہیں ٹریپ کر رہی ہے۔
تحریک کے حوالے سے مستقبل کی حکمت عملی
سینئر رہنما مسلم لیگ ن نے کہا کہ اپوزیشن 5 فروری کو پہیہ جام کرے اور پھر دوبارہ بات کریں گے۔ انہیں یہ سمجھنا چاہئے کہ بانی پی ٹی آئی حکومت میں ہوں تو اپوزیشن سے بات نہیں کرتے، جس سے انہیں ریاست کے ساتھ ٹکراؤ کی پالیسی سے نقصان ہو سکتا ہے۔








