کلین انرجی کے میدان میں پنجاب نے سب کو پیچھے چھوڑ دیا، لاہور میں 4 اور فیصل آباد میں 2 بائیو گیس پلانٹس لگانے کی منظوری
نئے بائیو گیس پلانٹس کی منظوری
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی زیر صدارت اہم اجلاس میں 6 نئے بائیو گیس پلانٹس کی منظوری دی گئی، جس سے پنجاب میں بائیو گیس اور ویسٹ ٹو انرجی کے ذریعے خود کفالت اور گرین انرجی اکانومی کی بنیاد رکھی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: فنانس ایکٹ اور لیبر پالیسی کے خلاف چیمبرز سراپا احتجاج، 19 جولائی کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان
پلانٹس کی لوکیشن
لاہور میں 4 اور فیصل آباد میں 2 بائیو گیس پلانٹس سے عملی آغاز ہوگا۔ ان پلانٹس سے نہ صرف گھریلو توانائی فراہم ہوگی بلکہ فصلوں کے لیے بائیو فرٹیلائزر بھی میسر ہوگا، جس سے کسانوں اور ماحول کے لیے دوہرا انقلاب آئے گا۔
یہ بھی پڑھیں: دورۂ استنبول؛ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا کی عالمی دفاعی نمائش میں شرکت، اہم ملاقاتیں
دیگر منصوبوں کی منظوری
اجلاس میں پنجاب میں اسمال بائیو گیس پلانٹس کے قابل عمل منصوبے، ملٹی پل فیول بائیو ریفائنری کی فیزیبلٹی اسٹڈی اور ویسٹ ٹو انرجی پراجیکٹس کی منظوری بھی دی گئی ہے۔ لاہور میں ویسٹ ٹو انرجی پراجیکٹ سے الیکٹرک بس اور میٹرو بس کو سستی بجلی فراہم کی جائے گی۔
وزیراعلیٰ کی ہدایت
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے منصوبوں کی جلد تکمیل کی ہدایت کی اور کہا کہ دنیا کی جدید گرین ٹیکنالوجی اب پنجاب کے شہروں اور دیہات میں متعارف کرائی جائے گی، جس سے صوبے میں کلین انرجی اور ماحول دوست ترقی کو فروغ ملے گا۔








