مبینہ جعلی پولیس مقابلہ؛ سی ٹی ڈی افسران کیخلاف قتل کی دفعہ کے تحت مقدمہ درج کرنیکا حکم
راولپنڈی میں مبینہ جعلی پولیس مقابلے کا معاملہ
راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن) راولپنڈی میں مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے معاملے میں عدالت نے سی ٹی ڈی کے افسران کے خلاف قتل کی دفعہ کے تحت مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم نے پرائیویٹ حج آپریٹرز کے امور اور استعداد کا جائزہ لینے کے لیے راناثناءاللہ کی سربراہی میں 3رکنی کمیٹی قائم کر دی
عدالتی فیصلے کی جھلکیاں
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج صاحبزادہ نقیب شہزاد نے فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شہری کو گھر سے گرفتار کر کے قتل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے محکمہ خوراک ختم کر دیا
واقعے کی تفصیلات
تفصیلات کے مطابق تھانہ وارث خان کے علاقے سے نعیم عرف گڈو کو 30 نومبر کو اس کے گھر سے گرفتار کیا گیا، جسے بعد ازاں چکوال میں مبینہ پولیس مقابلے میں مار دیا گیا۔ مقتول کی بہن آسیہ بی بی کی جانب سے مقدمہ اندراج کی درخواست دائر کی گئی تھی، جس پر عدالت نے سماعت کے بعد اہم احکامات جاری کیے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں بھاری چالان سے پریشان موٹرسائیکل چلانے والوں کو خوشخبری سنا دی گئی
عدالت کے ریمارکس
عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ کسی بھی جرم میں سزا و جزا کا اختیار عدالتوں کو حاصل ہے اور قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت کسی کو نہیں دی جا سکتی۔
یہ بھی پڑھیں: بھرتیوں کا سارا ریکارڈ جمع کرائیں، پتہ چلے کس نے انٹرویو کیا، کس کا رشتے دار بھرتی ہوا؛سپریم کورٹ کے کیس میں ریمارکس
سی سی ٹی وی فوٹیج کی بنیاد پر کارروائی
عدالت نے قرار دیا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج سے واضح ہوتا ہے کہ ملزم کو گھر سے اغوا کیا گیا۔ فوٹیج میں پولیس اہلکار خطرناک اسلحہ پکڑے دکھائی دیتے ہیں۔ عدالت نے حکم دیا کہ سی ٹی ڈی کے تمام ذمہ دار افسران اور اہلکاروں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: شہباز شریف اور امریکی صدر کی ملاقات آج ہو گی، وائٹ ہاؤس نے تصدیق کر دی
ملزمان کے نامزدگی کا حکم
عدالتی حکم کے مطابق انسپکٹر شفقت، انسپکٹر محسن شاہ، انسپکٹر سردار عاصم کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے جبکہ کانسٹیبلان ملک عابد، عدنان، علی شاہ اور بلال شاہ کے خلاف بھی مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ عدالت نے یہ بھی ہدایت کی کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والے تمام پولیس افسران اور اہلکاروں کو مقدمے میں نامزد کیا جائے۔
ایس ایچ او کو ہدایت
ایڈیشنل سیشن جج نے ایس ایچ او تھانہ وارث خان کو حکم دیا کہ ملزم کی گرفتاری سے متعلق فوٹیج کی بنیاد پر مقدمہ درج کیا جائے اور مقتول کی بہن آسیہ بی بی کا بیان بھی ریکارڈ کیا جائے۔








