استعمال شدہ موبائل فونز کی درآمد پر پابندی عائد کرنے کا منصوبہ
نئی موبائل اور الیکٹرانک ڈیوائسز مینوفیکچرنگ پالیسی
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی حکومت نے نئی موبائل اور الیکٹرانک ڈیوائسز مینوفیکچرنگ پالیسی 2026-33 کے تحت استعمال شدہ موبائل فونز کی درآمد پر پابندی عائد کرنے کا منصوبہ بنا لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ملک بھر کے صارفین کے لیے بجلی کی قیمت میں کمی
پالیسی کا اعلان
نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق اس پالیسی کا اعلان پیر کے روز وزارتِ صنعت و پیداوار کی جانب سے کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: آئرلینڈ کا آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کے لیے اپنے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان
مقامی مینوفیکچرنگ کی تحریک
یہ پالیسی انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی) نے مقامی موبائل فون مینوفیکچررز کے اشتراک سے تیار کی ہے، جس کا مقصد عالمی برانڈز کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی ترغیب دینا اور مقامی مینوفیکچرنگ کے ذریعے برآمدات پر مبنی ترقی کو فروغ دینا ہے۔ پالیسی کی تیاری میں بھارت، ویتنام اور بنگلہ دیش جیسے ممالک کے ماڈلز کو مدنظر رکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: توشہ خانہ سے سستی گھڑی خریدنے کی غلط خبر دینے پر نجی ٹی وی نے مریم نواز سے معذرت کرلی
اعلیٰ سطحی اجلاس
پالیسی کو صنعت و پیداوار سے متعلق وزیراعظم کے معاونِ خصوصی ہارون اختر خان کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس میں پیش کیا گیا، جس میں پالیسی کے مقاصد، پیش رفت اور نفاذ کے طریقہ کار پر غور کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: بنوں میں سی ٹی ڈی کی کارروائی، فتنہ الخوارج کے انتہائی مطلوب 2 ٹارگٹ کلرز ہلاک
اجلاس کی تفصیلات
اجلاس کے دوران پالیسی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، جس میں مکمل درآمدی موبائل فونز کے مقابلے میں مقامی اسمبلنگ کے فوائد کا جائزہ بھی شامل تھا۔
یہ بھی پڑھیں: منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے
مقامی روزگار کے مواقع
ہارون اختر خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس پالیسی کا بنیادی مقصد مقامی روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور پاکستان کے صنعتی ڈھانچے کو مضبوط بنانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی میں سفاک ملزم نے باپ اور 2 بہنوں کو قتل کردیا، کمسن بھانجے کو ذبح، حالت نازک
پالیسی فریم ورک
پالیسی فریم ورک کے تحت لازمی برآمدی اہداف کو غیر مؤثر قرار دیا گیا ہے اور آٹو سیکٹر کی مثال دیتے ہوئے کہا گیا کہ اس طرز کی شرائط نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوتیں۔ برآمدات کے لیے معیار کی تصدیق کو ضروری قرار دیا گیا ہے تاہم اسے زبردستی نافذ کرنے کی بجائے سہولت فراہم کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: اگر بھارت سے مذاکرات ہوئے تو پانی، دہشتگردی اور کشمیر پر بات ہوگی: وزیر دفاع
مقامی ٹیسٹنگ لیبارٹریوں کا قیام
پالیسی میں سرکاری سطح پر مقامی ٹیسٹنگ لیبارٹریوں کے قیام کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت کب تک الیکٹرک گاڑیوں سے متعلق نئی پالیسی لانے کا فیصلہ کرچکی ہے؟ وفاقی وزیر نے بتادیا
کارکردگی اہداف
پالیسی کے مطابق کارکردگی اہداف سے منسلک جرمانے تجویز کیے گئے ہیں جبکہ ای ڈی بی کو اسمبلنگ کے لیے کم از کم پرزہ جات کی تعداد مقرر کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: برطانوی سپریم کورٹ کا ٹرانس جینڈر کو عورت ماننے سے انکار
اسمارٹ اور فیچر فونز کے لئے لازمی پرزہ جات
اسمارٹ فونز کے لیے ایس کے ڈی کٹ میں 40 جبکہ فیچر فونز کے لیے 15 پرزہ جات لازمی ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: چوری، دھمکیاں اور ہراساں کرنے کا مقدمہ، 5سالہ بچہ اپنی ضمانت کروانے ملیر، کراچی کی عدالت پہنچ گیا
انڈر انوائسنگ کی روک تھام
انڈر انوائسنگ کی روک تھام کے لیے مکمل تیار شدہ موبائل فونز (سی بی یو) اور مقامی طور پر تیار کردہ موبائل فونز کو سیلز ٹیکس کے تھرڈ شیڈول میں شامل کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جبکہ برآمدی اہداف کو ٹیکس انکریمنٹ فنانسنگ (ٹی آئی ایف) کے نفاذ سے منسلک کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔
ٹیرف فرق اور ای ویسٹ مینجمنٹ
پالیسی میں سی بی یو اور ایس کے ڈی درآمدات کے درمیان کم از کم 30 فیصد ٹیرف فرق رکھنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ ٹی آئی ایف لیوی کے اطلاق کو دونوں اقسام کی درآمدات تک وسعت دینے پر بھی غور کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ای ویسٹ مینجمنٹ کو ایک پیچیدہ مسئلہ قرار دیتے ہوئے اس کے لیے محتاط حکمتِ عملی اختیار کرنے پر زور دیا گیا ہے۔








