پاکستان میں کتنے فیصد نوجوان ویپ کا استعمال کرتے ہیں؟ رپورٹ جاری
لاہور کا جائزہ
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) گیلپ پاکستان کے ملک گیر سروے میں ویپنگ اور دیگر نئی نکوٹین مصنوعات سے متعلق عوامی آگاہی کی کم سطح اور نوجوانوں پر ان کے اثرات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی تشویش کو اجاگر کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: زلزلے سے تباہی، پاکستان نے راشن بیگز، خیمے، کمبل، چٹائیوں اور ادویات پرمشتمل 105 ٹن امدادی سامان افغانستان بھجوا دیا
سروے کی تفصیلات
پبلک نیوز کے مطابق یہ سروے 12 سے 23 ستمبر 2025 کے دوران کیا گیا، جس میں ملک بھر سے 18 سال اور اس سے زائد عمر کے 1,153 افراد کی رائے لی گئی، جبکہ اس کے نتائج 5 جنوری 2026 کو جاری کیے گئے۔ صرف 17 فیصد شرکاء نے بتایا کہ وہ الیکٹرانک سگریٹ یا ویپنگ ڈیوائسز سے واقف ہیں، جبکہ نسوار اور اس سے متعلق نکوٹین مصنوعات کے بارے میں آگاہی کی شرح 20 فیصد رہی۔
یہ بھی پڑھیں: راجن پور میں بچہ آوارہ کتے کے حملے سے جاں بحق، وزیر اعلیٰ کا نوٹس، ڈی سی سے رپورٹ طلب
نوجوانوں پر اثرات
سروے میں شامل افراد کی اکثریت نے نوجوانوں کو سگریٹ نوشی، ویپنگ اور نسوار جیسی عادات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا طبقہ قرار دیا۔ نتائج کے مطابق فیشن کے رجحانات اور نئی چیزیں آزمانے کا شوق نوجوانوں میں ویپنگ کے پھیلاؤ کی اہم وجوہات کے طور پر سامنے آئے۔
تشویش کی علامات
شرکاء نے ذائقہ دار نسوار اور دیگر نکوٹین مصنوعات پر بھی تشویش کا اظہار کیا، اور کئی افراد کا خیال تھا کہ ایسی مصنوعات نوجوان صارفین کو اپنی جانب زیادہ متوجہ کرتی ہیں۔








