لاہور ہائی کورٹ میں تعینات سیکیورٹی اہلکاروں کے دورانِ ڈیوٹی موبائل استعمال پر پابندی
سیکیورٹی انتظامات کی بہتری
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مس عالیہ نیلم کے حکم پر لاہور ہائیکورٹ میں سیکیورٹی انتظامات انتہائی سخت کردئیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: سزا سننے کے بعد بانی پی ٹی آئی نے کیا ہدایات کی ہیں۔؟ بیرسٹر سلمان صفدر نے میڈیا کو بتا دیا
اہکامات کی عملداری
نجی ٹی وی چینل ’’دنیا نیوز‘‘ کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں سیکیورٹی انتظامات کو فول پروف بنانے کے لیے چیف جسٹس مس عالیہ نیلم کے احکامات پر عمل درآمد شروع کردیا گیا ہے جبکہ ایس پی سیکیورٹی نے لاہور ہائیکورٹ میں تعینات اہلکاروں کے دوران ڈیوٹی موبائل فونز کے استعمال پر پابندی لگادی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بیرونی مفادات، تیل کے کنویں اور آمرانہ حکومت: شام کی خانہ جنگی کے خاتمے میں مشکلات کیا ہیں؟
موبائل فونز کا استعمال
ایس پی سیکیورٹی کے مطابق ڈیوٹی کے دوران اہلکار اپنے موبائل فونز متعلقہ آفسر کو جمع کروائیں گے، دوران ڈیوٹی اہلکاروں کی جانب سے ٹک ٹاکر سمیت سوشل میڈیا ایپس استعمال کرنے کے باعث سیکیورٹی میں غفلت کے واقعات پیش آئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: شام میں اسد خاندان کے 50 سالہ دور کا ایک ہفتے میں خاتمہ: مستقبل میں کیا ہوگا؟
داخلے کے نئے احکامات
چیف جسٹس مس عالیہ نیلم کے حکم پر لاہور ہائیکورٹ میں داخل ہونے والی ہر گاڑی کی مکمل سر چنگ کے احکامات جاری کردئیے گئے ہیں اس حوالے سے لاہور ہائیکورٹ میں داخل ہونے والے ہر شخص کی مکمل جامع تلاشی لی جائے گی، اس معاملہ پر وکلاء نے بھی سیکیورٹی اہلکاروں سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروادی ہے۔
پولیس کی موجودگی
مزید برآں لاہور ہائیکورٹ کے مرکزی گیٹ سمیت دیگر داخلہ راستوں پر پولیس کی اضافی نفری بھی تعینات کردی گئی ہے۔








