متحدہ عرب امارات میں قانونی بلوغت کی عمر 18 سال قرار دے دی گئی
نیا سول قانون نافذ
ابوظبی (ڈیلی پاکستان آن لائن) متحدہ عرب امارات میں نیا سول قانون نافذ ہوگیا جس کے بعد نوجوان سرپرست کی اجازت کے بغیر مالی اور قانونی فیصلے کر سکیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: یکم جنوری 2028 سے ملک سے سود کا نظام ختم ہوجانا چاہیے، مولانا فضل الرحمان کا بیان
قانونی بلوغت کی عمر میں تبدیلی
متحدہ عرب امارات میں قانونی بلوغت کی عمر 18 سال قرار دے دی گئی ہے۔ اس سے قبل یہ 20 سال کی عمر تھی۔
یہ بھی پڑھیں: اتحاد و یکجہتی میں ہے جملہ مسائل کا حل: ڈاکٹر حسن قادری کا سیرت النبیؐ کانفرنس میں خطاب
نوجوانوں کے حقوق
حکام کے مطابق 18 سال کے نوجوان سرپرست کی اجازت کے بغیر مالی اور قانونی فیصلے کرسکیں گے۔ 18 سال کے افراد معاہدے کرنے، قرض لینے اور جائیداد خریدنے کے مجاز ہوں گے جبکہ 15 سال کے افراد عدالتی اجازت سے اپنے اثاثے خود سنبھال سکیں گے۔
کاروبار کے شروع ہونے کی اجازت
اماراتی حکام کے مطابق نوجوانوں کو کاروبار رجسٹر کرنے کی اجازت بھی ہوگی۔








