حجاب اور نقاب کے ساتھ زیورات خریدنے پر پابندی، جیولری تاجروں کے فیصلے نے ہنگامہ کھڑا کردیا
جیولری تاجروں کا نیا فیصلہ
ممبئی (ڈیلی پاکستان آن لائن )بھارت کی ریاست بہار میں جیولری تاجروں کے ایک فیصلے نے سیاسی تنازع کھڑا کر دیا ہے، جس کے تحت چہرہ ڈھانپ کر آنے والے گاہکوں، جن میں حجاب، نقاب یا برقع پہننے والے افراد بھی شامل ہیں، کو زیورات کی دکانوں میں داخلے سے روکا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: علی پور، نجی سکول کے مالک کا مکروہ چہرہ بے نقاب، ایک متاثرہ خاتون کے اہلخانہ کی مدعیت میں تھانہ سٹی میں مقدمہ درج
سیکیورٹی خدشات کا بہانہ
آل انڈیا جیولرز اینڈ گولڈ فیڈریشن (AIGJF) کے مطابق یہ فیصلہ سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر کیا گیا ہے۔ تنظیم نے اعلان کیا ہے کہ کوئی بھی گاہک، خواہ مرد ہو یا عورت، اگر اسکارف، برقع، نقاب یا ہیلمٹ کے ذریعے چہرہ ڈھانپے ہوئے ہو تو خریداری سے قبل اسے شناخت کے لیے اپنا چہرہ ظاہر کرنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں فیض کی مشہور نظم ’ہم دیکھیں گے‘ گانا ’بغاوت‘ قرار، ایک تقریب کے منتظمین کے خلاف مقدمہ درج۔
سیاسی جماعتوں کی تنقید
ادھر راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے ترجمان اعجاز احمد نے اس فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے غیر آئینی قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام سیکیورٹی کے نام پر مذہبی آزادی کو نشانہ بنا رہا ہے اور مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرتا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس فیصلے کے پیچھے بی جے پی اور آر ایس ایس کا ایجنڈا کارفرما ہے اور مطالبہ کیا کہ AIGJF فوری طور پر اس فیصلے کو واپس لے۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعرات) کا دن کیسا رہے گا؟
بہار میں نئی پابندیاں
بہار میں جیولرز فیڈریشن کے ریاستی صدر اشوک کمار ورما نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ بہار پہلا صوبہ ہے جہاں یہ اصول ریاست بھر میں نافذ کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق سونے اور چاندی کی بڑھتی قیمتوں اور حالیہ ڈکیتیوں کے واقعات کے بعد یہ قدم صرف سیکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر اٹھایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان حکومت نے 30 ہزار نوجوانوں کو بیرون ملک بھجوانے کے اقدامات کا آغاز کر دیا
ہر مذہب کے لئے یکساں قاعدے
اشوک کمار ورما کا کہنا تھا کہ یہ پابندی کسی خاص مذہب کے خلاف نہیں بلکہ مردوں اور عورتوں دونوں پر یکساں طور پر لاگو ہوگی۔ عملہ گاہکوں سے مؤدبانہ انداز میں تعاون کی درخواست کرے گا اور کسی قسم کی زبردستی نہیں کی جائے گی۔ پولیس نے بھی اس اقدام کی حمایت کی ہے۔
سیکیورٹی اور مذہبی آزادی کا توازن
یہ معاملہ بہار میں سیکیورٹی اور مذہبی آزادی کے درمیان توازن پر جاری بحث کو ایک بار پھر نمایاں کر رہا ہے، جبکہ سیاسی حلقوں میں اس پر ردِعمل کا سلسلہ جاری ہے۔








