ٹیکس وصولی میں تنخواہ دار طبقہ سرفہرست، نصف سال میں 266 ارب روپے جمع کروائے

تنخواہ دار طبقہ اور ٹیکس کی صورتحال

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے جاری کردہ سرکاری اعداد و شمار کےمطابق تنخواہ دار طبقہ بدستور ٹیکس بوجھ کا سب سے بڑا حصہ برداشت کر رہا ہے اور رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران تنخواہ دار طبقے نے قومی خزانے میں نمایاں طور پر زیادہ رقم جمع کرائی ۔

یہ بھی پڑھیں: ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی، 6 دنوں میں 2600 پولیس اہلکاروں کو ٹریفک چالان جاری

انکم ٹیکس کی وصولی

نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق جاری مالی سال کے ابتدائی چھ ماہ میں تنخواہ دار طبقے نے مجموعی طور پر 266 ارب روپے انکم ٹیکس کی مد میں ادا کیے، جو گزشتہ سال اسی مدت کے مقابلے میں 23 ارب روپے زیادہ ہیں۔ اس اضافے سے ایک بار پھر ثابت ہوتا ہے کہ براہِ راست ٹیکسوں میں سب سے بڑا حصہ تنخواہ دار افراد ادا کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایکنک نے 355 ارب روپے سے زائد کے 9 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دیدی

ٹیکس کی شرح اور دباؤ

ایف بی آر کے اعداد و شمار کے مطابق تنخواہ دار افراد کو اپنی مجموعی آمدن کا 38 فیصد تک ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے۔ حکام کے مطابق مہنگائی اور بڑھتے ہوئے اخراجات کے دباؤ کے باوجود تنخواہوں سے ٹیکس کی کٹوتی بلا تعطل جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مرغی کے گوشت کی قیمت میں بڑا اضافہ

نان کارپوریٹ تنخواہ دار ملازمین

نان کارپوریٹ تنخواہ دار ملازمین نے چھ ماہ کی مدت کے دوران 117 ارب روپے ٹیکس ادا کیا۔ اس شعبے سے ٹیکس وصولی میں 14 فیصد اضافہ ہوا، نان کارپوریٹ ملازمین نے گزشتہ سال کے مقابلے میں 23 ارب روپے زیادہ ٹیکس ادا کیا۔

یہ بھی پڑھیں: علی امین گنڈاپور گاڑی سے اتر کر پیدل قافلے میں شامل ہو گئے

کارپوریٹ ملازمین کی ٹیکس ادائیگی

کارپوریٹ شعبے میں کام کرنے والے ملازمین نے مالی سال کے پہلے نصف حصے کے دوران 82 ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا، ایف بی آر کے مطابق کارپوریٹ ملازمین کی جانب سے ٹیکس ادائیگی میں گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 13 فیصد اضافہ ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: عالمی برادری تسلیم کرتی ہے کہ پاکستان کا دہشتگردی سے کوئی تعلق نہیں: بلاول بھٹو

ریئل اسٹیٹ کے شعبے کی کارکردگی

ریئل اسٹیٹ کے شعبے سے ٹیکس وصولی میں بھی نمایاں بہتری ریکارڈ کی گئی۔ چھ ماہ کے دوران 126 ارب روپے ودہولڈنگ ٹیکس جمع کیا گیا۔

ایف بی آر کے اعدادوشمار کے مطابق پلاٹس کی فروخت پر ٹیکس کی وصولی میں 66 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 87 ارب روپے تک پہنچ گئی۔ اس کے علاوہ، پلاٹس کی خریداری پر ودہولڈنگ ٹیکس میں 29 فیصد اضافہ ہوا اور یہ ریکارڈ سطح 39 ارب روپے تک پہنچ گیا۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور میں بھائیوں نے غیرت کے نام پر اپنی ماں اور بہن کو گلا کاٹ کر قتل کر دیا

صوبائی اور وفاقی حکومت کے ملازمین

صوبائی حکومت کے ملازمین کی جانب سے ادا کیے گئے انکم ٹیکس میں گزشتہ مدت کے مقابلے میں 39 ارب روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے برعکس، وفاقی حکومت کے ملازمین سے انکم ٹیکس کی وصولی میں 8 فیصد اضافہ ہوا اور چھ ماہ میں یہ 27 ارب روپے تک پہنچ گئی۔

مجموعی انکم ٹیکس کی وصولی

ایف بی آر کے مطابق جولائی سے دسمبر 2025 تک مجموعی انکم ٹیکس کی وصولی 3,000 ارب روپے سے تجاوز کر گئی، تاہم تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں نہیں لایا جا سکا، اور اس مالدار طبقے سے وصولیوں میں کوئی بہتری نہیں آئی۔

صرف تنخواہ دار طبقے نے ہی ملک بھرمیں جمع ہونے والے کل انکم ٹیکس کا تقریباً 10 فیصد حصہ فراہم کیا، گزشتہ مالی سال میں تنخواہ دار طبقے نے کل 555 ارب روپے ٹیکس ادا کیے۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...