جوابدہی اور جزا و سزا ہی وہ ٹول ہے جس سے آپ کسی بھی شعبہ میں بہتری لا سکتے ہیں بشرطیکہ آپ میں کوئی کمزوری نہ ہو دل سے بہتری کے خواہاں ہوں

مصنف: شہزاد احمد حمید

قسط:402

بہاول پور اور رحیم یار خاں کے حالات میری توقعات کے برعکس جلد بہتری کی طرف آگئے تھے۔ شکایات میں نمایاں کمی آگئی تھی۔ ڈوئیل چارج ختم کر دئیے گئے تھے۔ اس بہتری میں میرے دفتر اور خاص طور پر خورشید صاحب کی بڑی کنٹربیوشن تھی۔ میں نے اللہ کا شکر ادا کیا۔ کمشنر بھی میری کارکردگی اور محنت سے خوش تھے اور اکثر میٹنگ میں سہراتے۔

بہاول نگر کی صورتحال

بہاول نگر میں ہنزلہ وٹو ڈی او سی او تھے۔ وہ ایک خاندانی اور سمجھ دار افسر تھے۔ وہاں کے حالات باقی دو اضلاع سے نسبتاً بہتر تھے۔ کچھ کم کوتاہیاں وہ بہاول پور اور رحیم یار خاں میں ہونے والی چند کارروائیوں کی وجہ سے دور ہو گئی تھیں۔ جواب دہی اور جزا و سزا ہی وہ ٹول ہے جس سے آپ کسی بھی شعبے میں بہتری لا سکتے ہیں بشرط کہ آپ میں خود کوئی کمزوری نہ ہو اور آپ دل سے بہتری لانے کے خواہاں ہوں۔

کرنل منچن کا تعارف

کرنل منچن؛ بہاول نگر کی تحصیل ”منچن آباد“ تاریخی قصبہ تھا جو نواب آف بہاول پور کے tactical agent کرنل منچن کے نام پر ہے۔ ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر سابق شہر ”بہاول گڑھ“ کا نام بدل کر ”منچن آباد“ رکھا گیا۔ کرنل منچن کو ریاست کے نہری نظام کا موجد سمجھا جاتا ہے۔ ستلج ویلی پراجیکٹ جس کے تحت ہی ہیڈ سیلمانکی اور ہیڈ اسلام کی تعمیر ہوئی، اسی کا منصوبہ تھا۔ 1871ء میں کرنل منچن یہاں سے رخصت ہوا اور جاتے وقت اپنی ذمہ داریاں ”کرنل گرے“ کو سونپ گیا مگر اُس کی نیک اور خوشگوار یادیں عرصہ تک مقامی لوگوں کے دلوں میں رہیں۔

ہیڈ سلیمانکی کا سفر

ایک بار سردی کے موسم میں، ظفر محمود اسٹنٹ انجینئر بہاول نگر، عامر ایکسین اور شاہد سب انجینئر کے ہمراہ ہیڈ سلیمانکی گیا تھا۔ ہندوستان سے آتا دریائے ستلج اور اس کے گرد ہرے بھرے کھیت شاندار منظر تھے۔ ہم زیرو لائن پہنچے جہاں ”فلیگ سرمنی“ دیکھی۔ یہاں پر ہونے والی فلیگ سرمنی میں دونوں ملکوں کے فوجی افسران کے علاوہ عوام کی شرکت کم ہی ہوتی تھی، مگر جوش واہگہ بارڈر والا ہی تھا۔

چولستان کی سیر

دفتری کاموں کے ساتھ ساتھ چولستان اور گرد و نواح کی سیر کے لیے بھی وقت نکال لیتا تھا۔ جب بھی موقع ملتا، میں کسی نئی جگہ کی تلاش میں نواز اور شاہد کے ساتھ نکل جاتا تھا۔ بہاول پور کے گرد و نواح دیکھنا تو آسان تھا کہ میرا ہیڈ کواٹرز تھا۔ چولستان اور اس ڈویژن کے دوسرے تاریخی مقامات کا تذکرہ میں نے اپنے سفر نامے ”ریت سے روح تک“ میں تفصیل سے کر چکا ہوں۔

بھٹہ وائین اور سسی پنوں کی داستان

رحیم یار خان کے شمال میں ہاکڑہ کنارے قدیم قصبہ "بھٹہ وائین" ہے۔ اسی مقام پر سندھ کی مشہور رومانی داستان "سسی پنوں" کا ایک باب مکمل ہوا تھا۔ یہاں سندھو کی دو شاخیں ملتی ہیں اور اس مقام سے تین نہریں بھی بہتی ہیں۔ سسی کا والد جو ذات کا برہمن تھا، نے اپنی دودھ پیتی بچی کو بے عزتی سے بچنے کے لئے نہروں کے سنگم پر بہا دیا تھا۔ سسی پنوں کا واقعہ آٹھویں صدی عیسوی کا ہے۔

نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...