استعمال شدہ موبائل فونز کی درآمد پر پابندی عائد کرنے کا منصوبہ
نئی موبائل اور الیکٹرانک ڈیوائسز مینوفیکچرنگ پالیسی
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی حکومت نے نئی موبائل اور الیکٹرانک ڈیوائسز مینوفیکچرنگ پالیسی 2026-33 کے تحت استعمال شدہ موبائل فونز کی درآمد پر پابندی عائد کرنے کا منصوبہ بنا لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سیکیورٹی فورسز نے افغان سرحد کے راستے دراندازی کی کوشش ناکام بنا دی، 33 بھارتی سپانسرڈ خوارج جہنم واصل
پالیسی کا اعلان
نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق اس پالیسی کا اعلان پیر کے روز وزارتِ صنعت و پیداوار کی جانب سے کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ میں بم دھماکہ، ایک شخص ہلاک
مقامی مینوفیکچرنگ کی تحریک
یہ پالیسی انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی) نے مقامی موبائل فون مینوفیکچررز کے اشتراک سے تیار کی ہے، جس کا مقصد عالمی برانڈز کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی ترغیب دینا اور مقامی مینوفیکچرنگ کے ذریعے برآمدات پر مبنی ترقی کو فروغ دینا ہے۔ پالیسی کی تیاری میں بھارت، ویتنام اور بنگلہ دیش جیسے ممالک کے ماڈلز کو مدنظر رکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لندن روڈ: وہ سڑک جو کبھی یورپ سے آنے والوں کے لیے پاکستان کا دروازہ رہی
اعلیٰ سطحی اجلاس
پالیسی کو صنعت و پیداوار سے متعلق وزیراعظم کے معاونِ خصوصی ہارون اختر خان کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس میں پیش کیا گیا، جس میں پالیسی کے مقاصد، پیش رفت اور نفاذ کے طریقہ کار پر غور کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایک گھنٹہ انٹرنیٹ کی بندش سے آئی ٹی کو کتنے لاکھ ڈالر کا نقصان ہوتا ہے، چیئرمین پاشانے قائمہ کمیٹی میں اعدادوشمار شیئر کردیئے
اجلاس کی تفصیلات
اجلاس کے دوران پالیسی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، جس میں مکمل درآمدی موبائل فونز کے مقابلے میں مقامی اسمبلنگ کے فوائد کا جائزہ بھی شامل تھا۔
یہ بھی پڑھیں: متحدہ عرب امارات میں عید میلاد النبیﷺ کے موقع پر سرکاری و نجی ملازمین کے لیے 3 چھٹیوں کا اعلان
مقامی روزگار کے مواقع
ہارون اختر خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس پالیسی کا بنیادی مقصد مقامی روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور پاکستان کے صنعتی ڈھانچے کو مضبوط بنانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دہلی ہائیکورٹ نے اے آئی پلیٹ فارمز کو بالی ووڈ اداکارہ ایشوریا رائے کی تصاویر، نام اور آواز کو بغیر اجازت استعمال کرنے سے روک دیا
پالیسی فریم ورک
پالیسی فریم ورک کے تحت لازمی برآمدی اہداف کو غیر مؤثر قرار دیا گیا ہے اور آٹو سیکٹر کی مثال دیتے ہوئے کہا گیا کہ اس طرز کی شرائط نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوتیں۔ برآمدات کے لیے معیار کی تصدیق کو ضروری قرار دیا گیا ہے تاہم اسے زبردستی نافذ کرنے کی بجائے سہولت فراہم کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب پراپرٹی اونر شپ آرڈیننس مظلوم لوگوں کےلئے امید کی کرن بن رہا تھا، عدالتی سٹے آرڈر افسوسناک اور انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے،خواجہ سعد رفیق
مقامی ٹیسٹنگ لیبارٹریوں کا قیام
پالیسی میں سرکاری سطح پر مقامی ٹیسٹنگ لیبارٹریوں کے قیام کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جسٹس عابد عزیز شیخ نے لاہور ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس کا حلف اٹھا لیا
کارکردگی اہداف
پالیسی کے مطابق کارکردگی اہداف سے منسلک جرمانے تجویز کیے گئے ہیں جبکہ ای ڈی بی کو اسمبلنگ کے لیے کم از کم پرزہ جات کی تعداد مقرر کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گل پلازہ سانحہ پر بات کرتے کرتے آپ اٹھارویں ترمیم پر بات کرنے لگے ہیں، شازیہ مری۔
اسمارٹ اور فیچر فونز کے لئے لازمی پرزہ جات
اسمارٹ فونز کے لیے ایس کے ڈی کٹ میں 40 جبکہ فیچر فونز کے لیے 15 پرزہ جات لازمی ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی میں زیرزمین پائپ لائن سے کروڑوں روپے کا کروڈ آئل چوری ہونے کا انکشاف
انڈر انوائسنگ کی روک تھام
انڈر انوائسنگ کی روک تھام کے لیے مکمل تیار شدہ موبائل فونز (سی بی یو) اور مقامی طور پر تیار کردہ موبائل فونز کو سیلز ٹیکس کے تھرڈ شیڈول میں شامل کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جبکہ برآمدی اہداف کو ٹیکس انکریمنٹ فنانسنگ (ٹی آئی ایف) کے نفاذ سے منسلک کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔
ٹیرف فرق اور ای ویسٹ مینجمنٹ
پالیسی میں سی بی یو اور ایس کے ڈی درآمدات کے درمیان کم از کم 30 فیصد ٹیرف فرق رکھنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ ٹی آئی ایف لیوی کے اطلاق کو دونوں اقسام کی درآمدات تک وسعت دینے پر بھی غور کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ای ویسٹ مینجمنٹ کو ایک پیچیدہ مسئلہ قرار دیتے ہوئے اس کے لیے محتاط حکمتِ عملی اختیار کرنے پر زور دیا گیا ہے۔








