آئی ایم ایف کی ایک اور شرط پوری، حکومت نے شوگر سیکٹر کو ڈی ریگولائز کرنے کے لیے جامع پلان تیار کر لیا
وفاقی حکومت کا اصولی فیصلہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی ایک اور شرط پوری کرنے کے لیے ملک میں شوگر سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کرنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے لیے شوگر سیکٹر کو ڈی ریگولائز کرنے کے لیے جامع پلان تیار کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا حکومت نے باجوڑ سے نقل مکانی کرنے والے فی خاندان کو 50 ہزار روپے دینے کا فیصلہ کرلیا۔
مجوزہ پلان کی تفصیلات
ایکسپریس نیوز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ پلان کے تحت کاشتکاروں کو گنا کاشت کرنے کی مکمل آزادی ہوگی اور شوگر ایکسپورٹ پر سبسڈی اور نئی شوگر ملز لگانے پر پابندی ختم کرنے کی تجویز ہے، چینی کی برآمد اور درآمد پر پابندی بھی ہٹانے کی تجویز ہے۔مجوزہ پلان کے مطابق کسانوں پر گنے کی کاشت کے لیے اقسام یا کسی زون کی پابندی نہیں ہوگی، وہ کسی بھی شوگر مل کو گنا فروخت کرنے یا گڑ بنانے میں بھی آزاد ہوں گے جبکہ گنے کی قیمت کا تعین سرکار نہیں بلکہ مارکیٹ کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت کا پی آئی اے کی نجکاری کیلئے نئے اشتہارِ دلچسپی کا اعلان
اہم سفارشات
مجوزہ پلان کے مطابق حکومت چینی کی برآمد پر آئندہ کوئی سبسڈی نہیں دے گی اور ملک میں نئی شوگر مل لگانے پر پابندی ختم کرنے کی بھی تجویز ہے۔ شوگر ملز کے لیے ایکسپورٹ کوٹہ بھی ختم کرنے کی تجویز ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان بزنس کونسل شارجہ کی طرف سے “ انویسٹ ان شارجہ “ کے لئے پاکستان سے تعلق رکھنے والے سرمایہ کاروں کی گول میز کانفرنس کا اعلان
شوگر ملز کی آزادی
شوگر ملز خام چینی باہر سے منگوا کر ری ایکسپورٹ بھی کر سکیں گی جبکہ شوگر ملز کو گنے یا درآمدی خام مال کی پراسیسنگ کی مکمل آزادی ہوگی۔
کسانوں کی حفاظت
دستاویز کے مطابق حکومتی کمیٹی نے چینی کی درآمد و برآمد پر عائد پابندی ختم کرنے کی سفارش کی ہے۔ کسانوں کو نقصان سے بچانے کے لیے گنے کی ممنوعہ اقسام کی فہرست بوائی سے قبل جاری کرنے کی تجویز ہے۔








