متحدہ عرب امارات میں قانونی بلوغت کی عمر 18 سال قرار دے دی گئی
نیا سول قانون نافذ
ابوظبی (ڈیلی پاکستان آن لائن) متحدہ عرب امارات میں نیا سول قانون نافذ ہوگیا جس کے بعد نوجوان سرپرست کی اجازت کے بغیر مالی اور قانونی فیصلے کر سکیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ہرنائی میں جام شہادت نوش کرنیوالے میجر محمد حسیب اور حوالدار نور احمد مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ آبائی علاقوں میں سپرد خاک
قانونی بلوغت کی عمر میں تبدیلی
متحدہ عرب امارات میں قانونی بلوغت کی عمر 18 سال قرار دے دی گئی ہے۔ اس سے قبل یہ 20 سال کی عمر تھی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی فوج قومی استحکام کا ستون، پاک چین دوستی اور تعاون کی مضبوط محافظ ہے، چینی وزیر خارجہ
نوجوانوں کے حقوق
حکام کے مطابق 18 سال کے نوجوان سرپرست کی اجازت کے بغیر مالی اور قانونی فیصلے کرسکیں گے۔ 18 سال کے افراد معاہدے کرنے، قرض لینے اور جائیداد خریدنے کے مجاز ہوں گے جبکہ 15 سال کے افراد عدالتی اجازت سے اپنے اثاثے خود سنبھال سکیں گے۔
کاروبار کے شروع ہونے کی اجازت
اماراتی حکام کے مطابق نوجوانوں کو کاروبار رجسٹر کرنے کی اجازت بھی ہوگی۔








