جولائی تا دسمبر 2025 : تنخواہ داروں نے کتنا انکم ٹیکس ادا کیا ۔۔؟ تفصیلات سامنے آگئیں
تنخواہ داروں کا انکم ٹیکس: جولائی تا دسمبر 2025
اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) جولائی تا دسمبر 2025: تنخواہ داروں نے کتنا انکم ٹیکس ادا کیا؟ اس حوالے سے اہم تفصیلات سامنے آئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: معرکہ حق میں کامیابی ٹیم ورک سے ملی مگر ہدایات نوازشریف کی تھیں، سپیکر سردار ایاز صادق
ایف بی آر کی رپورٹ
’’جنگ‘‘ کے مطابق ایف بی آر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ گذشتہ برس جولائی تا دسمبر تنخواہ داروں نے 266 ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا، انہوں نے مجموعی انکم ٹیکس کا تقریباً 10 فیصد ادا کیا۔ تنخواہ داروں کا ادا کیا گیا ٹیکس رئیل اسٹیٹ سیکٹر سے ادا کردہ ٹیکس سے دوگنا سے بھی زیادہ رہا۔ تنخواہ دار طبقے کا ٹیکس گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 23 ارب روپے یا 9 فیصد زیادہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کابل حکومت دہشت گردی کو بڑے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا چھوڑ دے، سینٹر عرفان صدیقی
تنخواہ دار طبقے کا ٹیکس بوجھ
ذرائع کے مطابق، تنخواہ دار طبقہ اپنی مجموعی آمدن کا تقریباً 38 فیصد ٹیکس کی صورت میں دیتا ہے۔ تنخواہ دار طبقے پر علاقائی ممالک کے مقابلے میں ٹیکس کا بوجھ سب سے زیادہ ہے۔ نان کارپوریٹ ملازمین نے سب سے زیادہ 117 ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا، یہ انکم ٹیکس گزشتہ سال کے مقابلے میں 14 فیصد زیادہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بیوی کے قتل کا الزام، لاہور ہائیکورٹ نے بیتے کی گواہی کو قبول کرتے ہوئے باپ کی عمر قید کیخلاف اپیل مسترد کر دی
کارپوریٹ سیکٹر اور صوبائی ملازمین
کارپوریٹ سیکٹر کے ملازمین نے 82 ارب روپے انکم ٹیکس دیا، جو سالانہ بنیاد پر 13 فیصد زیادہ ہے۔ صوبائی حکومتوں کے ملازمین نے 39 ارب روپے انکم ٹیکس دیا، جو پچھلے سال کے مقابلے 7 فیصد کم ہے۔
وفاقی حکومت اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر
ذرائع کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کے ملازمین نے 27 ارب روپے انکم ٹیکس کی مد میں جمع کروایا۔ پلاٹوں کی فروخت پر ودہولڈنگ ٹیکس دو تہائی اضافے سے 87 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ پلاٹوں کی خریداری پر ودہولڈنگ ٹیکس کی وصولی میں 29 فیصد کمی ہوئی، جو 39 ارب روپے رہی۔ جولائی تا دسمبر رئیل سٹیٹ سیکٹر سے 126 ارب روپے ودہولڈنگ ٹیکس کی مد میں وصول کیے گئے، یہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 17 فیصد زیادہ ہیں۔







