وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے رواں سال گیس کی قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان کر دیا
اجلاس کی تفصیلات
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)مصطفیٰ محمود کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ پیٹرولیم کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے گیس سیکٹر سے متعلق اہم بریفنگ دی۔
یہ بھی پڑھیں: مقدس اوراق کی حرمت کے پیشِ نظر بڑا فیصلہ
گیس گردشی قرض کی صورتحال
وزیرِ پیٹرولیم نے بتایا کہ گیس کے گردشی قرض کا فلو اس وقت صفر ہے جبکہ مجموعی گیس گردشی قرض تقریباً 3 ہزار ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، جس میں سے 1700 ارب روپے صرف سود کی مد میں شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: چیف آف جنرل سٹاف محمد اویس دستگیر کی پیپلز لبریشن آرمی کے کمانڈر سے بیجنگ میں ملاقات
پوری عالمی صورتحال
علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر ایل این جی کارگو کی قیمت 30 ڈالر تک چلی گئی تھی تاہم قطر نے معاہدے کے تحت پاکستان کو ایل این جی کی فراہمی جاری رکھی، جس پر پاکستان قطر کے ساتھ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فاروق عبداللہ کا پاکستان اور بھارت کو ’’مشورہ‘‘
گیس کی قیمتوں کا مستقبل
انہوں نے واضح کیا کہ اگر گردشی قرض میں اضافہ ہو رہا ہوتا تو گیس کی قیمتیں بڑھانا ناگزیر ہوتا، تاہم رواں سال گیس کی قیمتیں نہیں بڑھائی جائیں گی اور نرخ برقرار رہیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ورلڈ کپ میں پاکستان کے لیے سپر ایٹ مرحلے کے اہم میچ کا ٹاس ہو گیا
پاور سیکٹر کی گیس طلب
وزیرِ پیٹرولیم نے پاور سیکٹر کی گیس طلب میں اتار چڑھاؤ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ پاور سیکٹر صبح کے وقت 800 ایم ایم سی ایف ڈی گیس مانگتا ہے، جبکہ دوپہر بارہ بجے یہی طلب 400 ایم ایم سی ایف ڈی رہ جاتی ہے۔ ان کے مطابق پاور سیکٹر نے جنوری میں 200 ایم ایم سی ایف ڈی گیس طلب کی تھی اور اب 500 ایم ایم سی ایف ڈی گیس مانگ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی حکومت کے قرض میں کمی
ترک پیٹرولیم کی ڈرلنگ
اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ انڈس بیسن میں ترک پیٹرولیم سمندر میں ڈرلنگ کرے گی، جس کے لیے پاکستان کی کمپنیاں بھی جوائنٹ وینچر میں شامل ہیں اور انہیں اس منصوبے کے تحت سرمایہ فراہم کرنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور: جوہر ٹاؤن میں گاڑی نہر میں گر گئی، 3 افراد جاں بحق
بلوچستان کی گیس طلب
سوئی سدرن حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ بلوچستان میں سردیوں میں گیس کی طلب دو گنا ہوجاتی ہے، بلوچستان میں گرمیوں میں گیس کی طلب 70 ایم ایم سی ایف ڈی ہوتی ہے، سردیوں میں یہ طلب 155ایم ایم سی ایف ڈی تک پہنچ جاتی ہے۔
نقصانات اور بحالی کی کوششیں
بلوچستان میں گیس سیکٹر سالانہ نقصان 12 ارب روپے کا ہے، جھل مگسی کنواں ڈراپ ہونے سے بھی گیس کی قلت پیدا ہوئی، کمپریسر پمپ لگانے سے گیس کا پریشر کم ہورہا ہے۔ سوئی سدرن میں گیس کے نقصانات کو60 فیصد کم کیا ہے، کوشش ہے گیس نقصانات کی شرح سنگل ڈیجٹ پر لے آئیں۔







