کراچی، صنعتی ایریا سے چادر میں لپٹی خاتون کی ملنے والی لاش کی شناخت ہو گئی
کراچی میں نامعلوم خاتون کی تشدد زدہ لاش کی شناخت
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن) شہر قائد میں نیو کراچی صنعتی ایریا سے یکم جنوری کو کچرا کنڈی کے قریب سے چادر میں لپٹی ہوئی نامعلوم خاتون کی ملنے والی تشدد زدہ لاش کو 36 سالہ آسیہ زوجہ جوار کے نام سے شناخت کرلیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ویڈیو: لاہور میں شہری کے گھر میں گھس کر اغوا کرنے والا تھانہ اسلام پورہ کا حاضر سروس سب انسپکٹر نکلا اور میڈم سی ایم کہتی ہیں “پنجاب میں کرائم زیرو ہے”
خاتون کی گمشدگی کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق مقتولہ سہراب گوٹھ کی رہائشی تھی جو یکم جنوری کو گھر سے نازک نامی شخص کے ہمراہ گئی تھی جس کے بعد وہ لاپتہ ہوگئی۔ شوہر نے سہراب گوٹھ تھانے میں 6 جنوری کو اس کے اغوا کا مقدمہ درج کرایا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پسماندہ طبقات کی بحالی پنجاب حکومت کی اولین ترجیح ہے: سہیل شوکت بٹ کا خصوصی افراد میں 1100 وہیل چیئرز کی فراہمی کی تقریب سے خطاب
مقتولہ کے شوہر کا بیان
اس حوالے سے مقتولہ آسیہ بی بی کے شوہر جوار نے چھیپا سرد خانے میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ وہ لاسی گوٹھ احمد جمال پاڑہ کا رہائشی ہے اور اس کی بیوی یکم جنوری کو گھر سے گئی تھی جس کے بعد سے وہ لاپتہ ہے اور اس کے اغوا کا مقدمہ سہراب گوٹھ تھانے میں 6 جنوری کو درج کرایا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: اگر حکومت کے پاس پی ٹی آئی پر پابندی کا قانونی جواز ہے تو سپریم کورٹ میں کیس دائر کر دے: سینیٹر ساجد میر
لاپتہ ہونے کے لمحے کی تفصیلات
شوہر کے مطابق اس کی اہلیہ کی لاش یکم جنوری کی شب نیو کراچی صنعتی ایریا کے علاقے 7 نمبر سے ملی تھی۔
مقتولہ کے شوہر مدعی مقدمہ جوار نے سہراب گوٹھ پولیس کو بیان دیا ہے کہ یکم جنوری کو وہ اپنے کام پر چلا گیا تھا کہ میری بیوی اپنے 2 بچوں کے ہمراہ گھر پر موجود تھی کہ نازک ہاشمی نامی شخص نے فون کر کے میری بیوی کو کہا کہ آپ کے گھر کے باہر کھڑا ہوں آجاؤ۔
اس پر میری بیوی نازک کے ہمراہ اپنے بچوں کو گھر پر ہی چھوڑ کر چلی گئی تھی اور پڑوس کو کہا تھا کہ وہ بچوں کا خیال رکھے لیکن اس کے بعد سے وہ اب تک گھر واپس نہیں آئی۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ حکومت کا موٹرسائیکلوں کی نمبر پلیٹس تبدیل کرنے کا حکم، شہریوں پر مالی بوجھ
دھمکی اور اغوا کا معاملہ
انھوں نے بتایا کہ نازک ہاشمی نامی شخص ایوب گوٹھ میں چلنے والے لنگر پر کام کرتا ہے جہاں پر اس کی اہلیہ کھانا لینے جاتی تھی اور اس نے میری بیوی کو دھمکی بھی دی تھی کہ مجھ سے دوستی نہیں کی تو تمھیں اغوا کر لونگا۔
مدعی جواد نے دعویٰ کیا کہ اس کی بیوی آسیہ کو نازک نامی شخص نے بہلا پھسلا کر اغوا کیا ہے۔
پولیس کا ردعمل
مقتولہ کے شوہر نے پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ ملزم کو گرفتار کر کے سخت سزا دی جائے۔
پولیس نے ضابطے کی کارروائی کے بعد مقتولہ کی لاش کو اس کے شوہر کے حوالے کر دی جبکہ مقدمے میں نامزد نازک ہاشمی نامی شخص کو پولیس سرگرمی سے تلاش کر رہی ہے جس کی گرفتاری کے بعد ہی قتل کی وجہ سمیت دیگر معاملات کا علم ہو سکے گا۔








