استعمال شدہ موبائل فونز کی درآمد پر پابندی عائد کرنے کا منصوبہ
نئی موبائل اور الیکٹرانک ڈیوائسز مینوفیکچرنگ پالیسی
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی حکومت نے نئی موبائل اور الیکٹرانک ڈیوائسز مینوفیکچرنگ پالیسی 2026-33 کے تحت استعمال شدہ موبائل فونز کی درآمد پر پابندی عائد کرنے کا منصوبہ بنا لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم سمیت اہم شخصیات کی سکیورٹی فورسز کی گاڑی پر حملہ کی مذمت
پالیسی کا اعلان
نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق اس پالیسی کا اعلان پیر کے روز وزارتِ صنعت و پیداوار کی جانب سے کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان سمیت 21 مسلم ممالک نے اسرائیل کا صومالی لینڈ کو تسلیم کرنا مسترد کر دیا
مقامی مینوفیکچرنگ کی تحریک
یہ پالیسی انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی) نے مقامی موبائل فون مینوفیکچررز کے اشتراک سے تیار کی ہے، جس کا مقصد عالمی برانڈز کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی ترغیب دینا اور مقامی مینوفیکچرنگ کے ذریعے برآمدات پر مبنی ترقی کو فروغ دینا ہے۔ پالیسی کی تیاری میں بھارت، ویتنام اور بنگلہ دیش جیسے ممالک کے ماڈلز کو مدنظر رکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: علما کی ٹارگٹ کلنگ کی منصوبہ بندی مقامی سطح پر کیے جانے کا انکشاف، تفصیلات سامنے آگئیں.
اعلیٰ سطحی اجلاس
پالیسی کو صنعت و پیداوار سے متعلق وزیراعظم کے معاونِ خصوصی ہارون اختر خان کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس میں پیش کیا گیا، جس میں پالیسی کے مقاصد، پیش رفت اور نفاذ کے طریقہ کار پر غور کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کو گزشتہ دو ہفتوں سے قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، بیرسٹر سیف کا دعویٰ
اجلاس کی تفصیلات
اجلاس کے دوران پالیسی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، جس میں مکمل درآمدی موبائل فونز کے مقابلے میں مقامی اسمبلنگ کے فوائد کا جائزہ بھی شامل تھا۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے اہم بیان جاری کر دیا
مقامی روزگار کے مواقع
ہارون اختر خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس پالیسی کا بنیادی مقصد مقامی روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور پاکستان کے صنعتی ڈھانچے کو مضبوط بنانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کے معروف 36 سالہ اداکار نے خود کشی کرلی
پالیسی فریم ورک
پالیسی فریم ورک کے تحت لازمی برآمدی اہداف کو غیر مؤثر قرار دیا گیا ہے اور آٹو سیکٹر کی مثال دیتے ہوئے کہا گیا کہ اس طرز کی شرائط نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوتیں۔ برآمدات کے لیے معیار کی تصدیق کو ضروری قرار دیا گیا ہے تاہم اسے زبردستی نافذ کرنے کی بجائے سہولت فراہم کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: سوڈان، بازار پر ڈرون حملے میں 28 افراد ہلاک
مقامی ٹیسٹنگ لیبارٹریوں کا قیام
پالیسی میں سرکاری سطح پر مقامی ٹیسٹنگ لیبارٹریوں کے قیام کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کا لمبی اننگ کھیلنے کا ارادہ ہے، پی ٹی آئی مذاکرات چاہتی ہے تو اسمبلی آنا ہوگا، ایاز صادق
کارکردگی اہداف
پالیسی کے مطابق کارکردگی اہداف سے منسلک جرمانے تجویز کیے گئے ہیں جبکہ ای ڈی بی کو اسمبلنگ کے لیے کم از کم پرزہ جات کی تعداد مقرر کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جمرود میں ٹریفک کے المناک حادثے میں دولہا سمیت 4 افراد جاں بحق
اسمارٹ اور فیچر فونز کے لئے لازمی پرزہ جات
اسمارٹ فونز کے لیے ایس کے ڈی کٹ میں 40 جبکہ فیچر فونز کے لیے 15 پرزہ جات لازمی ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ کی 6 ماہ سے “غائب” خاتون رکنِ کانگریس ایسی جگہ سے مل گئی کہ ہنگامہ برپا ہوگیا
انڈر انوائسنگ کی روک تھام
انڈر انوائسنگ کی روک تھام کے لیے مکمل تیار شدہ موبائل فونز (سی بی یو) اور مقامی طور پر تیار کردہ موبائل فونز کو سیلز ٹیکس کے تھرڈ شیڈول میں شامل کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جبکہ برآمدی اہداف کو ٹیکس انکریمنٹ فنانسنگ (ٹی آئی ایف) کے نفاذ سے منسلک کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔
ٹیرف فرق اور ای ویسٹ مینجمنٹ
پالیسی میں سی بی یو اور ایس کے ڈی درآمدات کے درمیان کم از کم 30 فیصد ٹیرف فرق رکھنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ ٹی آئی ایف لیوی کے اطلاق کو دونوں اقسام کی درآمدات تک وسعت دینے پر بھی غور کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ای ویسٹ مینجمنٹ کو ایک پیچیدہ مسئلہ قرار دیتے ہوئے اس کے لیے محتاط حکمتِ عملی اختیار کرنے پر زور دیا گیا ہے۔








