مادورو کی گرفتاری کو چین کے سوشل میڈیا پر تائیوان کے لیے ممکنہ ماڈل کے طور پر پیش کیا جانے لگا
امریکی سپیشل فورسز کی کارروائی
واشنگٹن/ بیجنگ (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی سپیشل فورسز کی جانب سے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کو چین کے لیے ایک بڑا سفارتی اور سٹریٹجک دھچکا قرار دیا جا رہا ہے، تاہم چین کے سوشل میڈیا پر اسے تائیوان کے لیے ایک ممکنہ ماڈل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور، اچھرہ جیولری اسکینڈل، پولیس افسران و اہلکاروں کیخلاف مقدمہ درج، اختیارات کے ناجائز استعمال کی دفعات شامل
مادورو کی گرفتاری کی تفصیلات
سی این این کے مطابق مادورو کی گرفتاری سے چند گھنٹے قبل وہ چین کے اعلیٰ سفارتکار سے ملاقات میں بیجنگ کی قیادت کی تعریف کر رہے تھے، لیکن رات گئے امریکی ڈیلٹا فورس نے کاراکاس میں کارروائی کر کے انہیں حراست میں لے لیا۔ اس پیش رفت کے بعد چین کو لاطینی امریکا میں اپنے ایک مضبوط اتحادی سے محروم ہونا پڑا۔
یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں اماموں اور مذہبی شخصیات کا ذاتی ڈیٹا اکٹھا کرنا منظم ہراسانی ہے: دفتر خارجہ
چین اور وینزویلا کے تعلقات
چین اور وینزویلا کے تعلقات دہائیوں پر محیط رہے ہیں۔ دونوں ممالک نے 2023 میں اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید گہرا کیا، جس کے تحت چین نے وینزویلا کو معاشی امداد، سرمایہ کاری اور سفارتی حمایت فراہم کی۔ وینزویلا کا زیادہ تر تیل چین کو جاتا رہا ہے اور چینی کمپنیوں نے ملک میں انفراسٹرکچر کے بڑے منصوبوں پر کام کیا۔
یہ بھی پڑھیں: شدید زلزلہ کی شدت 6.8، عوام خوف سے سڑکوں پر نکل آئے۔
چین کا ردعمل
مادورو کی گرفتاری پر بیجنگ نے امریکا پر عالمی چودھری بننے کا الزام لگاتے ہوئے سخت ردعمل دیا، لیکن چین کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اس فعل کو غیر معمولی توجہ ملی۔ کروڑوں افراد نے اس معاملے پر تبصرے کیے اور بعض حلقوں میں یہ سوال اٹھایا گیا کہ اگر امریکا اپنے اثر و رسوخ والے خطے میں ایک رہنما کو گرفتار کر سکتا ہے تو چین تائیوان میں ایسا کیوں نہیں کر سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: 17 سالہ ملازمت کے دوران مجھے ڈاکٹر عطیہ عنایت اللہ کی شخصیت نے بے حد متاثر کیا، پروجیکٹ پروگرام پلاننگ اور اْن کو مکمل کروانے میں کمال حاصل ہے
سرکاری موقف اور تجزیے
تاہم سرکاری سطح پر چین نے اس سوچ سے فاصلہ رکھا اور امریکا کے اقدام کو عالمی نظام کے خلاف قرار دیتے ہوئے مادورو کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ چینی قیادت نے بالواسطہ طور پر یکطرفہ طاقت کے استعمال پر تنقید بھی کی۔
ماہرین کے مطابق وینزویلا کے خلاف امریکی کارروائی چین کی تائیوان پالیسی پر فوری یا براہ راست اثر ڈالنے کا امکان نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تائیوان کے حوالے سے چین کے فیصلے کا انحصار داخلی معیشت، فوجی صلاحیت، تائیوان کی سیاسی صورتحال اور امریکا کے رویے پر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 27ویں ترمیم میں مجوزہ ترامیم میں چیف آف ڈیفنس فورسز کے عہدے کا تعارف، انصار عباسی کی رپورٹ
توانائی کے شعبے میں اثرات
توانائی کے شعبے میں بھی ماہرین سمجھتے ہیں کہ چین کو بڑا نقصان نہیں ہوگا، کیونکہ وینزویلا کی تیل پیداوار پہلے ہی کم ہو چکی ہے اور چین کے لیے یہ تیل زیادہ تر رعایتی نرخوں پر چھوٹی ریفائنریاں خریدتی رہی ہیں۔
آگے کا راستہ
لاطینی امریکا میں مجموعی طور پر چین کے اثر و رسوخ کو اس واقعے سے دھچکا ضرور پہنچا ہے، لیکن تجزیہ کاروں کے مطابق بیجنگ اس خطے میں امریکا کے ساتھ براہ راست محاذ آرائی کیے بغیر اپنے معاشی مفادات، خصوصاً بجلی اور ٹیلی کمیونیکیشن جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری، کو بچانے پر توجہ دے گا۔








