27ویں ترمیم میں صرف آئینی عدالت قائم کی گئی، اس پر میثاق جمہوریت میں بانی پی ٹی آئی سمیت تمام متفق تھے: اعظم نذیر تارڑ
آہنگ وفاق: 18ویں اور 27ویں ترمیم
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ 18ویں ترمیم نے وفاق کو مضبوط کیا ہے، اور توقع ہے کہ 27ویں ترمیم اس کو مزید مستحکم کرے گی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ 27ویں ترمیم میں صرف آئینی عدالت کا قیام عمل میں لایا گیا ہے، جس پر میثاق جمہوریت میں بانی پی ٹی آئی سمیت تمام فریقین متفق تھے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں نوجوان لڑکی اپنے ہی دیور کے ساتھ گھر سے بھاگ گئی لیکن کیوں؟ حیران کن وجہ سامنے آ گئی
کتاب کی تقریب رونمائی
وفاقی دارالحکومت میں کتاب کی تقریب رونمائی کے دوران اپنا بیان دیتے ہوئے، وزیر قانون نے کہا کہ موجودہ وقت میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کی 27ویں ترمیم سے متعلق رپورٹ پر بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ 27ویں ترمیم میں صرف آئینی عدالت کا قیام شامل ہے، اور اس پر تمام سیاسی جماعتیں متفق تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: موٹروے پولیس کی دھند کے موسم کیلئے ٹریول ایڈوائزری جاری
سپریم کورٹ میں نمائندگی
اخبار "جنگ" کے مطابق، اعظم نذیر تارڑ نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ میں یہ بات درست نہیں ہے کہ تمام صوبوں کی نمائندگی غائب ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے دعوے کہ سندھ یا پنجاب کے ججز نے مخصوص فیصلے کیے ہیں، کو غلط سمجھا جانا چاہیے۔ وفاقی آئینی عدالت میں ہر صوبے کی نمائندگی موجود ہوگی، اور وہاں کسی صوبے کے ججز نہیں ہوں گے۔
صحافتی ذمہداریاں
اعظم نذیر تارڑ نے بار سے مثبت تنقید کی ضرورت پر زور دیا اور صحافیوں اور یوٹیوب ویڈیوز بنانے والوں کو یہ یاد دلایا کہ انہیں آئین کی منشاء کا خیال رکھنا چاہیے۔








