چہرے نہیں نظام بدلنے کی ضرورت ہے، آئین میں اداروں کی حدود کا واضح تعین ہے، حافظ نعیم الرحمان
جلسہ عام میں جماعت اسلامی کے امیر کا خطاب
اٹک (ڈیلی پاکستان آن لائن) جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ سیاسی جماعتیں اقتدار میں آنے کے لیے اسٹیبلشمنٹ کی کاسہ لیسی کرتی ہیں جبکہ آئین میں اداروں کی حدود کا واضح تعین موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ماہرین نے جگر کی پیوندکاری کے بعد خطرات کو جانچنے کے لیے بلڈ ٹیسٹ تیار کرلیا
آزادی کے مقاصد کی عدم حصول
اٹک میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ قیام پاکستان کے بعد آج تک آزادی کے مقاصد حاصل نہیں ہوسکے۔ افسر شاہی انگریز کے نظام کی محافظ ہے اور سول، ملٹری اسٹیبلشمنٹ انگریز کا دیا ہوا نظام چلا رہی ہے۔ بیوروکریسی اپنے آپ کو عوام کا خادم نہیں بلکہ آقا تصور کرتی ہے۔ ملک میں چہرے نہیں بلکہ نظام بدلنے کی ضرورت ہے، اور آئین میں اداروں کی حدود کا واضح تعین ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آئی سی اے پی یو اے ای کے زیر اہتمام بیڈمنٹن ٹورنامنٹ کا انعقاد، 23 ٹیموں کی شرکت
غداری کے سرٹیفکیٹ اور بلدیاتی قانون
انہوں نے کہا کہ طاقت وروں سے یہ کہنا چاہتے ہیں کہ غداری کے سرٹیفکیٹ تقسیم کرنا بند کریں۔ فارم 47 کی اسمبلیوں نے جمہوریت دشمن بلدیاتی قانون پاس کیا ہے، جسے ہم مسترد کرتے ہیں۔ 15 جنوری کو عوامی ریفرنڈم ہوگا اور آئی پی پیز مافیا کے خلاف نئے سرے سے منظم تحریک کا آغاز کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پاک بھارت کشیدگی: پاک بحریہ نے اپنی دفاعی برتری کو مکمل برقرار رکھا:تجزیہ نگار
کشمیر اور افغان تعلقات
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ کشمیر پر حق خودارادیت کے بغیر کوئی ثالثی قبول نہیں کی جائے گی اور بھارت مسلمانوں کا خیر خواہ نہیں ہوسکتا۔ افغانستان بھارت سے امیدیں نہ لگائے، افغانستان اور پاکستان کو امن کے لیے بات چیت کرنی چاہیے، کیونکہ مسلمان ممالک میں جنگ کا مقصد نہیں ہونا چاہیے۔
پاکستان کی فوج اور وزیراعظم کی ذمہ داری
امیر جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ پاکستان کی فوج کسی صورت غزہ نہیں جانی چاہیے، اور وزیراعظم کو قوم کی صحیح ترجمانی کرنی چاہیے۔








