متحدہ عرب امارات میں قانونی بلوغت کی عمر 18 سال قرار دے دی گئی
نیا سول قانون نافذ
ابوظبی (ڈیلی پاکستان آن لائن) متحدہ عرب امارات میں نیا سول قانون نافذ ہوگیا جس کے بعد نوجوان سرپرست کی اجازت کے بغیر مالی اور قانونی فیصلے کر سکیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: تاجک وزیر دفاع کی فیلڈ مارشل سے ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ
قانونی بلوغت کی عمر میں تبدیلی
متحدہ عرب امارات میں قانونی بلوغت کی عمر 18 سال قرار دے دی گئی ہے۔ اس سے قبل یہ 20 سال کی عمر تھی۔
یہ بھی پڑھیں: نور مقدم قتل کیس؛سپریم کورٹ نے مجرم ظاہر جعفرکی اپیل پر فیصلہ سنا دیا
نوجوانوں کے حقوق
حکام کے مطابق 18 سال کے نوجوان سرپرست کی اجازت کے بغیر مالی اور قانونی فیصلے کرسکیں گے۔ 18 سال کے افراد معاہدے کرنے، قرض لینے اور جائیداد خریدنے کے مجاز ہوں گے جبکہ 15 سال کے افراد عدالتی اجازت سے اپنے اثاثے خود سنبھال سکیں گے۔
کاروبار کے شروع ہونے کی اجازت
اماراتی حکام کے مطابق نوجوانوں کو کاروبار رجسٹر کرنے کی اجازت بھی ہوگی۔








