کراچی میں بھتہ خوری کا منظم نیٹ ورک جیل میں بننے کا انکشاف
کراچی میں بھتہ خوری کا نیٹ ورک
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) شہر قائد میں بھتہ خوری کا منظم نیٹ ورک جیل میں بننے کا انکشاف ہوا ہے اور یہ نیٹ ورک 2022 میں فعال ہوا۔ پولیس کے اسپیشل انوسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) کے ہاتھوں گرفتار بھتہ خوری کے منظم نیٹ ورک کے کارندوں جواد عرف واجہ، شاہ زیب اور ریحان سے تفتیش مکمل کرلی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وی پی این بند کرنے سے پاکستانی معیشت کو کیا نقصان ہوگا؟ آئی ٹی ایکسپرٹ کنول چیمہ نے خبردار کردی
تفتیش کے دوران اہم انکشافات
ایکسپریس نیوز کے مطابق تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ نیٹ ورک 2022 میں فعال ہوا اور اس دوران بدنام زمانہ بھتہ خور جواد عرف واجہ نے بتایا کہ صمد کاٹھیاواری سے میری ملاقات جیل میں ہوئی تھی۔ ملزم نے بتایا کہ 2022 میں باہر آکر دوبارہ نیٹ ورک کے کارندوں سے ملاقاتیں ہوئیں، ماضی میں موبائلز کی خرید وفروخت کا کام بھی کرچکا ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی موسیقار اے آر رحمان سے علیحدگی کے بعد اہلیہ کا بیان
ملزمان کے بیانات
گرفتار ملزم شاہ زیب نے بتایا کہ ماضی میں کار شو رومز پر کام کرتا رہا ہوں، کار شورومز سے بھتہ کی ٹپ میں نے دی تھی اور جواد کے کہنے پر مجھے ریحان لڑکے اور سمز فراہم کرتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹریفک جرمانوں میں اضافے کے خلاف ٹرانسپورٹرز سراپا احتجاج، 8 دسمبر کو پنجاب بھر میں پہیہ جام ہڑتال کا اعلان
یہ نیٹ ورک کیسے چلتا ہے؟
تفتیش کے دوران انکشاف ہوا کہ نیٹ ورک لڑکوں کو فائرنگ اور دھمکانے کے ایک لاکھ سے 50 ہزار روپے دیا کرتے تھے۔
گرفتاری کی تفصیلات
یاد رہے کہ ملزمان جواد عرف واجہ اور شاہ زیب کو کراچی میں قادری ہاؤس سے گرفتار کیا گیا تھا۔








