قصبہ میں ایسا مقام ہے کہ کوئی بچہ وہاں پیدا ہو تو ابوالفضل کی طرح مدبر یا فیضی کی طرح دانشور ہو گا، ایسا نہ ہو تو سسی کی طرح عاشق جانباز ہو نا لازمی ہے۔
مصنف کی معلومات
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 403
یہ بھی پڑھیں: پاک فضائیہ نے بھارت کے تین رافیل سمیت پانچ طیارے گرانے کے ثبوت پیش کر دیئے، رافیل پائلٹ کی گفتگو بھی سنوا دی
تاریخی روایات
ایک اور روایت کے مطابق ملا مبارک کے بیٹے اور اکبر کے نو رتن نامور عالم ابوالفضل اور فیضی بھی یہیں پیدا ہو ئے۔ یہ بھی روایت ہے کہ اس قصبہ میں ایک ایسا مقام ہے کہ اگر کوئی بچہ وہاں پیدا ہو تو ابوالفضل کی طرح مدبر یا فیضی کی طرح دانش ور ہو گا۔ اگر ایسا نہ ہو تو سسی کی طرح اس کا عاشق جانباز ہونے کا امکان ہے۔ بد قسمتی سے ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ یہ روایات حقیقت سے کوئی تعلق نہیں رکھتیں۔
یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی میں نیشنل فرانزک ایجنسی بل 2024 منظور
بھونگ مسجد: ایک عجوبہ
بھونگ مسجد ایک عجوبہ ہے۔ یہ نیک دل زمیندار رئیس شبیر احمد نے تعمیر کرائی تھی۔ کہتے ہیں کہ خواب میں کسی بزرگ نے اسے ایسی مسجد تعمیر کرنے کی ترغیب دی جس کی نظیر نہ ملتی ہو۔ یہ بھی بشارت ملی کہ مسجد کی تعمیر جیسے ہی مکمل ہوگی اس کی رحلت ہو جائے گی۔ لہٰذا، جونہی مسجد کی تعمیر مکمل ہونے کے قریب پہنچتی، وہ کوئی نہ کوئی نقص نکال کر تعمیر جاری رکھتا۔ بہر حال موت کے معینہ وقت کو کب کون ٹال سکا ہے۔ وہ بھی وقت مقررہ پر اس دار فانی سے کوچ کر گئے اور ان کی یادگار یہ عجوبہ مسجد آج بھی دیکھنے والوں کو دنگ کرتی ہے۔
میں جمعہ کی نماز یہاں پڑھنے پہنچا تو میری ایک رکعت مس ہو گئی تھی۔ میں بڑی دیر اس مسجد کی خوبصورتی میں ڈوبا مبہوت بیٹھا رہا۔ میں دوسری بار بھونگ آیا تو الطاف انجینئر بھی میرے ساتھ تھا۔ رئیس شبیر کے بھتیجے نے مجھے سندھی اجرک کا تحفہ دیا۔ یہ چادر بھی الطاف کے ذریعے مجھے دینے کے لئے تھی تاکہ میری عزت ہو جائے اور رئیس زادہ کا بھرم رہ جائے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے 27 ویں آئینی ترمیم کی تحریک پیش کردی
سیاست کا کھیل
رئیس شبیر احمد سیاست میں بھی حصہ لیتے تھے۔ دو بار پیپلز پارٹی جبکہ ایک بار مسلم لیگ (ن) کی طرف سے ایم این اے منتخب ہوئے اور اب ان کے خاندان کے دوسرے افراد سیاست کے میدان میں سرگرم ہیں۔ میں آج تک یہ نہیں سمجھ سکا کہ ساری عمر کوئی سیاست دان ایک پارٹی میں رہ کر کس طرح دوسری پارٹی جوائن کر لیتا ہے۔ جس کا نظریہ، سوچ، کلچر اس پارٹی سے بالکل مختلف ہوتی ہے جسے چھوڑ کر وہ نئی پارٹی میں شامل ہوتا ہے۔ اس سے تو یہ بات ثابت ہے کہ سیاست دانوں کی نظر میں نظریہ اور سوچ کی کوئی اہمیت نہیں، بس اپنا مفاد ہی مقدم ہے۔ یہی سیاسی کلچر بن چکا ہے۔
حکومتی وسائل کا استعمال
آج کے سیاست دان اور اُن کے کارکن حکومت کی دی ہوئی ہر سہولت اور رعایت کو بلا شراکت غیر اپنی ملکیت اور حق سمجھتے ہیں۔ حکومت کے کاموں میں شاذ و نادر ہی تعاون کرنے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔ سرکاری افسران بھی اپنے فائدے اور مفاد کے لئے ان کے ہر جائز و ناجائز کام میں مددگار و معاون بن جاتے ہیں۔ ان کے اکثر فیصلے انصاف و قانون کے تقاضوں کے برعکس مقامی بااثر افراد کی خوشنودی کے لئے ہوتے ہیں۔ اس ماحول میں کسی افسر کا بھی انصاف و قانون کے مطابق کام کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ لیکن ایسے پاک دامن، انصاف پسند افسر یقیناً موجود ہیں جو آج بھی عوام کی خدمت بغیر لالچ اور دھونس کے کرنے میں مصروف ہیں۔ بے شک اللہ بھی ایسے لوگوں کی مدد فرماتا ہے۔ (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








