روس جانے والے آئل ٹینکر پر ڈرون حملہ
بحیرہ اسود میں ڈرون حملہ
انقرہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) بحیرہ اسود میں روس کی جانب جانے والے ایک آئل ٹینکر پر ڈرون حملہ ہوا ہے، جس کے بعد جہاز نے ترک کوسٹ گارڈ سے مدد طلب کی اور اپنا راستہ تبدیل کر لیا۔ یہ بات خبر ایجنسی روئٹرز کو لائیڈز لسٹ انٹیلی جنس کی رپورٹ اور ایک علیحدہ میری ٹائم سکیورٹی ذریعے نے بتائی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاراچنار سے پشاور جانیوالی مسافر گاڑیوں پر فائرنگ ،خاتون سمیت 11افراد جاں بحق
آئل ٹینکر پر حملہ
لائیڈز لسٹ انٹیلی جنس کے مطابق پالاؤ کے پرچم تلے چلنے والے آئل ٹینکر البس (Elbus) کو بغیر عملے والی سمندری گاڑی اور ڈرون کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، جس میں جہاز کے انجن روم کو ہدف بنایا گیا۔ رپورٹ کے مطابق جہاز پر سوار 25 رکنی عملے میں کوئی زخمی نہیں ہوا اور نہ ہی کسی قسم کی تیل کی آلودگی سامنے آئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں 13 جون تک ہیٹ ویو اور گرمی کی لہر برقرار رہنے کا امکان
حملے کے پس پردہ حقائق
سکیورٹی ذریعے نے بھی اس واقعے کو ڈرون حملہ قرار دیا ہے، تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ حملہ کس نے کیا یا اس کے پیچھے کون تھا۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں سوٹ کیس سے لاش برآمدگی کیس میں اہم پیش رفت،متوفی کی شناخت ہوگئی
ماضی کے واقعات اور اثرات
گزشتہ نومبر کے آخر میں بحیرہ اسود میں یوکرینی بحری ڈرونز کے ذریعے روس جانے والے دو آئل ٹینکروں پر حملوں کے بعد شپنگ انشورنس کی شرحوں میں اضافہ ہوا تھا۔ ان واقعات کے بعد ماسکو نے جوابی کارروائی کی دھمکی دی تھی جبکہ ترکی نے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی تھی۔ دسمبر کے آغاز میں ایک روسی پرچم بردار جہاز نے بھی حملے کا دعویٰ کیا تھا، تاہم کیف نے اس واقعے میں کسی بھی قسم کے کردار کی تردید کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا 25 دہشت گردوں کی ہلاکت پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین
سرکاری اداروں کی خاموشی
یوکرین کی سکیورٹی سروس سے البس پر ہونے والے حالیہ حملے کے حوالے سے رابطہ کیا گیا، تاہم کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ اسی طرح ترکی کی وزارتِ ٹرانسپورٹ اور انقرہ میں روسی سفارتخانے کی جانب سے بھی فوری طور پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
یہ بھی پڑھیں: نیا دن نیا ریکارڈ! سٹاک مارکیٹ ایک لاکھ 89 ہزار پوائنٹس کی حد عبور کر گئی
بحیرہ اسود کی اہمیت
بحیرہ اسود اناج، تیل اور تیل سے بنی مصنوعات کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمندری راستہ ہے، جس کے پانی ترکی، روس، یوکرین، بلغاریہ، جارجیا اور رومانیہ کے درمیان مشترک ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پانی جھنگ چنیوٹ روڈ پر آگیا، ریواز برج کے قریب دھماکا کر کے شگاف لگادیا گیا
جہاز کا موجودہ مقام
لائیڈز لسٹ کے مطابق البس جہاز بدھ کے روز سنگاپور سے روسی بندرگاہ نووروسیسک کی جانب روانہ تھا۔ میرین ٹریفک کے ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ راستہ تبدیل کرنے کے بعد یہ جہاز جمعرات کو شمالی ترکی کے ساحلی شہر اینیبولو کے قریب چند کلومیٹر کے فاصلے پر رک گیا اور اپنی ہی طاقت کے تحت اینکرج میں لنگر انداز ہوا۔
بندرگاہ حکام سے رابطہ
اینبیولو بندرگاہ کے حکام سے رابطے کی کوشش کی گئی، تاہم ان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔








