خیبرپختونخوا میں دہشتگردوں کو سازگار سیاسی ماحول فراہم کیا جاتا ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر
راولپنڈی کی صورتحال
راولپنڈی(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ دہشتگردی کے 80 فیصد واقعات خیبر پختونخوا میں ہوئے، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں دہشتگردوں کو سازگار سیاسی ماحول فراہم کیا جاتا ہے اور وہاں سیاسی اور دہشت گردانہ گٹھ جوڑ نشونما پا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شادی کی تقریب کے دوران دولہا غائب، کئی مہینوں بعد سراغ ملا تو ایسا انکشاف کہ دلہن کی ساری خوشیوں پر پانی پھر گیا
پریس کانفرنس کی اہمیت
ڈی جی آئی ایس پی آر اپنی اہم پریس کانفرنس میں سیکیورٹی صورتحال اور دیگر اہم امور کے حوالے سے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نیوز کانفرنس کا مقصد دہشت گردی کے خلاف اقدامات کا احاطہ کرنا ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی جنگ ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ریاست اور عوام کے درمیان ہم آہنگی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سولر پینلز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس، قیمت میں 3200 روپے تک کا اضافہ
انسداد دہشت گردی کا جائزہ
انہوں نے کہا کہ بریفنگ کا مقصد گزشتہ سال انسداد دہشت گردی کے حوالے سے کیے گئے اقدامات کا جامع جائزہ پیش کرنا ہے، یہ اس پریس کانفرنس کا واحد مقصد ہے، اور میں درخواست کروں گا کہ ہم انسداد دہشت گردی پر توجہ مرکوز رکھیں کیونکہ دہشت گردی سب سے بڑا خطرہ ہے جس کا اس وقت ریاست پاکستان کو سامنا ہے۔
مستقبل کی جنگ
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ 2025 دہشت گردی کے خلاف ہماری جنگ میں ایک تاریخی اور نتیجہ خیز سال تھا، یہ کہتے ہوئے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی ہے اور دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے لڑی جارہی ہے۔








