بازار کی خاک چھانی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کبھی ”چھلّہ دے جا نشانی“ پر تان ٹوٹتی تو کبھی ”خوشبو میں بسا رومال“ حائل ہوجاتا، اُفسردہ کرگئیں

پہلا حصہ

مصنف: ع غ جانباز
قسط: 21

اس طرح ہلکی پھلکی ہر روز ملاقات ہوجاتی۔ چند جملوں کا تبادلہ ہوتا۔ ایک دوسرے کا حال احوال بتایا جاتا۔ مہمانِ گرامی گرمیوں کی چھٹیوں کے چند دن گزارنے آئے تھے۔ ایک شام واپسی کا بتا کر افسردہ کر گئیں۔
ہم نے بھی اگلے دن بازار کی خاک چھانی، سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا۔ کبھی "چھلّہ دے جا نشانی" پر تان ٹوٹتی تو کبھی "خوشبو میں بسا رومال" حائل ہوجاتا۔ آخر ایک پیارے سے رومال پر نظر پڑی۔ فوراً اُچک لیا۔ دام چکائے، چلتے بنے اور پھر شام کے دھندلکے میں لرزاں ہاتھوں سے اپنا دل ایک معطر رومال میں لپیٹ اُن کی نذر کر دیا۔ ادھر سے بھی پیار بھری نظروں کا تحفہ ملا جو اب تک سنبھالے بیٹھا ہوں۔

تاریخ اور جغرافیے کی پھلجڑی

1947ء اٹھارہ کا سن، دسویں کلاس سے تھی نبرد آزمائی "صاحبہ ہائی سکول" ضلع ہوشیار پور مشرقی پنجاب متحدہ ہندوستان میں واقع ہائی صاحبہ ہائی سکول تک رسائی کے لیے ایک دس بارہ فٹ تک چڑھائی کے آگے ایک سلسلہ کوہ تھا دامن پھیلائے۔ اپنے ساتھی نور احمد کے ساتھ روزانہ سائیکلوں پر آنا جانا لگا رہتا۔ سائیکل ابھی ہاتھ میں پکڑے چڑھائی چڑھے ہی تھے کہ میری نظر جو نیچے رہائشی درو دیوار پر پڑی تو وہاں ایک کھلے صحن میں ایک ہم عمر حسینہ کو اوپر ہماری طرف سلیوٹ پہ سلیوٹ مارتے دیکھا۔ آگے بڑھ گئے، بات آئی گئی ہوگئی۔

دوسرے دن بھی جو وہی منظر دیکھا تو ہاتھوں سے مس کر کے آنکھوں کو دوبارہ ایک دفعہ پھر کھولا، صورتِ حال ویسی کی ویسی تھی۔ ایک ہم عمر حسینہ نیچے ایک گھر کے صحن میں سلیوٹ پر سلیوٹ مارے جا رہی تھی۔ اب ایک چیز آڑے آگئی۔ میرا مستقل ساتھی نور احمد بھی چونکہ میرے ساتھ ساتھ ہی چل رہا تھا اور آپ سے کیا پردہ، وہ مجھ سے مقابلتاً خوبصورت تھا۔ میرے ذہن کو ایک جھٹکا سا لگا کہ پگلے ہو نہ ہو یہ سب "فوجی سلیوٹ" ساتھی نور احمد کے لیے ہی مخصوص ہو۔ میرا منہ تھوڑی دیر کے لیے لٹک سا گیا اور میں نے دل نادان کو سرزنش کرتے ہوئے سمجھایا کہ میاں فی الحال اتنی اونچی اُڑان بھرنے کی ضرورت نہیں۔ لہذا میں خود ساختہ "عشاقّانِ عظاّم" کی صف سے نکل کر عام انسان بنتے ہوئے اپنے ساتھی نور احمد سے رسمی سی بات کرتے ہوئے آگے بڑھنے لگا۔

کہتے ہیں تیر جب ایک دفعہ چُبھ کر نکل بھی جائے تو خلش تو باقی رہتی ہے۔ دو تین دن کی حکیمانہ سوچ اور عاشقانہ اپروچ کے بعد میں نے ایک فیصلہ صادر فرما دیا۔ فیصلہ یہ تھا کہ میں نور احمد کی ہمراہی میں نہیں، بلکہ اکیلا سکول جاؤں گا۔ چنانچہ ایک ماہر ڈپلومیٹ کا جامہ اوڑھ کر نور احمد کو راضی کر لیا کہ وہ آج وقت پر سکول چلا جائے، میں ایک ذاتی مجبوری کی وجہ سے بعد میں آؤں گا۔ شریف النفس ساتھی فوراً مان گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ جا وہ جا! میں نے اُس کی آنکھوں سے اوجھل ہوتے کمال جذباتیت کے ساتھ روانگی ڈال دی۔ "جائے مقتل" پر پہنچ کر احتیاطاً میں نے سست روی کو گلے لگایا اور نظروں نے آگے کی بجائے پیچھے کے مناظر کو عکس بند کرنا شروع کر دیا۔ دل تھا کہ بلیّوں اُچھل پڑا جب اُس حسینہ کے سلیوٹ کی شکل میں سلام و پیام ایک رفتار کے ساتھ آنے لگے۔ بس پھر کیا تھا۔ اپنا دل اپنی نیک خواہشات کے دامن میں لپیٹ کر اُس ساحرہ کے قدموں کی طرف دھکیل دیا اور واشگاف الفاظ میں کہہ دیا کہ لو سنبھالو!

(جاری ہے)

نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...