لاہور ہائی کورٹ میں تعینات سیکیورٹی اہلکاروں کے دورانِ ڈیوٹی موبائل استعمال پر پابندی
سیکیورٹی انتظامات کی بہتری
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مس عالیہ نیلم کے حکم پر لاہور ہائیکورٹ میں سیکیورٹی انتظامات انتہائی سخت کردئیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس، عدالت نے 14 صفحات اور 79 سوالوں پر مشتمل سوال نامہ بانی پی ٹی آئی کو فراہم کر دیا
اہکامات کی عملداری
نجی ٹی وی چینل ’’دنیا نیوز‘‘ کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں سیکیورٹی انتظامات کو فول پروف بنانے کے لیے چیف جسٹس مس عالیہ نیلم کے احکامات پر عمل درآمد شروع کردیا گیا ہے جبکہ ایس پی سیکیورٹی نے لاہور ہائیکورٹ میں تعینات اہلکاروں کے دوران ڈیوٹی موبائل فونز کے استعمال پر پابندی لگادی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ریکارڈ کے مطابق رات 10بجے نور مقدم کا قتل ہوا، ساڑھے 11بجے مقدمہ درج ہوا، پوسٹ مارٹم کے مطابق نور مقدم کا انتقال رات 12بج کر 10منٹ پر ہوا، وکیل سلمان صفدر کے دلائل
موبائل فونز کا استعمال
ایس پی سیکیورٹی کے مطابق ڈیوٹی کے دوران اہلکار اپنے موبائل فونز متعلقہ آفسر کو جمع کروائیں گے، دوران ڈیوٹی اہلکاروں کی جانب سے ٹک ٹاکر سمیت سوشل میڈیا ایپس استعمال کرنے کے باعث سیکیورٹی میں غفلت کے واقعات پیش آئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ویوو کا بڑا اعلان، vivo V70 5G کے لیے عاطف اسلم دوبارہ برانڈ ایمبیسیڈر منتخب
داخلے کے نئے احکامات
چیف جسٹس مس عالیہ نیلم کے حکم پر لاہور ہائیکورٹ میں داخل ہونے والی ہر گاڑی کی مکمل سر چنگ کے احکامات جاری کردئیے گئے ہیں اس حوالے سے لاہور ہائیکورٹ میں داخل ہونے والے ہر شخص کی مکمل جامع تلاشی لی جائے گی، اس معاملہ پر وکلاء نے بھی سیکیورٹی اہلکاروں سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروادی ہے۔
پولیس کی موجودگی
مزید برآں لاہور ہائیکورٹ کے مرکزی گیٹ سمیت دیگر داخلہ راستوں پر پولیس کی اضافی نفری بھی تعینات کردی گئی ہے۔








