وزیراعلیٰ کی ترقیاتی منصوبوں بالخصوص صاف پانی سکیم کی بروقت تکمیل کی ہدایت
وزیراعلیٰ پنجاب کی معذرت
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے عوام کو سڑکوں میں کھدائی کی وجہ سے ہونے والی تکلیف پر معذرت کر لی۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیشی فوج نے استعفیٰ مانگا تو شیخ حسینہ واجد نے کیا جواب دیا؟ چیف پراسیکیوٹر محمد تاج الاسلام نے تفصیلات شیئر کردیں۔
اجلاس کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب نے خصوصی اجلاس کی صدارت کی جس میں تین گھنٹے تک پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام، لاہور ڈویلپمنٹ پروگرام، مثالی گاؤں، پی ایچ اے، صاف پانی اور دیہی روڈ منصوبوں پر پیشرفت کی جانچ کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ اپنے دور میں مسئلہ کشمیر حل کر سکیں گے: امریکی محکمہ خارجہ نے امید ظاہر کر دی
عوامی شکایات کا ازالہ
وزیراعلیٰ مریم نواز نے سڑکوں میں کھدائی کے باعث عوام کی مشکلات پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ فلٹر پلانٹس سے متعلق عوامی شکایات موصول ہوئی ہیں۔ ان شکایات کے فوری حل کے لیے متاثرہ علاقوں میں واٹر فلٹریشن پلانٹس کو ترجیحی بنیادوں پر نصب کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں مشتعل ہجوم کے ہاتھوں 3 بنگلہ دیشیوں کا بہیمانہ قتل، ڈھاکہ کا رد عمل بھی آ گیا
صاف پانی کی فراہمی کی ہدایت
اجلاس میں یہ ہدایت دی گئی کہ واٹر بوٹلنگ پلانٹس اور واٹر فلٹریشن پلانٹس کی تعمیر و بحالی 30 جون تک مکمل کی جائے۔ ڈیرہ غازی خان، خوشاب، رحیم یار خان اور بہاولپور میں عوام کو گھر کی دہلیز پر صاف پانی فراہم کیا جائے گا۔ لاہور کینال کی فوری صفائی اور بارش کے بعد پانی کے نکاس کی منصوبہ بندی بھی کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا واقعی پاکستان کا ایف 16 طیارہ چوری ہوگیا؟ بھارتیوں کا ایسا مضحکہ خیز دعویٰ کہ ہر کوئی ہنس کر لوٹ پوٹ ہو جائے
منصوبوں کا جائزہ
اجلاس میں بتایا گیا کہ روڈ بحالی کے 1529 منصوبوں کے تحت 4031 کلومیٹر سڑکوں کی تعمیر و مرمت ہوگی۔ مثالی گاؤں پراجیکٹ کے تحت پنجاب کے 224 دیہات میں کام کا آغاز ہو چکا ہے جبکہ 469 دیہات میں واٹر سپلائی، چلڈرن پارکس اور سٹریٹ لائٹس نصب کی جائیں گی۔ منصوبوں کی مؤثر نگرانی کے لیے لائیو ڈیش بورڈ قائم کرنے کی ہدایت دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: چین نے دن کے وقت چاند پر لیزر شعاع بھیج کر خلائی تحقیق میں نئی تاریخ رقم کر دی
لاہور ڈویلپمنٹ پراجیکٹ
لاہور ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کے پہلے فیز کی تکمیل اور دوسرے فیز کو 30 اپریل تک مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ نے سات شہروں میں ڈویلپمنٹ پراجیکٹس کو اپریل تک مکمل کرنے کے احکامات دیے۔ پی ایچ اے کی مالی خودمختاری کے بارے میں تفصیلات طلب کی گئیں اور ریسورس جنریشن پلان بنانے کی ہدایت بھی کی گئی۔
پروجیکٹس کی رفتار
اجلاس میں بتایا گیا کہ اپنی چھت، اپنا گھر پراجیکٹ کی دوسری قسط فوری جاری کی جا رہی ہے اور روزانہ 700 مکانات تعمیر ہو رہے ہیں۔ 52 شہروں میں 204 ارب روپے کی لاگت سے تعمیر و مرمت کے منصوبے 22 فروری تک شروع ہوں گے۔ ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس، فلٹر پلانٹس کی مرمت اور واٹر فلٹریشن پلانٹس 30 جون تک مکمل کیے جائیں گے。








