ٹیکس وصولی میں تنخواہ دار طبقہ سرفہرست، نصف سال میں 266 ارب روپے جمع کروائے

تنخواہ دار طبقہ اور ٹیکس کی صورتحال

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے جاری کردہ سرکاری اعداد و شمار کےمطابق تنخواہ دار طبقہ بدستور ٹیکس بوجھ کا سب سے بڑا حصہ برداشت کر رہا ہے اور رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران تنخواہ دار طبقے نے قومی خزانے میں نمایاں طور پر زیادہ رقم جمع کرائی ۔

یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ: بولان میڈیکل کمپلیکس میں 4 ارب 15کروڑ روپے کی بے قاعدگیوں کا انکشاف

انکم ٹیکس کی وصولی

نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق جاری مالی سال کے ابتدائی چھ ماہ میں تنخواہ دار طبقے نے مجموعی طور پر 266 ارب روپے انکم ٹیکس کی مد میں ادا کیے، جو گزشتہ سال اسی مدت کے مقابلے میں 23 ارب روپے زیادہ ہیں۔ اس اضافے سے ایک بار پھر ثابت ہوتا ہے کہ براہِ راست ٹیکسوں میں سب سے بڑا حصہ تنخواہ دار افراد ادا کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پہلا چالان معاف ۔۔۔ دوبارہ خلاف ورزی پر ادا کرنا ہوگا،پولیس بھی قانون سے بالاتر نہیں: وزیراعلیٰ سندھ

ٹیکس کی شرح اور دباؤ

ایف بی آر کے اعداد و شمار کے مطابق تنخواہ دار افراد کو اپنی مجموعی آمدن کا 38 فیصد تک ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے۔ حکام کے مطابق مہنگائی اور بڑھتے ہوئے اخراجات کے دباؤ کے باوجود تنخواہوں سے ٹیکس کی کٹوتی بلا تعطل جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیسز میں پرسنل نہ ہوا کریں، چھوڑ دیں قاضی صاحب کی جان، جسٹس مسرت ہلالی کا وکیل درخواستگزار سے مکالمہ، قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف دائر نظرثانی درخواست خارج

نان کارپوریٹ تنخواہ دار ملازمین

نان کارپوریٹ تنخواہ دار ملازمین نے چھ ماہ کی مدت کے دوران 117 ارب روپے ٹیکس ادا کیا۔ اس شعبے سے ٹیکس وصولی میں 14 فیصد اضافہ ہوا، نان کارپوریٹ ملازمین نے گزشتہ سال کے مقابلے میں 23 ارب روپے زیادہ ٹیکس ادا کیا۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب اسمبلی سیکریٹریٹ نے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور وفد کے داخلے کی منظوری دیدی

کارپوریٹ ملازمین کی ٹیکس ادائیگی

کارپوریٹ شعبے میں کام کرنے والے ملازمین نے مالی سال کے پہلے نصف حصے کے دوران 82 ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا، ایف بی آر کے مطابق کارپوریٹ ملازمین کی جانب سے ٹیکس ادائیگی میں گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 13 فیصد اضافہ ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: گائے کی لات لگنے سے نوجوان جاں بحق، مختلف واقعات میں 144 افراد زخمی

ریئل اسٹیٹ کے شعبے کی کارکردگی

ریئل اسٹیٹ کے شعبے سے ٹیکس وصولی میں بھی نمایاں بہتری ریکارڈ کی گئی۔ چھ ماہ کے دوران 126 ارب روپے ودہولڈنگ ٹیکس جمع کیا گیا۔

ایف بی آر کے اعدادوشمار کے مطابق پلاٹس کی فروخت پر ٹیکس کی وصولی میں 66 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 87 ارب روپے تک پہنچ گئی۔ اس کے علاوہ، پلاٹس کی خریداری پر ودہولڈنگ ٹیکس میں 29 فیصد اضافہ ہوا اور یہ ریکارڈ سطح 39 ارب روپے تک پہنچ گیا۔

یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ تعلیم کے میدان میں بہت آگے ہے، خواتین کیلئے یونیورسٹی اور میڈیکل کالج بھی ہے،یہاں گزرا ایک ایک دن خوبصورت لمحات کی یاد دلاتا ہے

صوبائی اور وفاقی حکومت کے ملازمین

صوبائی حکومت کے ملازمین کی جانب سے ادا کیے گئے انکم ٹیکس میں گزشتہ مدت کے مقابلے میں 39 ارب روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے برعکس، وفاقی حکومت کے ملازمین سے انکم ٹیکس کی وصولی میں 8 فیصد اضافہ ہوا اور چھ ماہ میں یہ 27 ارب روپے تک پہنچ گئی۔

مجموعی انکم ٹیکس کی وصولی

ایف بی آر کے مطابق جولائی سے دسمبر 2025 تک مجموعی انکم ٹیکس کی وصولی 3,000 ارب روپے سے تجاوز کر گئی، تاہم تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں نہیں لایا جا سکا، اور اس مالدار طبقے سے وصولیوں میں کوئی بہتری نہیں آئی۔

صرف تنخواہ دار طبقے نے ہی ملک بھرمیں جمع ہونے والے کل انکم ٹیکس کا تقریباً 10 فیصد حصہ فراہم کیا، گزشتہ مالی سال میں تنخواہ دار طبقے نے کل 555 ارب روپے ٹیکس ادا کیے۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...