ناقص پراسکیوشن اور کمزور تفتیش کے باعث ملزمان بری ہونے لگے
لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے 2 کلو منشیات برآمدگی کے مقدمے میں ساڑھے 3 سال قید کی سزا کاٹنے والے مجرم کو بری کرنے کا حکم دے دیا۔ ٹرائل کورٹ نے پہلے مجرم کو 9 سال قید کی سزا سنائی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: دبئی میں 1 کروڑ 19 لاکھ روپے میں دنیا کا مہنگا ترین کاک ٹیل فروخت، اس کو کیسے تیار کیا گیا؟
اپیل کا جائزہ
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق، لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس فاروق حیدر اور جسٹس طارق ندیم پر مشتمل 2 رکنی بنچ نے مجرم اشفاق کی اپیل پر 13 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔
یہ بھی پڑھیں: مچل سٹارک کا ٹی ٹوئنٹی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان
مقدمہ اور شواہد
فیصلے کے مطابق، مجرم اشفاق پر 2022 میں جڑانوالہ پولیس نے دو کلو منشیات برآمدگی کا مقدمہ درج کیا تھا۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ پراسیکیوشن کیس پراپرٹی اور اس سے حاصل شدہ سیمپلز کی محفوظ چین آف کسٹڈی اور فرانزک کیلئے بروقت ترسیل ثابت کرنے میں ناکام رہی۔
یہ بھی پڑھیں: اے این ایف: 39 کروڑ 67 لاکھ سے زائد مالیت کی منشیات برآمد ، 3 ملزمان گرفتار
گواہوں کے بیانات
فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر کسی بھی گواہ کے بیان میں معمولی سا تضاد ہو تو پورا بیان مشکوک ہو جاتا ہے۔ موجودہ کیس میں ملزم کی گرفتاری سے لے کر کیس پراپرٹی تک گواہوں کے بیانات میں متعدد تضادات پائے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور: فائرنگ کرنے والی خاتون مقدمے سے بری
نارکوٹکس مقدمات کے معیار
عدالت نے قرار دیا کہ نارکوٹکس مقدمات میں الزام ثابت کرنے کیلئے اعلیٰ معیار کے شواہد ناگزیر ہوتے ہیں، تاہم موجودہ کیس میں ایسے شواہد موجود نہیں ہیں۔
حکم کی تفصیلات
لاہور ہائیکورٹ نے مجرم کی 9 سال قید کی سزا کالعدم قرار دیتے ہوئے اپیل منظور کر کے فوری رہائی کا حکم دے دیا۔








