فائیو جی سروس تاخیر کا شکار، پی ٹی اے کو تاحال سمری موصول نہ ہوسکی
فائیو جی سروس کا آغاز
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان میں جدید فائیو جی سروس کے آغاز کا عمل ایک بار پھر تاخیر کا شکار ہوگیا۔ وفاقی کابینہ کی فائیو جی سے متعلق سمری منظوری کے باوجود تاحال پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو موصول نہیں ہو سکی، جس کے باعث فائیو جی نیلامی اور لانچ کا عمل آگے نہیں بڑھ سکا۔
یہ بھی پڑھیں: کہا جاتا تھا عمران خان مغربی ایجنڈے پر کام کررہے تھے لیکن مغرب کے اصل ایجنڈے پر موجودہ حکومت عملدرآمد کر رہی ہے، مولانا فضل الرحمان
پی ٹی اے کا موقف
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق پی ٹی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ 25 دسمبر 2025 کو وفاقی کابینہ نے فائیو جی سمری کی منظوری دی تھی، تاہم باضابطہ طور پر پی ٹی اے کو پالیسی ڈائریکٹیو کی صورت میں ارسال نہیں کی گئی۔ سمری کی منظوری کے بعد اس میں رد و بدل کا امکان بھی موجود ہوتا ہے، اس لئے پی ٹی اے اُس وقت تک حتمی کارروائی کا آغاز نہیں کر سکتی جب تک منظور شدہ سمری تحریری طور پر موصول نہ ہو۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے پاس جدید ہتھیار ہیں، مودی کو مزید مہم جوئی سے گریز کرنا چاہیے: ششی تھرور
نیلامی کا عمل
پی ٹی اے کابینہ میں منظور سمری کی شقوں سے فی الحال لاعلم ہے۔ سمری موصول ہونے کے بعد، اتھارٹی کی جانب سے ایک انفارمیشن میمورنڈم جاری کیا جائے گا جس میں فائیو جی سپیکٹرم کی نیلامی سے متعلق قواعد و ضوابط، آکشن رولز اور دیگر تکنیکی تفصیلات شامل ہوں گی۔ انفارمیشن میمورنڈم کے اجرا کے بعد سپیکٹرم نیلامی کا عمل شروع کیا جا سکے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ویڈیو: لاہور جیولری مارکیٹ سے 20 کلو سونا چوری، سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آگئی، چور ڈھونڈنے والے کو ایک کروڑ روپے انعام کا اعلان
موجودہ سپیکٹرم اور دوستی
ذرائع پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک میں موبائل سروسز کے لیے تقریباً 274 میگا ہرٹز سپیکٹرم دستیاب ہے۔ کوشش کی جا رہی ہے کہ فائیو جی کے لیے مجموعی طور پر 600 میگا ہرٹز سپیکٹرم فراہم کیا جائے، اور موجودہ سپیکٹرم میں مزید 300 میگا ہرٹز شامل کرنے کا امکان ہے جس سے فائیو جی سروس کا معیار اور رفتار میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لسبیلہ : بس اور ٹریکٹر میں تصادم ، 4 افراد جاں بحق، 13 زخمی
موبائل آپریٹرز کی تیاری
اتھارٹی ذرائع کے مطابق سپیکٹرم نیلامی کے بعد موبائل آپریٹرز ملک بھر میں اپنے بی ٹی ایس ٹاورز پر نئے فائیو جی بینڈز فعال کریں گے۔ سمارٹ فون کمپنیاں بھی پاکستان میں دستیاب سپیکٹرم کے مطابق نئے موبائل فونز اور موجودہ ڈیوائسز اپ گریڈ کریں گی تاکہ صارفین فائیو جی سروس سے مکمل استفادہ کر سکیں۔
ماہرین کی رائے
ماہرین کا کہنا ہے کہ فائیو جی کی تاخیر سے ڈیجیٹل معیشت، آئی ٹی سیکٹر اور سرمایہ کاری کے مواقع متاثر ہو رہے ہیں۔ کاروباری حلقوں اور ٹیکنالوجی ماہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فائیو جی سمری کی فوری ترسیل یقینی بنائی جائے تاکہ پاکستان خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ ڈیجیٹل دوڑ میں پیچھے نہ رہ جائے۔








