ناقص پراسکیوشن اور کمزور تفتیش کے باعث ملزمان بری ہونے لگے
لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے 2 کلو منشیات برآمدگی کے مقدمے میں ساڑھے 3 سال قید کی سزا کاٹنے والے مجرم کو بری کرنے کا حکم دے دیا۔ ٹرائل کورٹ نے پہلے مجرم کو 9 سال قید کی سزا سنائی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: حرامانی کی بولڈ ویڈیو شدید تنقید کی زد میں
اپیل کا جائزہ
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق، لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس فاروق حیدر اور جسٹس طارق ندیم پر مشتمل 2 رکنی بنچ نے مجرم اشفاق کی اپیل پر 13 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔
یہ بھی پڑھیں: تحریک انصاف عدلیہ کی آزادی کو واپس لائے گی، بیرسٹر گوہر
مقدمہ اور شواہد
فیصلے کے مطابق، مجرم اشفاق پر 2022 میں جڑانوالہ پولیس نے دو کلو منشیات برآمدگی کا مقدمہ درج کیا تھا۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ پراسیکیوشن کیس پراپرٹی اور اس سے حاصل شدہ سیمپلز کی محفوظ چین آف کسٹڈی اور فرانزک کیلئے بروقت ترسیل ثابت کرنے میں ناکام رہی۔
یہ بھی پڑھیں: شیکھر دھون کے ساتھ اکثر مقامات پر دکھائی دینے والی پراسرار خاتون کون ہے؟ آخر کا حقیقت سامنے آ گئی
گواہوں کے بیانات
فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر کسی بھی گواہ کے بیان میں معمولی سا تضاد ہو تو پورا بیان مشکوک ہو جاتا ہے۔ موجودہ کیس میں ملزم کی گرفتاری سے لے کر کیس پراپرٹی تک گواہوں کے بیانات میں متعدد تضادات پائے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان سیاسی لوگوں کو آگے لے کر آئیں: فواد چودھری
نارکوٹکس مقدمات کے معیار
عدالت نے قرار دیا کہ نارکوٹکس مقدمات میں الزام ثابت کرنے کیلئے اعلیٰ معیار کے شواہد ناگزیر ہوتے ہیں، تاہم موجودہ کیس میں ایسے شواہد موجود نہیں ہیں۔
حکم کی تفصیلات
لاہور ہائیکورٹ نے مجرم کی 9 سال قید کی سزا کالعدم قرار دیتے ہوئے اپیل منظور کر کے فوری رہائی کا حکم دے دیا۔








