آئی ایم ایف کی ایک اور شرط پوری، حکومت نے شوگر سیکٹر کو ڈی ریگولائز کرنے کے لیے جامع پلان تیار کر لیا
وفاقی حکومت کا اصولی فیصلہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی ایک اور شرط پوری کرنے کے لیے ملک میں شوگر سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کرنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے لیے شوگر سیکٹر کو ڈی ریگولائز کرنے کے لیے جامع پلان تیار کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ویڈیوز میں گالیاں دینے پر معروف بھارتی سوشل میڈیا انفلوئنسر محمدعامر کو گرفتار کرلیا گیا
مجوزہ پلان کی تفصیلات
ایکسپریس نیوز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ پلان کے تحت کاشتکاروں کو گنا کاشت کرنے کی مکمل آزادی ہوگی اور شوگر ایکسپورٹ پر سبسڈی اور نئی شوگر ملز لگانے پر پابندی ختم کرنے کی تجویز ہے، چینی کی برآمد اور درآمد پر پابندی بھی ہٹانے کی تجویز ہے۔مجوزہ پلان کے مطابق کسانوں پر گنے کی کاشت کے لیے اقسام یا کسی زون کی پابندی نہیں ہوگی، وہ کسی بھی شوگر مل کو گنا فروخت کرنے یا گڑ بنانے میں بھی آزاد ہوں گے جبکہ گنے کی قیمت کا تعین سرکار نہیں بلکہ مارکیٹ کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: نوشکی میں بے گناہ 4 اینکر ڈرائیور قتل، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی شدید مذمت
اہم سفارشات
مجوزہ پلان کے مطابق حکومت چینی کی برآمد پر آئندہ کوئی سبسڈی نہیں دے گی اور ملک میں نئی شوگر مل لگانے پر پابندی ختم کرنے کی بھی تجویز ہے۔ شوگر ملز کے لیے ایکسپورٹ کوٹہ بھی ختم کرنے کی تجویز ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فوڈ اتھارٹی پنجاب کا کریک ڈاؤن، بیمار بھینسوں کو 700کلو مضرصحت گوشت تلف کر کے مقدمہ درج کر لیا گیا
شوگر ملز کی آزادی
شوگر ملز خام چینی باہر سے منگوا کر ری ایکسپورٹ بھی کر سکیں گی جبکہ شوگر ملز کو گنے یا درآمدی خام مال کی پراسیسنگ کی مکمل آزادی ہوگی۔
کسانوں کی حفاظت
دستاویز کے مطابق حکومتی کمیٹی نے چینی کی درآمد و برآمد پر عائد پابندی ختم کرنے کی سفارش کی ہے۔ کسانوں کو نقصان سے بچانے کے لیے گنے کی ممنوعہ اقسام کی فہرست بوائی سے قبل جاری کرنے کی تجویز ہے۔








